در فن تعمیر مردان آزاد
English title: On the Architecture of Free Men
Published English translations cover only part of this poem.
Published Urdu translations cover some, but not all, Persian verses in this poem.
Seek for a while the company of the ancients, | Have a look at the art of free people.
ایک لمحہ عہدِ ماضی کے لوگوں کے درمیان گزار کر اپنے اسلاف کی زندگی اور کارناموں پر غور کر اور ان آزاد مردوں کی کاریگری کو دیکھ ۔
Arise and see the work of Aibak and Suri; | Open your eyes, if you have the heart to see.
اٹھ اور قطب الدین ایبک اور شیر شاہ سوری (شاہانِ ہند) کے کارناموں پر نظر کر، اگر تو حوصلہ رکھتا ہے ۔
They displayed their inner selves before the people, | And thus saw themselves through the eyes of others.
انھوں نے ان عمارات کی تعمیر میں خود کو اجاگر کیا ہے ۔ اس طرح انھوں نے اپنا آپ تماشا کیا ۔
By raising a structure of stones | They captured eternity in a moment.
انھوں نے پتھروں کو پتھروں کے ساتھ پیوست کیا ہے ۔ انھوں نے زمانے کو ایک آن میں بند کر دیا ہے ۔ یعنی ایسی عمارتیں تعمیر کی ہیں کہ ان پر زمانے کے گزرنے کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
Looking on it makes you mature, | And transports you to another world.
ان عمارتوں کو دیکھنا تجھے زیادہ پائیدار بناتا ہے اور تمہیں ایک اور ہی جہان میں لا پھینکتا ہے ۔
A symbol leads you to its creator | And lets you peep into his innermost heart.
نقش تجھ کو نقش گر کی طرف لے جاتا ہے اوراس نقش گر کے ضمیر کی خبر دیتا ہے ۔
A spirit of manly adventure and noble nature | Are the two precious jewels in the heart of the stone
مردانہ ہمت اور بلند سرشت یا فطرت پتھر کے دل کے یہ دو مبارک ہیرے ہیں ۔
Don't ask me: Whose prayer-ground is this? | O you ignorant! body cannot reveal the experiences of the soul.
یہ یعنی آدمی کی روح کس کی سجدہ گاہ ہے مجھ سے مت پوچھ (اس کو تو فرشتوں نے سجدہ کیا تھا ۔ آدمی تو مسجود ملاءک ہے) اے بے خبر جان کی کہانی بدن سے نہ پوچھ ۔
Woe me! I am hidden from myself, | And have not tasted water from the river of life.
مجھ پر افسوس ہے کہ میں خود اپنے آپ سے پردہ میں ہوں ۔ اپنی صلاحیتوں سے بے خبر ہوں ۔ مجھے اپنی معرفت نہیں ۔ میں اپنی خودی سے نا آشنا ہوں ۔ میں نے تو اپنی زندگی کے دریائے فرات سے پانی ہی نہیں پیا ۔ یعنی مجھے حقیقت حیات کا کچھ علم نہیں ۔
Woe me! I regret digging (demolishing) my foundations; and I have fallen away from my (distinguished) position.
افسوس ہے مجھ پر جس نے خود کو بنیاد اور جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہوا ہے ۔ جو اپنے مقام سے دور گر پڑا ہے ۔ جس کو اپنی اصلیت کا کچھ علم نہیں ۔
Stability arises from deep faith, | Woe me! the branch of my faith is sapless,
مضبوطیاں تو مضبوط یقین سے پیدا ہوتی ہے ۔ مجھے اپنے آپ پر افسوس ہے کہ میرے یقین کی شاخ بے نم ہے ۔
Just cast a glance on that pure jewel - | Look at the Taj in the moonlight.
ایک نظر اس خالص موتی کو دیکھ، تاج محل کو چاند کی چاندنی میں دیکھ ۔ (اسے شہنشاہ ہند شہجہان نے بنوایا ہے) ۔
Its marble ripples faster than flowing waters, | A moment spent here is more stable than eternity.
اس کے سفید پتھر بہتے ہوئے پانی سے زیادہ رواں ہیں یعنی شفاف ہیں ۔ وہاں کا ایک دم ابد سے بھی زیادہ پائندہ ہے ۔ یعنی اس کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ ایک وقت میں بنائی جانے والی عمارت کو کس طرح ہمہ وقت کے لیے مضبوط اور پائندہ بنایا جا سکتا ہے ۔
Love of men has expressed its secret, | And perforated the stone by their eyelashes.
مردوں کے عشق نے اپنے رازوں کو خود فاش کیا ہے اور پتھروں کو اپنی پلکوں کی نوک سے پرویا ہے یعنی انہیں جب عشق کی طاقت کا علم ہوا تو انھوں نے اس عشق کی بدولت فن تعمیر کے زندہ و پائندہ شاہکار پیدا کئے ۔
Love of men is pure and charming like a paradise, | It produces songs from brick and stone.
مردوں کا عشق بہشت کی طرح پاک اور رنگین ہے ۔ وہ پتھروں اور اینٹوں سے نغمے پیدا کرتا ہے ۔ (ان کی عمارتوں میں ان کے عشق کی داستان چھپی ہوئی ہے ۔ کیونکہ خون جگر دیے بغیر تاج محل یا مسجد قرطبہ یا الحمرا کی عمارتیں تعمیر نہیں کی جاسکتیں ۔ یہ عمارتیں بہ زبان جو اپنے تعمیر کنندوں کے عشق کی اور ان کے خون جگر کی داستانیں بیان کر رہی ہیں ۔
Love of men is the criterion of beauty; | It unveils beauty and sanctifies it too.
مردوں کا عشق حسینوں کی نقدی کی کسوٹی ہے ۔ وہ حسن کا پردہ پھاڑنے والا اور حسن کا پردہ رکھنے والا ہے ۔
His aspirations soar beyond the sky, | And go away from this world of quantity.
ایسے عشق کی ہمت آسمانوں سے اس طرف گزر گئی ۔ وہ اسباب کے جہان سے باہر نکل گئی، مردوں کا عشق اتنا باہمت ہوتا ہے کہ وہ زمان و مکان کو عبور کر کے محیر العقول کارنامے دکھاتا ہے اور یہ کارنامے زمانے کے ہاتھوں سے مٹ نہیں سکتے ۔
As what he sees cannot be expressed in words, | He whisks away veil from his heart.
جو کچھ عشق نے دیکھا ہے چونکہ وہ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا اس لیے عشق نے اپنے ضمیر سے خود نقاب اٹھا دی یعنی اس نے ایسا عمل کیا جس سے پتہ چل گیا کہ ا س کی صلاحیت اور قوت کیا ہے ۔
Through love passions are elevated, | The worthless gain value through it.
محبت سے جذبے بلند ہوتے ہیں ۔ بے قیمت چیزیں اس سے قیمت اور بے قدر و منزلت اشیاء اس سے قدرومنزلت والی بنتی ہیں ۔
Without love life is all a-wailing | Its whole affair becomes corrupt and unstable.
محبت کے بغیر زندگی ساری ماتم ہے ۔ اس کا کاروبار بدنما اور ناپائیدار ہے ۔
Love polishes one's common sense, | And imparts the quality of mirror to the stone.
عشق آدمی کے ارادے اور عقل کو سان پر لگاتا ہے یعنی ان میں آب و تاب پیدا کرتا ہے ۔ عشق پتھر کو آئینہ میں تبدیل کر دیتا ہے ۔
True Love turns the heart into Mount Sinai; it gives brightness to the hand of the artist (like that Mose's hand; he starts performing miracles).
عشق اہل دل کو وادی سینا کا سا سینہ عطا کرتا ہے یعنی ایسا سینہ عطا کرتا ہے جس میں تجلیات خدا کا ظہور ہوتا ہے ۔ عشق ہنرمندوں کو ید بیضا بخشتا ہے ۔ عشق کی وجہ سے اہل ہنر ایسے کارنامے دکھاتے ہیں جو معجزاتی جوہر رکھتے ہیں ۔
Beside him, all possibilities and existences are nothing | All the world is bitter; it alone is sweet honey.
عشق کے سامنے ہر ممکن اور ہر موجود یعنی کائنات اور اس کی ہر شے مات ہے ۔ سارا جہان اگر تلخ ہے تو عشق مصری کی ڈلی ہے یعنی اگر عشق نہ ہوتا تو ساری کائنات بے مزہ ہوتی ، جہان میں جتنی بھی دلکشی، دلفریبی اور دل لگی ہے یہ ساری عشق ہی کی وجہ سے ہے ۔
To its fire is due the vigour of our thought | To create and to infuse soul is its work.
ہمارے افکار میں گرمی اس کی آگ کی وجہ سے ہے ۔ پیدا کرنا یا جان کو ظاہر کرنا اس کا کام ہے ۔ (پیدا کر کے جان میں تخلیقی قوت پیدا کرنا یہ عشق ہی کا کام ہے) ۔
Love suffices men, animals, and insects, | "Love alone suffices the two worlds."
عشق ہر مخلوق کے لیے کافی ہے ۔ چیونٹی ، پرندہ ، آدم کوئی ہو عشق اسکے وجود کے لیے ضروری ہے ۔ عشق اکیلا ہر دو جہان کے لیے کافی ہے ۔ یعنی دونوں جہانوں کے مقاصد صرف عشق کی بدولت بروئے کار آتے ہیں ۔ عشق نہ ہو تو ہر شے تصوراتی ہو کر رہ جائے ۔
Love without power is magic, | Love with power is prophecy.
دلبری قاہری کے بغیر جادوگری ہے ۔ دلبری، قاہری کے ساتھ پیغمبری ہے ۔ یعنی صرف حسن ہو لیکن اس میں اپنی حفاظت کے لیے قوت نہ ہو تو وہ حسن دلفریبی کے لیے تو کافی ہو سکتا ہے لیکن صحیح معنوں میں حسن نہیں ہو سکتا ۔
Love combined both in its manifestations, | Love thus created a world out of a world.
عشق نے دونوں کو یعنی دلبری اور قاہری کو کاموں میں ملا رکھا ہے ۔ عشق نے ایک عالم کے اندر ایک اور عالم برپا کر رکھا ہے ۔ یعنی جمال میں جلال اور جلال میں جمال کی کیفیات پیدا کر رکھی ہیں ۔ ان دونوں کے امتزاج سے ہی صحیح دنیا وجود میں رہ سکتی ہے ۔ ان دونوں کے ہونے سے ہی نئے نئے جہانوں کی چاہے وہ علوم و فنون کے جہان کیوں نہ ہوں صحیح تعمیر ہو سکتی ہے ۔
Sources and translator credits
- Original text transcription: Zabur-e-Ajam — در فن تعمیر مردان آزاد — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Zabur-e-Ajam — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- Persian Psalms: English translations in the digital anthology excerpt — Recovered Persian poetry anthology PDF excerpt; publication title and year are not established by the preserved source packet (zabur-english.pdf, 54 PDF pages).Translation by Bashir Ahmad Dar; Passages are individually credited in the recovered PDF as “Translated by Bashir Ahmad Dar”; exact source and credit PDF page locators are stored with each imported passage.Source
- zabur-e-ajam: published English translation by بشیر احمد — Published digital poem page (iokxybks.json); retrieved 2026-10-05.Translation by بشیر احمد; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- zabur-e-ajam: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (iokxybks.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
