کہ من باشم مرا از من خبر کن
English title: Question 5
سؤال پنجم
What am I? Tell me what "I" means. | What is the meaning of "travel into yourself"?
میں کون ہوں مجھے من کے ذریعے بتا کہ من کیا ہے اپنے اندر سفر کر کے کیا معنی ہیں
جواب
Ego is the amulet for the protection of the universe. | The first ray of its essence is Life.
خدا کی خودی اس کائنات کی حفاظت کا تعویذ ہے ۔ اور اس کی ذات کا پہلا عکس زندگی ہے ۔ خدا پہلی دفعہ تعین اول پر جلوہ فرما ہوا ۔ تاکہ اپنی ذات کا ظہور کر سکے اور اس نے اپنے ظہور کے لیے نورِ محمد ﷺ کو اپنا آئینہ بنایا ۔
Life awakens from its sweet dream, | Its inside, which is one, becomes many.
زندگی جب پرسکون خواب سے بیدار ہوئی تو اس کے اندر کی اکائی کثرت میں بدل گئی ۔
Neither it develops without our expansion, | Nor do we expand without its development.
اب نہ اس کا ہماری نمود کے بغیر کشود ہو سکتا ہے اور نہ اس کی کشود کے بغیر ہماری نمود ہو سکتی ہے (انائے مطلق اور انائے مقید دونوں ایک دوسرے کے لیے ضروری ہیں ) لیکن وہ خدا کسی کا محتاج نہیں ۔
Its inner core is a shoreless sea, | The heart of every drop is a tumultuous wave.
اس کا ضمیر ایک بحرِ بیکراں ہے ۔ اس سمندر کے ہر قطرہ کا دل ایک بے قرار موج کی مانند ہے ۔ قطرہ (انائے مقید ) بحر (انائے مطلق) سے الگ نہیں ہے ۔ کیونکہ ہر قطرے کا تعلق سمندر سے ہے اور ہر قطرے میں سمندر کی صفات بھی پائی جاتی ہیں ۔
It has no inclination to rest, | Its manifestation is nothing but individuals.
یہ (انائے مطلق) صبر و قرار کا حوصلہ نہیں رکھتی ۔ ہر وقت ظہور کے لیے بیتاب رہتی ہے ۔ اور یہ اقرار کے بغیر ظاہر بھی نہیں ہو سکتی ۔ یہ اکائی سے کثرت میں آ کر مختلف اشیاء میں جلوہ گر ہو جاتی ہے ۔ اس کو عارفین کثرت میں وحدت کہتے ہیں ۔
Life is fire and egos are like its flames; | Like stars they are (both) stationary and moving.
زندگی آگ ہے اور مختلف اشیاء کی خودی ہیں اور وہ شراروں چنگاریوں کی مانند ہیں ۔ زندگی ستاروں کی طرح ساکن ہے لیکن پھر بھی متحرک ہے ۔ جس طرح شرارے آگ سے الگ نہیں ہوتے اسی طرح صفات بھی ذات سے الگ نہیں ہو سکتی ۔
Without going outside, it looks towards others; | Though in company, is yet in privacy.
زندگی اپنے مقام پر ٹھہر کر دوسروں کو دیکھ رہی ہے ۔ انجمن میں ہوتے ہوئے وہ خلوت نشین ہے ۔ اگرچہ وہ جملہ اشیاء سے موجود ہے لیکن جملہ اشیاء سے الگ بھی ہے ۔
Just see its self- meditation, | It develops out of the trodden earth.
ایک دفعہ دیکھ کہ خود سے کس طرح لپٹی ہے ۔ اور وہ کس طرح پاؤں میں مسلی ہوئی مٹی سے باہر آئی (زندگی ہر وقت اپنی نمود کے لیے تیار رہتی ہے اور چھوٹی سے چھوٹی چیز میں بھی اپنے جلووں کا اظہار کر دیتی ہے ۔ اسے چیز سے غرض نہیں ہوتی اسے تو اپنے اظہار سے غرض ہوتی ہے ۔
Hidden from the eyes, it is in tumult, | It is constantly in search of adornment.
زندگی اگرچہ ہماری نگاہوں سے پوشیدہ ہے لیکن اس کا شور اور ہنگامہ ہر جگہ پایا جاتا ہے ۔ زندگی کو قرار نہیں ۔ یہ ہر لمحہ اپنے اظہار کے لیے رنگ و بو کی تلاش میں رہتی ہے ۔
It is in perpetual activity through its internal ardour, | As if it is at war with itself.
اپنے اندر سوز کی وجہ سے یہ تلاش و جستجو اور عمل میں مصروف رہتی ہے ۔ اس انداز سے جیسے کہ وہ خود بھی مصروف جنگ رہتی ہے ۔ یعنی اپنی نمود کی تگ و دو میں مصروف رہتی ہے ۔
The world gets order through this strife of the ego! | A handful of dust becomes translucent through strife.
اس دنیا کا نظام اسی جنگ کا نتیجہ ہے اور یہ مشت خاک (آدم) اس کی اس جنگ کے باعث آئینہ فام ہو جاتا ہے (آدم اسی تگ و دو کے باعث نور ہو جاتا ہے)
From its ray, nothing comes into being save egos, | From its sea, nothing appears save pearls.
اس آئینے کے عکس سے نور اور خودی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ اس کے دریا سے موتی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ (انائے مطلق پہلے زندگی میں ظہور کرتی ہے اور پھر س زندگی کے ذریعے جملہ اشیاء میں ظاہر ہوتی ہے) ۔
The earthly garb is a veil for Khudi, | Its appearance is like the rising of the sun.
خودی (آدم خاکی) کے جسم میں پہلے سے موجود ہوتی ہے ۔ اگر اس جسم خاکی کے پردہ کو کسی طرح ہٹا دیا جائے تو خودی سورج کی مانند جلوہ گر ہو گی ۔ ہر طرف اس آفتاب کی روشنی ہے ۔
In the innermost heart of ours is its sun, | Our dust is illumined through. its potency.
ہمارے سینے میں اس کا سورج روشن ہے ۔ ہماری مٹی میں تابناکی اسی جوہر کی وجہ سے ہے ۔
You ask to be informed about "I," and | What is meant by "travel into yourself."
تو مجھ سے یہ کہتا ہے کہ مجھے من کے بارے میں بتا کہ یہ کیا ہے تو مجھ سے پوچھتا ہے کہ اپنے اندر سفر کرنے کا کیا مطلب ہے
I informed you about the relation of body and soul travel into yourself and see what ‘I’ is.
میں تجھے جان اور تن میں ربط کے بارے میں بتاتا ہوں ۔ (اس ربط کے ادراک کے بعد اپنے اندر سفر اور دیکھ کہ من کیا ہے (تجھے معلوم ہو جائے گا کہ من انائے مطلق ہی کی تعیناتی صورت ہے) ۔
To travel into self: It is to be born without father and mother, to catch Pleiades from the edge of the roof;
خود میں سفر کرنا کیا ہے بغیر ماں باپ کے پیدا ہونا ، سفر درخویش ہے ۔ ثریا ، ستاروں کے جھرمٹ کو آسمان کی چھت سے پکڑ لینا ہے (اپنی حقیقت کو پا لینا ہی سفر در خویش ہے) اور اسی سے آدمِ خاکی مقامِ بلند حاصل کرتا ہے ۔
To hold eternity with a single stroke of anguish, | To see without the rays of the sun;
ایک دم سے فوری طور پر اضطراب کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دینا اور آفتاب کی شعاعوں کے بغیر تماشا کرنا (سورج کی روشنی نہ بھی ہو تو اپنے من کی روشنی سے کائنات کا مشاہدہ کرنا) ۔
To obliterate every sign of hope and fear, | To sunder the river like Moses,
ہر امید اور خوف کے نقش کو ہٹا دینا اور حضرت موسیٰ کی طرح دریا کو پھاڑ دینا ۔
To break this spell of sea and land, | To split the moon with a finger.
اس بحر و بر کے جادو کو توڑ دینا اور انگلی سے چاند میں شگاف ڈال دینا (ناممکن کو ممکن کر دکھانا) ۔
So to return from this experience of the spaceless world, | That it is within his heart, and the world in his hand.
اور اس خدا کے جہانِ لا مکان سے اس طرح واپس آنا کہ دل میں تو اس کا جلوہ ہو اور جہان ہتھیلی پر ہو ۔ سفر معراج کے دوران اللہ کے نبی نے جو مشاہدات کئے اور اللہ نے اپنے نبی سے جو باتیں کیں ان کے اسرار و رموز سے کوئی اور واقف نہیں ہے ۔ اس لیے دل میں خدا کا ہونا اور ہتھیلی پر جہان کا ہونا کیسے ہو ۔ یہ اللہ اور اس کے رسول ہی کو معلوم ہے ۔
But it is difficult to unravel this secret: | Here "seeing" is valuable and "describing" worthless.
لیکن یہ راز کھولنا بہت مشکل ہے ۔ یہ ایسا ہی ہے کہ شیشے کو دیکھنا اور کہنا کہ یہ تو سفال یعنی ٹھیکرا ہے ۔ حقیقت الفاظ سے بیان نہیں ہو سکتی ۔
What can I say about "I" and its brilliance? | It is manifest from the Qur'anic text, "We proposed."
میں من اور اس کی قوت اور تجلی کے بارے میں کیا بتاؤں (کیونکہ الفاظ میں اس کا اظہار مشکل ہے) لیکن اس بات کو آیت قرآنی ضرور بے نقاب کرتی ہے ۔ قرآن کی سورہ 33 کی آیت کہتی ہے ، ہم نے آسمانوں ، زمینوں اور پہاڑوں پر امانت پیش کی انھوں نے اٹھانے سے انکار کر دیا ۔ اس سے ڈر گئے لیکن آدمی نے اسے اٹھا لیا ۔ اس بار امانت کے بارے میں عارفان الہٰی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ۔
The heavens are in terror of its glory, | Time and space are in its grip.
اس من کی شان و شوکت سے آسمان کے جسم پر خوف طاری ہے ۔ زمان بھی اور مکان بھی اس کے پہلو میں ہے ۔ اس کے دائرہ کار میں ہیں ۔
It sought refuge in the heart of man, | And has fallen to the lot of this handful of dust.
اور اس کے آشیاں کی تعمیر کے لیے آدم کا دل بنیاد ہے اور وہ دل صرف آدم خاکی ہی کو نصیب ہوا ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے عشقِ الہٰی کا بوجھ اٹھا لیا ۔
It is distinct from the other and yet related to it, | Is lost within itself and yet conjoined with the other.
من غیر سے جدا بھی ہے اور غیر سے وابستہ بھی ہے ۔ یہ اپنے اندر گم بھی ہے اور غیر سے بھی تعلق رکھتا ہے ۔ ہر شے میں موجود بھی ہے اور ہر شے سے الگ بھی ہے ۔
What kind of aspiration this handful of dust has | That its flight is. beyond the limitations of time and space.
اس کفِ خاک میں خیال کیا چیز ہے کہ اس کی سیر زمان و مکان کی قید سے ماورا ہے ۔ جہاں چاہے جا سکتا ہے ۔
It is in prison and yet free! What is this? | It is the lasso, the prey, and the hunter! What is this
وہ قید خانے میں ہے اور آزاد بھی ہے ۔ آخر یہ کیا ہے وہی کمند بھی ہے وہی شکار بھی ہے اور وہی شکاری بھی ے ۔
There is a lamp within your heart; | What is this light which is in your mirror?
یہ تیرے دل میں ایک چراغ ہے ۔ یہ نور ہے جس کا عکس تیرے آئینے میں ہے ۔
Don’t be negligent; you are its trustee, what folly that you do not look within your self!
تو غفلت میں نہ پڑ کیونکہ تجھے یہ امانت دی گئی ہے تو کیسا نادان ہے کہ اپنی حقیقت کو نہیں پہچانتا ۔ خلاصہ مطلب: اس بند میں خودی کی من کی اور اپنے اندر سفر کی بات کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ وجودِ مطلق تعین میں آ کر جب قابل اشارہ ہو جاتا ہے تو اسے من کہتے ہیں خودی بھی اس کا دوسرا نام ہے ۔ اور اس کی پہچان اپنے اندر سفر کرنے سے ہوتی ہے اور اپنے اندر سفر ماں باپ کے بغیر دوبارہ پیدا ہوتا ہے ۔
Sources and translator credits
- Original text transcription: Zabur-e-Ajam — کہ من باشم مرا از من خبر کن — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Zabur-e-Ajam — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- Persian Psalms: English translations in the digital anthology excerpt — Recovered Persian poetry anthology PDF excerpt; publication title and year are not established by the preserved source packet (zabur-english.pdf, 54 PDF pages).Translation by Bashir Ahmad Dar; Passages are individually credited in the recovered PDF as “Translated by Bashir Ahmad Dar”; exact source and credit PDF page locators are stored with each imported passage.Source
- zabur-e-ajam: published English translation by بشیر احمد — Published digital poem page (xw80six8.json); retrieved 2026-10-05.Translation by بشیر احمد; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- zabur-e-ajam: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (xw80six8.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
