قدیم و محدث از ہم چون جدا شد
English title: Question 4
سؤال چہارم
How did the eternal and temporal separate, | That one became the world, and the other God?
یہ کیا ہوا کہ قدیم (خدا) اور محدث (غیر خدا) ایک دوسرے سے الگ ہو گئے کہ ان میں سے ایک تو جہان کہلایا اور دوسرا خدا ہو گیا ۔
If the knower and known are the One pure essence, | What are the aspirations of this handful of earth?
اگر عارف اور معروف وہی ذاتِ پاک ہی ہے تو پھر اس مشتِ خاک (آدمی) کے سر میں یہ کیا جنون سمایا ہوا ہے کہ خدا سے وصال کا طلب گار ہے ۔
جواب
The life of the ego is to bring non-ego into existence, | The separation of the knower and known is good.
خودی کی زندگی کا راز اسی میں ہے کہ وہ اپنے غیر کو تخلیق کرے ۔ کیونکہ خدا کی خودی نے بھی خود کو مشہور کرنے کے لیے اپنا غیر (انسان) پیدا کیا ۔ اس لیے عارف اور معروف میں یہ جو تفریق نظر آتی ہے اچھی بات ہے ۔ (عارف و معروف ایک اکائی سے دو ہونے کے سبب ایک دوسرے کے طالب ہو گئے ۔ چونکہ خودی کی زندگی کا راز غیر کی تخلیق کے بغیر ممکن نہیں ۔ اس عارف و معروف کا فرق اچھی بات ہے (یہی بات انائے مقید اور انائے مطلق پر صادق آتی ہے) ۔
Our ideas of eternal and temporal are due to our way of reckoning, | Our reckoning is the result of the spell of mathematical time.
ہمارے قدیم اور محدث گنتی کی بنیاد پر ہیں ۔ (قدیم کو ہم اپنے وجود میں اول شمار کرتے ہیں اور محدث کو دوم ۔ حالانکہ قدیم نے ہی محدث کو وجود دیا) اس لیے قدیم اور محدث میں فرق کے باوجود بھی وہ واحد ہیں ۔ ہماری گنتی تو زمانے کے جادو کی طرح ہے ۔ جس طرح جادو فریب ہے ۔ اسی طرح ہماری گنتی بھی فریب نظر ہے ۔
We constantly talk of yesterday and to-morrow, | We deal with "is," "was," and "might be."
ہم تو ہر دم گزرے ہوئے کل اور آنے والے کل کا شمار کرتے رہتے ہیں ۔ ہم تو ماضی حال اور مستقبل کے جھمیلوں میں پڑے رہتے ہیں اور قدیم و محدث کو زمانے کے شمار کے لحاظ سے اول اور دوم قرار دیتے ہیں ) ۔
To sever ourselves from Him is our nature, | And also to be restless and not to reach the goal.
خود کو اس سے الگ کرنا ہماری فطرت میں شامل ہے ۔ کیونکہ اس کے بغیر ہمارا اپنا وجود کہاں ہوتااب جبکہ ہم اس سے الگ ہو گئے ہیں تو اس کے حصول کی تڑپ ہمیں بے قرار رکھتی ہے ۔ یہ تڑپ اور اصل تک نہ پہنچنا ہی ہماری فطرت ہے (اس سے ہماری ہستی قائم ہے) ۔
Neither do we get worth in separation from Him, | Nor does He feel peace without union with us;
اب اصل صورتِ حال یہ ہے کہ نہ اس کے ہجر میں ہمارا کوئی مقام و مرتبہ ہے اور نہ اسے ہمارے وصال کے بغیر چین ہے ۔ (اسے اپنی صفات کی جلوہ گری کے لیے ہمارے وجود کی ضرورت ہے ۔ اور ہمیں اپنے وجود کی بقا کے لیے اس کی ضرورت ہے ۔ یہ وصال دونوں کے لیے ضروری ہے) ۔
Neither He without us, nor we without Him! How strange! | Our separation is separation-in-union.
نہ وہ ہمارے بغیر اور نہ ہم اس کے بغیر کوئی چیز ہیں ۔ آخر یہ معاملہ کیا ہے ہمارا فراق وصال کے اندر فراق ہے (ہم ایک دوسرے سے الگ بھی ہیں نہیں بھی ) اپنے مرتبہ کے لحاظ سے وہ خدا ہے اور ہم بندے ۔ دونوں جدا جدا ہیں ۔ لیکن صفات کی جلوہ گری کے لحاظ سے دونوں ایک ہیں ۔ ورنہ خدا اور بندے میں فرق واضح ہے ۔
Separation gives to this dust (i.e. man) an insight, | It gives the weight of a mountain to a straw.
جدائی مٹی میں نگاہ (معرفت آشنائی) پیدا کرتی ہے ۔ ایک تنکے کو پہاڑ کا سرمایہ عطا کرتی ہے (انائے مطلق کو اپنی جلوہ گری کے لیے اپنے غیر کی ضرورت تھی ۔ ایک ایسا آئینہ جس میں وہ اپنے حسن کا تماشا کر سکے) ۔
Separation is a token of love; | It agrees with the nature of lovers.
جدائی عشق کا آئینہ ہے ۔ ایسا آئینہ جس میں اس کا عکس پایا جاتا ہے ۔ جدائی عاشقوں کے لیے سازگار ہے ۔ (خدا معشوق اور غیر خدا جو کچھ بھی ہے وہ عاشق ہے ۔ عاشق اور معشوق دو الگ الگ وجود رکھنے کے باوجود انہی کے اصول کے مطابق ایک ہیں ۔ عاشق میں معشوق ہی کی جلوہ گری ہے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ معشوق کے حسن کا اپنا جلوہ ہے اور عاشق کا جلوہ معشوق کی اداؤں کے سبب ہے) ۔
If we are alive, it is due to this affliction (of separation), | And if we are immortal, it is due to it.
اگر ہم زندہ ہیں تو دردمندی کے باعث زندہ ہیں اگر ہم پائندہ ہیں تو بھی دردمندی کی وجہ سے ہیں ۔
What is "I" and "He"? It is a divine mystery | "I" and "He" are a witness to our immortality.
من اور او کیا ہیں ۔ یہ اللہ کے بھید ہیں ۔ من اور او ( میں اور وہ)ہماری ہمیشہ کی زندگی کی گواہی دے رہے ہیں (یہ اللہ کے اسرار ہیں انہیں اللہ والے ہی سمجھ سکتے ہیں کیونکہ وہ ان مقامات سے گزرے ہوئے ہوتے ہیں اس لیے یہ باتیں عقل و فکر کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں ۔
The light of the Essence is everywhere, hidden and apparent ; | To live in company is real life.
خلوت میں بھی اور جلوت میں بھی اسی ذات کا نور ہے ۔ زندگی انجمن میں ہونے کا نام ہے (اور انجمن ضرورت عشق ہے ۔ عشق حسن کا خریدار ہو گا تبھی اس کی قیمت لگے گی ۔ انائے مطلق (خدا) نے اسی لیے انائے مقید (اپنا غیر) پیدا کیا ہے ۔
Love does not acquire insight without company, | And without company, it does not become self-conscious.
محبت انجمن کے بغیر محوِ نظارہ نہیں ہوتی ۔ اور محبت انجمن کے بغیر اپنا تماشا کرنے والی بھی نہیں ۔
In our assembly, there are divine manifestations, behold! | The world is non-existent and He is existent, behold.
ہماری انجمن میں (حسنِ معشوق کی) جلوہ گری ہے ۔ اس کا نظارہ کر ۔ جہان ناپید ہے لیکن وہ موجود ہے ۔ ذرا غور سے دیکھ تو سہی (اس سارے جہان کا وجود حسنِ ازل کے جلووَں کے باعث ہے) ۔
Doors and walls, cities, towns and streets are not there, | For here there is nothing existent except we and He.
جہان کے درودیوار ، آبادیاں ، شہر محل اور گلیاں (جہان کی جملہ اشیاء) بے حقیقت ہیں ۔ ان کا وجود حسنِ ازل کی تجلیات کی بدولت ہے ۔ اس جگہ ہمارے اور اس کے سوا کوئی نہیں ۔ (ما اور او خودی اور خدا ایک ہی ذات کے دو رخ ہیں ۔ جب وجود کو انائے مطلق کے رنگ میں دیکھا جائے تو وہ خدا ہے اور جب انائے مقید میں دیکھا جائے تو وہ خودی ہے) ۔
Sometimes He makes Himself a stranger to us, | Sometimes He plays upon us as upon a musical instrument.
او جو ہے وہ کبھی خود کو ما سے بیگانہ بنا لیتا ہے اور کبھی ما کو ساز کی طرح بجاتا ہے ۔ (خدا کبھی ہم سے بیگانوں جیسا سلوک کرتا ہے اور کبھی اپنوں کی طرح پیش آتا ہے) ۔
Sometimes we fashion His idol out of stone, | Sometimes we prostrate before Him without having seen Him.
کبھی ہم پتھر سے اس کی تصویر بنا لیتے یں اور کبھی اسے دیکھے بغیر ہی اس پر سجدے نچھاور کرنا شروع کر دیتے ہیں (یہ سب حیلے اس کی قربت کے حصول کے لیے ہیں ) ۔
Sometimes we tear every veil of Nature, | And boldly see His beautiful face.
اس کے دیدار کے لیے کبھی ہم نے فطرت کا ہر پردہ چاک کیا ، قانون کی خلاف ورزی کی اور حسنِ یار کا بیباکانہ نظارہ کیا ۔
What fancy has this handful of dust? | It is due to this fancy that his inner self is illumined.
اس مٹی کی مٹھی کے سر میں یہ کیا جنون ہے ، دیدار کا کہ اس جنون سے اس کا باطن تابناک ہے ۔
What a nice fancy that he bewails in separation | And yet he grows and develops through it.
یہ کیسا خوب سودا ہے کہ جو اس کے ہجر و فراق میں آہ و فریاد کر رہا ہے اوراس کے ہجر سے ارتقائی منازل بھی طے کر رہا ہے ۔ نہایت الہٰی تک پہنچ رہا ہے ۔
This separation developed in him such a spiritual insight, | That he turned his dusk into a dawn.
اس حسنِ مطلق کے فراق نے ایسا صاحب نظر کیا کہ اس نے اپنی شام کو خود پر سحر کر لیا (حسنِ مطلق کی جب اشیائے کائنات میں جلوہ فرمائی ہوئی ۔ خود سے الگ ہوا تو اس نے اپنے حسن کی قدرو قیمت سمجھنے والا تخلیق کر لیا ۔ جو صاحب نظر بن کر اس کے حسن کا نظارہ کر رہا ہے ) ۔
He made the ego subject to affliction: | Thus turned the ancient grief into an ever-living joy.
اس حسن مطلق نے خودی کو فراق کے امتحان میں ڈال دیا ۔ اس نے پرانے زخم کو تروتازہ کر کے عیش بنا دیا ۔
He got strings of pearls from the tears of his eyes | From the tree of bewailing he got sweet fruit.
وہ بھیگی ہوئی آنکھوں سے گہر ہائے اشک کے بہت سے ہار لے گیا ۔ اس نے ماتمی درخت سے میٹھا پھل پا لیا ۔
To press the ego tightly to the bosom | Is to turn death into everlasting life.
خودی کو بڑے اچھے طریقے سے اپنے پہلو میں جگہ دینے کا مطلب فنا کو بقا کے برابر کرنا ہے (انائے مطلق جب تمام ضروریات کے ساتھ انائے مقید میں جگہ بنا لیتی ہے تو مقید میں مطلق کی صفات شامل ہو جاتی ہیں اس اسے مقام بقا حاصل ہو جاتا ہے ۔ خلاصہ قدیم اور حادث میں دوئی کہیں نہیں ہے ۔ حقیقت کے اعتبار سے ان میں کوئی فرق نہیں ۔ فرق تعین کے لحاظ سے فرق پایا جاتا ہے ۔ کیونکہ ہر عادت میں قدیم ہی کی جلوہ گری ہوتی ہے ۔ خدا نے اپنے جمال کے مشاہدے کے لیے اپنا یہ غیر یعنی کائنات پیدا کی ۔ اس لیے خود کا عرفان خدا کی پہچان ہے ۔
What is Love? It is to tie all the different stages in a knot. | What is Love? It is to pass beyond all goals.
محبت کسے کہتے ہیں محبت مقاماتِ (زمان و مکان) کو گرہ میں ایک جگہ باندھنے کا نام ہے ۔ محبت کا کیا مطلب ہے محبت نہایات کی آخری منازل سے گزر کر دیدارِ یار تک پہنچنے کا نام ہے ۔
Love does not know of any termination, | Its dawn has no dusk.
محبت انجام سے بے خبر ہوتی ہے ۔ اس کی صبح کی کوئی شام نہیں ہوتی ( محبت کی کوئی منزل اس کا انجام نہیں وہ محبوب کی قربت میں رہ کر بھی بے چین و بے قرار رہتی ہے ۔ )
There are no bends in its way as in that of intellect, | In its lustre of a moment, there is a world.
اس محبت کے راستے فرد کی طرح بہت پیچیدہ اور کٹھن ہیں محبت کے راستے جتنے بھی دشوار ہوں وہ گھبراتی نہیں جبکہ خرد راستوں کی تکالیف سے گھبرا کر حوصلہ ہار دیتی ہے ۔ اس محبت کے ایک لمحے کی تجلی میں ایک جہان پوشیدہ ہوتا ہے ۔
Thousands of worlds lie along our path, how can our endeavours reach their finale?
ہمارے راہِ محبت میں ہزاروں جہان آتے ہیں ۔ ہماری جدوجہد یا سفر کا میدان جس کی کوئی حد نہیں کیسے ختم ہو گا ۔
O traveller I live for ever and die for ever, | Take hold of the world that comes before you.
اے راہِ محبت کے مسافر! تو ہمیشہ زندہ رہ اور ہمیشہ مر ۔ اور تیرے راستے میں جو جہان بھی آئے اسے تسخیر کرے ۔ (ہمیشہ زندہ رہنے اور ہمیشہ مرنے میں حیران کن تضاد ہے ۔ اہل تصوف کی نظر میں خود کو صفات خداوندی کا مظہر بنا کر ہمیشہ کی زندگی حاصل ہو جاتی ہے اور ہمیشہ کا مرنا خود کو اللہ میں فنا کر دینا ہے ۔ )
It is not the goal of our journey to merge ourselves in His ocean. | If you catch hold of Him, it is not fana (extinction).
اس کے سمندر میں گم ہو جانا ہمارا انجام نہیں ہے ۔ قطرے کو سمندر میں گم کر دینا ہماری زندگی کا مقصد نہیں ہے ۔ اس سے تو قطرے کا وجود ختم ہو جائے گا ۔ ہاں اگر تو سمندر کو خود میں لے لے تو یہ فنا نہیں بقا ہے ۔ خودی کا کمال یہ ہے کہ وہ خود بھی قائم رہتی ہے اور سمندرکو بھی اپنے اندر سمو لیتی ہے ۔
It is impossible for an ego to be absorbed in another ego, | For the ego to be itself is its perfection.
خودی خودی میں سما جائے یہ مشکل ہے ۔ خودی کا کمال اپنا عین ہونے یعنی اپنے ظہور میں ہے) ۔ دوسرے بند کا خلاصہ انائے مقید جو کہ اصل میں انائے مطلق ہی کا پرتو ہے اپنے اصل کی طرف رجوع کرتی ہے ۔ اور وصالِ یار کی منزل پا لیتی ہے ۔ لیکن یہ وصال اس طرح کا ہے کہ وہ اپنے اصل میں گم نہیں ہوتی بلکہ سمندر میں موج کی طرح الگ بھی رہتی ہے اور شامل بھی ہوتی ہے ۔
Sources and translator credits
- Original text transcription: Zabur-e-Ajam — قدیم و محدث از ہم چون جدا شد — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Zabur-e-Ajam — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- Persian Psalms: English translations in the digital anthology excerpt — Recovered Persian poetry anthology PDF excerpt; publication title and year are not established by the preserved source packet (zabur-english.pdf, 54 PDF pages).Translation by Bashir Ahmad Dar; Passages are individually credited in the recovered PDF as “Translated by Bashir Ahmad Dar”; exact source and credit PDF page locators are stored with each imported passage.Source
- zabur-e-ajam: published English translation by بشیر احمد — Published digital poem page (xw80six8.json); retrieved 2026-10-05.Translation by بشیر احمد; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- zabur-e-ajam: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (xw80six8.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
