کہ شد بر سر وحدت واقف آخر؟
English title: Question 9
سؤال نہم
Who at last became familiar with the secret of unity | Who is the wise man that is a gnostic?
وحدت کے بھید سے آخر کون واقف ہوا ہے ۔ عارف کو آخر کس چیز کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔
جواب
The world beneath the sky is a charming place, | But its sun and moon are prone to decay.
آسمان کے نیچے جو دنیا آباد ہے بڑی دلکش ہے لیکن اس کا سورج اور چاند جلد ہی فنا ہو جانے والا ہے ۔
The corpse of the sun is carried on the shoulders of the evening, | The stars vanish when the moon appears.
شام کے کندھوں پر سورج کی نعش پائی جاتی ہے ۔ صبح کا طلوع شدہ سورج شام کے وقت ڈوب جاتا ہے اور ستارے چاند کا کفن پہن لیتے ہیں چاند طلوع ہوتے ہی ستارون کی روشنی مدھم پڑ جاتی ہے ۔
The mountain flies like the moving sand, | The river changes in a moment.
پہاڑ ریت کی طرح اڑتے ہیں دریا ایک لمحے میں تبدیلی کے عمل سے گزر جاتا ہے ۔
Autumn lies in ambush against. the flowers, | The merchandise of the caravan is the fear (of loss) of life.
خزاں کی ہوا گلاب کے پھولوں کی تاک میں ہے ۔ کارواں کی دولت، جان کا خوف ہے ۔ اہل کارواں راہزنوں کے ڈر سے کانپ رہے ہیں ۔
The tulip does not retain its beauty through dew, | If it retains it for a while, it loses it the next moment.
لالہ کے پھول پر شبنم کا موتی نہیں ٹکتا ۔ ایک وقت یہ موتی ہوتا ہے اور ایک وقت نہیں ہوتا ۔
The sound dies in the harp without being produced, | The flame dies in the stone without manifesting itself.
یہ سنی جانے والی آواز رباب کے ساز ہی میں مرجاتی ہے ۔ اور پتھر سے نہ نکلنے والا شرارہ پتھر کے اندر ہی مر جاتا ہے ۔
Don't ask me about the universality of death, | You and I are tied by our breaths to the chain of death.
مجھ سے موت کی عالمگیریت کے بارے میں مت پوچھ میں اور تو سانس کے اعتبارسے موت کی زنجیر میں جکڑے ہوئے ہیں ۔ خلاصہ اس جہان کی ہر شے خوبصورت تو ہے لیکن فنا ہو جانے والی ہے ۔
Death is destined to be the wine of every cup, | How ruthlessly has it been made common!
کارکنانِ قضا و قدر نے فنا کو ہر پیالے کی شراب بنا دیا ہے اور اسے فنا کو کس رحمی سے عام کیا ہے ۔
The arena of sudden death | Has been called the world of moon and stars.
اس جہانِ ناگہانی اچانک مرگ کی تماشا گاہ کو انہوں نے چاند اور ستاروں کا جہان بنا دیا ہے ۔ (یہ جہان فانی ہے پھر بھی ہم سے دلکشی کا مرکز بنائے ہوئے ہیں ) ۔
If any particle of it learnt to fly, | It was brought under control by the spell of sight.
اگر اس جہان کے ایک ذرے نے بھی اس سے دور ہونا سیکھا تو انھوں نے جہان کی دلفریبیوں اور دلکشیوں نے اسے پھر اپنے جادو میں گرفتار کر لیا ۔
Why do you seek rest for us? | We are Tied to the revolutions of the days.
تو ہم سے ہمارے دوانی یا مستقل ہونے کی تلاش کیوں کرتا ہے کیونکہ ہمیں تو گردشِ ایام نے اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے ۔ (چونکہ اس زمانے کو قرار نہیں وہ تغیر و تبدل سے گزرتا رہتا ہے اس لیے ہم بھی اس عمل سے گزرتے رہتے ہیں ) ۔
Be careful of the ego within your heart, | From this star, the night was illumined.
اس جہان کی ہر شے فنا ہونے والی ہے ۔ لیکن تو خودی کی معرفت حاصل کر کے اسے اپنے عشق بھرے سینے میں حفاظت سے رکھ ۔ کیونکہ یہی وہ ستارہ ہے جس سے شام روشن کی گئی ہے ۔
The world is absolutely a place of decay, | This is the gnosis in this strange land.
جہان بہر طور فنا ہونے والا باطل ہے ۔ اس غربت سرا (جہاں ) میں جہاں انسان مسافر کی طرح آتا ہے ۔ اور پھر اپنے اصلی وطن کو لوٹ جاتا ہے معرفت تو یہی کہ وہ مسافر اس جہان کو باطل سمجھے ۔
Our heart is not seeking anything futile, | Our lot is not fruitless grief.
ہمارا دل کسی باطل کی تلاش میں نہیں ہے ۔ ہمارے مقدر میں ایسا کوئی غم نہیں ہے جس کا کوئی حاصل نہ ہو ۔
Desire is looked after here, | And also the intoxication of the yearning of search.
اس جہان میں آرزو پر نظر رکھتے ہیں ۔ اس جگہ سرور و کیف، ذوق و شوق اور جستجوئے درست کو نگاہ میں رکھا جاتا ہے ۔
Ego can be made immortal; | Separation can be changed into union.
خودی کو لازوال کیا جا سکتا ہے اور فراق کو وصال کیا جا سکتا ہے ۔
A lamp can be lit by our hot breath, | Crack in the sky can be sewn by a needle.
گرم سانس سے چراغ جلایا جا سکتا ہے ۔ جب عشق سے خودی لازوال ہو جائے تو سوئی سے آسمان کا چاک سینہ سیا جا سکتا ہے ۔ خودی کی معرفت کے بعد ہر ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے ۔ خلاصہ باطل اور مٹنے والی جان کا عرفان یہی ہے کہ آرزو کو زندہ رکھا جائے اور جہاں کی تسخیر کے لیے ذوق و شوق اور جستجو سے خودی کو لازوال بنایا جائے ۔
The Living God is not without a taste for beauty, | His manifestations are not without society.
زندہ خدا گفتگو کے ذوق کے بغیر نہیں یہی وجہ ہے کہ اس نے انسان کو بات کرنا سکھایا تا کہ اس سے ہمکلام ہو سکے اور اگر انجمن نہ ہوتی تو اس کے حسن کے جلوے بیکار جاتے ۔
Who cast the lightning of His Grace on the heart? | Who drank that wine and struck the cup on the head?
اس کے حسن کے جلوے کی بجلی کو کس نے جگر پر گرایاکس نے اس کی محبت کی شراب پی کر پیالے کو سر پر مار کر اسے توڑ دیا ۔ اس کی محبت کی شراب پینے کے بعد کسی اور شراب کی تمنا باقی نہ رہی ۔
Whose heart is the criterion of beauty and good? | Whose house is it round which His moon revolves?
حسن اور خوبی کا معیار کس کے دل کی وجہ سے ہےاور اس کا چاند کس کی منزل کے طواف میں رواں دواں ہے ۔
From whose privacy the cry of "Am I not your Lord" arose? | From whose musical strings the answer of "Yes" appeared?
الست بربکم (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ) کا سوال کس کی اداؤں کی خلوت سے بلند ہوا اور اس سوال کے جواب میں بلیٰ (ہاں ) کا جواب کس کے ساز کے پردہ یعنی سر سے نکلا (کس نے کہا ہاں تو میرا رب ہے) ۔
What a fire Love kindled in this handful of dust | One cry from us burnt down thousands of veils.
عشق نے آدم کے جسم خاکی میں یہ کونسی آگ جلائی ہے ۔ کہ ہماری آواز نے ہزاروں پردے جلا دیئے ۔ اور اس حسن کے جلووں کا تماشا کر لیا ۔
It is only our presence that keeps the cup of the Saki in motion and maintain liveliness in His society.
ہماری وجہ سے ساقی کا جام گردش میں ہے ہماری وجہ سے اس کی محفل میں رونق ہے ۔
My heart burns on the loneliness of God! In order, therefore, to maintain intact His Ego-Society.
میرا دل اس کی تنہائی پر جل اٹھا ۔ اس لیے میں اس کے لیے بزم سجانے کا کام کر رہا ہوں ۔
I sow in my dust the seed of selfhood, and keep a constant vigil over my ‘I’.
میں اپنی زندگی کی کھیتی میں خودی کو دانے کی طرح کاشت کر رہا ہوں ۔ میں اس کے لیے خودی کی حفاظت کر رہا ہوں ۔ اس کی معرفت حاصل کر رہا ہوں کیونکہ خودی کی پہچان ہی خدا کی معرفت ہے ۔ خلاصہ اس بند میں اللہ اور اسکے بندے کے درمیان وہ عہدِ محبت ہے جو بندے نے بلیٰ کہہ الست بربکم کی تصدیق کے وقت کیا تھا ۔
Sources and translator credits
- Original text transcription: Zabur-e-Ajam — کہ شد بر سر وحدت واقف آخر؟ — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Zabur-e-Ajam — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- Persian Psalms: English translations in the digital anthology excerpt — Recovered Persian poetry anthology PDF excerpt; publication title and year are not established by the preserved source packet (zabur-english.pdf, 54 PDF pages).Translation by Bashir Ahmad Dar; Passages are individually credited in the recovered PDF as “Translated by Bashir Ahmad Dar”; exact source and credit PDF page locators are stored with each imported passage.Source
- zabur-e-ajam: published English translation by بشیر احمد — Published digital poem page (xw80six8.json); retrieved 2026-10-05.Translation by بشیر احمد; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- zabur-e-ajam: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (xw80six8.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
