وصال ممکن و واجب بہم چیست؟
English title: Question 3
Published Urdu translations cover some, but not all, Persian verses in this poem.
سؤال سوم
What is the union of the contingent and the necessary? | What are "near" and "far," "more" and "Less"?
ممکن اور واجب میں باہمی وصال کیا ہےنزدیک اور دور اور زیادہ اور کم کی بات کیا ہے (ذات الہٰی واجب ہے اور اس کی ذات کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ ممکن ہے ۔ عارفوں کی نظر میں صرف بندہ ہی قرب الہٰی کا خواہشمند نہیں ہوتا بلکہ اللہ بھی اپنے بندے سے رابطے کا آرزومند ہوتا ہے ۔ اس لیے پہلے مصرع میں صرف وصال کی بات کے ساتھ بہم کا لفظ دو طرفہ وصال کو ظاہر کرتا ہے ۔ یہی دوطرفہ وصال بعض اوقات اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ قربت ہو جاتی ہے اور بعض اوقات اتنا کمزور کہ آپس میں دوری کا احساس ہوتا ہے ۔ کبھی یہ وصال کم ہو جاتا ہے کبھی زیادہ ۔ اس کا کیا مطلب ہے
جواب
THE world of how and why has three dimension | Intellect controls its quantitative aspect.
یہ کتنا اور کیسا کا جہان تین پہلو ہے ۔ اس کے کیف و کم کے لیے عقل ایک کمند کی مانند ہے ۔ اس دنیا میں فائدہ اور نقصان کے بارے میں لوگ بلاوجہ ہی سوچتے ہیں ۔ اس جہانِ محسوس کے تین پہلو ہیں ۔ طول، عرض اور گہرائی ۔ عقل ایسے جہان کے بارے میں بخوبی سوچ سکتی ہے ۔
This is the world of Tusi and Euclid. | The fit object of earth-measuring intellect.
یہ طوسی (نصیر الدین طوسی، چنگیز خان کے دربار میں وزیر، محقق،فلسفی، ماہر نجوم، ریاضی دان، اور ہیت و ہندسہ کا عالم) اور اقلیدس (قدیم زمانے کا ہیت دان، ماہر ہندسہ و ریاضی) کا جہان ہے ۔ یہ دونوں عقلی علوم میں مہارت رکھتے تھے ۔
Its time and space are relative, | And so are its earth and sky.
اس جہان کے زما ن و مکان فرض ہیں ۔ اور اس کے زمین وآسمان بھی فرض ہیں ۔ (یہ جہان اور اس کی اشیاء حقیقی نہیں ہیں ۔ کیونکہ یہ اپنے موجود ہونے میں اللہ کے وجود کی محتاج ہیں ۔ از خود موجود نہیں ہیں ) ۔
Draw your bow and find the target, | Learn from me the secret of ascension.
کمان میں تیر رکھ اور اپنا نشانہ پہچان لے ۔ اور میری اس بات سے (معراجِ مصطفی ) کی باریک رمز سمجھ لے (اگر تم زمان و زبان کو ایک کمان کی طرح مسخر کر لو تو سمجھ لو کہ تم نے اپنے درست نشانے پر تیر پہنچانے کا طریقہ دریافت کر لیا ۔ یعنی تم نے اپنی پوشیدہ قوتوں کو جان لیا ۔ اور اسی بات سے تم واقعہ معراج کی حقیقت پا سکو گے اور تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس طرح پلک جھپکنے میں زمان و مکان کا فاصلہ طے ہوتا ہے ۔ اگر تم یہ کیفیت پانا چاہتے ہو تو دنیاوی علوم سے آزاد ہو کر پا سکتے ہو)
Do not seek the Absolute in this mundane world, for the Absolute is nothing but the Light of the Heavens.
تو مطلق کو جو کہ صرف اللہ تعالیٰ کا وجود ہے اس مکافات عمل کے جہان میں تلاش نہ کر، کیونکہ مطلق آسمانوں کے نور کے سوا کچھ نہیں ۔ (اس نور کو ظاہر جہان میں نہیں دیکھا جا سکتا ۔ وہ تو صرف باطنی جہان میں ہی نظر آئے گا) ۔
Reality is beyond time and space, | Don't say any more that the universe is without a limit.
حقیقت کو نہ زوال ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ٹھکانہ ہے ۔ پھر یہ کہنا فضول ہے کہ جہاں بے کنار ہے ۔ باطنی زمانہ ماہ و سال کی قید سے آزاد ہے ۔ اور اسے صرف عارفین ہی سمجھ سکتے ہیں ۔
Its limit is internal, not external; | There are no distinctions of low and high, more or less, in its internal aspect.
زمانہ کی انتہا تیرے اندر ہے ۔ تیرے باہر نہیں ۔ اسے ماہ و سال کے پیمانے سے ماپنے کی کوشش نہ کر بلکہ اس کی حقیقت باطنی کو سمجھنے کی بات کر ۔ یہ وہ زمانہ ہے جس میں ظاہر کی اونچ نیچ اور کم و بیش نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے ۔
Its internal aspect is devoid of high and low, | But its external aspect is liable to extension,
اس کا اندر (زیر) اور باہر (اوپر) کے حصے خالی ہیں ۔ لیکن اس کا باہر وسعت پذیر ہے ۔ : ابد کی حقیقت کو پانے کے لیے ہماری عقل ناسازگار ہے ابد ایک اکائی ہے لیکن غیر منقسم ہے ۔ عقل کی پہنچ سوچ و بچار کی وجہ سے وہ اکائی ہزاروں میں بٹ گئی ہے (وقفوں اور ساعتوں میں ) تقسیم ہو چکی ہے ۔
Infinity is not amenable to our intellect, | "One" in its hand becomes a thousand.
As it is lame, it likes rest; | It does not see the kernel; it therefore looks towards the shell.
وہ عقل چونکہ لنگڑی ہے (حقیقت پانے کی صلاحیت سے بے بہرہ ہے) اس لیے وہ سکون کو دوست رکھتی ہے ۔ وہ (عقل) مغز کو (زمانے کے باطن کو) نہیں دیکھتی ۔ وہ اپنا دل اس کے پوست (ظاہری صورت ) پر جمائے ہوئے ہے ۔
As we divided Reality into several spheres, | We made a distinction of change and rest.
حقیقت کے جو صرف اکائی ہے جب ہم نے سو ٹکڑے کر دیئے تو پھر ہم نے ساکن اور متحرک میں امتیاز پیدا کیا ۔ (اصل صورت حال یہ ہے کہ سب اشیا الگ الگ ہونے کے باوجود اپنے وجود ظہوری کے لحاظ سے ایک ہیں ) ۔
In non-spatial sphere intellect introduced spatial categories, | Like a belt it girdled time round its waist.
عقل نے لامکان میں مکان کی بنیاد رکھی ۔ اس نے زمان کو برہمن کے زنار کی طرح کمر سے باندھ لیا (ورنہ سوائے لا الہ الا اللہ کے اور کچھ نہیں ) ۔
We did not look for time within the depth of our hearts, | And so we created months and years, nights and, days.
میں نے زمانے کو اپنے ضمیر کی روشنی میں نہیں دیکھا ۔ اس وجہ سے میں نے اسے ماہ و سال اور شب و روز میں منقسم کر لیا ۔ (حالانکہ ازل سے ابد تک یہ ناقابل تقسیم ہے) ۔
Your months and years are of no value: | 'Just ponder over the Qur'anic verse, "How long did you remain?"
اس ظاہری زمانے کے ماہ و سال ایک جو کی قیمت کے برابر نہیں ہیں ۔ اگر تو اس حقیقت کو سمجھنا چاہتا ہے تو کم لبثتم کے حرف میں غوطہ زنی کر (قرآن مجید اس آیت روز حشر خدا گنہگاروں سے پوچھے گا کہ تم دنیا میں کتنا عرصہ رہے ۔ وہ کہیں گے صرف ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ) اس آیت سے ظاہر ہے کہ زمانہ ماہ و سال کی قید سے آزاد ہے اور ناقابل اعتبار ہے ۔
Reach within yourself and retire from this noisy world, | Throw yourself into the inner recesses of your heart.
اپنے آپ کی پہچان کر اور ہنگامہ کے بالیں سے اٹھ کر (دنیا کی رنگینیوں میں گم ہونے کی بجائے) اپنے اندر گم ہو کر اپنی معرفت حاصل کر ۔ اور اپنے ضمیر میں ڈوب کر زندگی کی حقیقت کو پا لے) ۔ پہلے بند کا خلاصہ جہان کا وجود حقیقی نہیں اعتباری ہے ۔ اس لیے اس کے وہمی وجود سے دھوکہ نہیں کھانا چاہے اور وجود حقیقی کی تلاش کے لیے اپنے آپ میں گم ہونا ضروری ہے ۔
To talk of body and soul as two separate entities is wrong; | To see them as two is sinful.
تن و جان کو دو کہنا (تمیز کرنا) درست نہیں اور تن و جان کو دو کہنا حرام ہے (تن و جان دونوں تخلیق ربی ہیں ) اور ایک ہی وجود مطلق کے دو مظہر ہیں ۔ اس لیے دونوں کو الگ الگ کہنا درست نہیں ) ۔
The whole secret of the universe lies in the soul, | Body is one- of its modes of expression.
جان (روح) کے اندر کائنات کی رمز (پہچان) چھپی ہوئی ہے ۔ اور بدن، زندگی کے احوال میں ایک حال ہے (زندگی کو اپنے اظہار کے لیے بدن کی ضرورت ہے ۔ بدن کے بغیر جان کا اظہار ممکن نہیں ) ۔
The bride of Reality adorned itself by the henna of form, | It assumed different shapes for its manifestation.
معنی (جان و روح) کی دلہن نے صورت کی مہندی رچائی ۔ اس نے اپنے اظہار کے لیے مختلف اقسام کے لباس زیب تن کئے ۔ (اگر روح دلہن ہے تو بدن اس کے لیے آرائش کی طرح ہے ۔ بدن کے بغیر جان اپنی صلاحیتوں کا اظہار نہیں کر سکتی) ۔
Reality weaves veils for its face, | For it finds delight in display.
حقیقت اپنے چہرے کے لیے خود ہی پردہ بنتی ہے ۔ کیونکہ اسے اپنے راز کے اظہار میں سرور آتا ہے ۔ (یہی وجہ ہے کہ روح جسم میں یا جان بدن میں پوشیدہ رہ کر اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنا پسند کرتی ہے) ۔ دوسرے بند کا خلاصہ چونکہ ہر شے میں صفات الہٰیہ کا ظہور ہے ۔ اس لیے جان و بدن میں دوئی نہیں ۔ دونوں ایک ہیں اور ایک دوسرے کی ضرورت ہیں ۔
Since the West viewed body and soul as separate, | It also regarded State and Religion as two.
یورپ نے یہی غلطی کی کہ اس نے جان کو بدن سے الگ سمجھا ۔ اس کی نگاہ نے ملک (سیاست) اور دین کو الگ الگ کر دیا ۔
The churchman only tells his beads, | For he has no work of the State to perform.,
گرجا (حضرت عیسیٰ کے حواری پطرس کے افکار و خیالات کی ) مالا جپتا ہے ۔ کیونکہ اسے حکمرانی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یعنی اہل یورپ نے مذہب اور سیاست کو الگ الگ کر رکھا ہے ۔ جس کے باعث ان کا نظام حیات درہم بر ہم ہے ۔
See deceit and artifice in state craft: | It is a body without a soul, or a soul without a body.
کاروبار حکمرانی میں (اہلِ یورپ) کے مکر و فن کا جائزہ لے ۔ ان کے بے جان تن اور بے تن جان کو دیکھ (مذہب کو حکومت سے الگ کر دینے سے ان کا معاشرہ مادہ پرست اور جسم بے روح ہو چکے ہیں ) ۔
Make intellect a companion of your heart; | Behold, for instance, the Turkish nation.
عقل کو اپنے دل کا ہمسفر بنا اور ایک بار ترکوں کی قوم کے حالات کا جائزہ لے کہ وہ کس طرح یورپ کے مکر و فریب میں آ گئے اور مذہب اور سیاست کو الگ الگ کر کے نقصان اٹھا رہے ہیں ) ۔
By imitation of the West, the Turks lost their individuality; | They did not see any link between State and Religion.
اس طرح وہ یعنی ترک فرنگی کی چالوں سے مار کھا گئے اور ان کی تقلید میں اپنے مذہب سے دور ہو گئے ۔ انھوں نے ملک اور دین کو الگ الگ کر کے گھاٹے کا سودا کیا ۔ تیسرے بند کا خلاصہ مادہ اور روح یا بدن اور جان میں دوئی نہیں ہے ۔ ان میں دوئی سمجھنا بہت خطرناک ہے ۔
We looked at the One as compound of so many parts | That we created numerals to count it.
وحدت (اکائی) کو ہم نے اس طرح سینکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم ہوتے ہوئے دیکھا کہ ہم نے ان کے شمار کے لیے اعداد بنائے ۔
Do you think that this ancient world is a handful of earth? | It is a fleeting moment of God's activity.
یہ پرانا جہان جسے تو دیکھ رہا ہے مٹی کی ایک مٹھی کے برابر ہے (بے حقیقت ہے ) اور وہ مٹی (کائنات) ذات باری تعالیٰ (وجود مطلق) کے سامنے صرف ایک لمحہ کی مدت رکھتی ہے ۔
The scientists tend to adorn a dead body, | They neither possess the Hand of Moses nor the Breath of Jesus.
حکما تو صرف مردوں کے نقش و نگار بنا سکتے ہیں ان کے پاس نہ تو ید موسیٰ ہے اور نہ دمِ عیسیٰ (ان حکما کے پاس مردوں کو از نو زندگی دینے کا کوئی نسخہ نہیں ۔ جو لوگ دین و سیاست اور تن و جان الگ کر بیٹھے ہیں اور حیوان بن گئے ہیں انہیں پھر سے انسان بنانا عہدِ حاضر کے حکماء کے بس میں نہیں ۔
I have seen nothing of value in this type of science, | I have been craving for a wisdom of another sort.
میرے دل نے اس (فرنگی) دانش میں کوئی قابلِ ذکر چیز نہیں دیکھی ۔ اس لیے کہ وہ کسی اور چیز کے لیے تڑپ رہا ہے (یہ حکمت تو صرف عارفوں کے پاس ہے ۔ جو دوئی نہیں رکھتے ۔ یکتائی کے قائل ہیں اور ہر شے میں اللہ کے نور کے جلوے دیکھتے ہیں ) ۔
I believe that the world is undergoing a revolution, | Its inside is alive and in convulsions.
میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ یہ جہان انقلاب سے گزر رہا ہے ۔ اس کا اندر زندہ ہے اور بے قرار ہے (جہان میں ہمہ وقت تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہے ) ۔
Pass beyond your numerals, | Look for a while within your self and leave.
اپنے اعداد و شمار (عقل، منطق اور طبیعات کی پیچیدگیوں سے ) نکل کر کائنات پر غور کر ۔ اور اپنی حقیقت کی پہچان کر ۔
In a universe where a part is greater than the whole, | The calculations of Razi and Tusi are irrelevant.
اس جہا ن میں جزو کل سے بڑھ کر ہے ۔ امام فخر الدین رازی اور نصیر الدین طوسی جیسے مفکرین کے عقلی اور فکری قیاسات ، اندازے پاگل پن ہیں (خودی کی معرفت راز اور طوسی کے علم سے نہیں ہوتی ۔ اسے تو کوئی ابن عربی اور رومی ہی سمجھا سکتا ہے) ۔
For a while familiarise yourself with Aristotle, | For another while sit in the company of Bacon.
اگر ضرورت پڑے تو یونان کے مشہور فلسفی ارسطو کے خیالات و افکار کا علم حاصل کر اور پھر کسی وقت فرانسس بیکن کے ساز کے ساتھ ہمنوائی کر ان کی فلاسفی کا مطالعہ کر لیکن ان کا اثر قبول نہ کر ) ۔
But then you must pass beyond their stand, | Don't get lost in this stage, journey on.
لیکن ان کے افکار سے صرفِ نظر کر کے آگے بڑھ جا ۔ اس منزل میں گم نہ ہو ۔ اس سے آگے سفر اختیار کر (جہاں تجھے فائدہ نظر آئے ان سے استفادہ کر اور آگے بڑھ جا ۔
With the aid of that intellect that deals with quantities | Probe the depths of mines and oceans,
اس عقل سے جو اس دنیا کے نفع و نقصان سے باخبر ہے کام لے ۔ وہ عقل جو سمندر اور کا ن کے اندر جو کچھ موجود ہے اسے جانتی ہے ۔
Master the world of how and why; catch the moon and Pleiades from the sky.
اور اس عقل سے اس فائد اور نقصان کے جہان کو اپنے قابو میں کر لے اور آسمان پر چاند اور پروین کو ساکن کر دے ۔ انہیں تسخیر کر لے ۔
But then learn wisdom of another sort, | Free yourself from the snare of night and day.
لیکن حکمت کوئی اور سیکھ (اپنی خودی کی پہچان کر) اور خود کو رات اور دن کے چکر سے نکال، کیونکہ تیری پرواز تو لامکان سے بھی پرے ہے ۔
Your real place is beyond this mundane world, | Aspire for a right that is without a left.
تیرا مقام زمانے کی حدوں سے پرے ہے ۔ اس دائیں کو طلب کر جس کا بایاں نہیں ۔ تیرا مقام وہ ہے جہاں جہتیں نہیں ہیں کیونکہ تو ان سے آزاد ہے ۔ (تو وجود مطلق کا عکس ہے اس لیے کائنات میں گم ہونے کی بجائے کائنات کو اپنے وجود میں گم کر دے ) ۔ چوتھے بند کا خلاصہ اس بند میں عقل کی بے بسی کا اظہار ہے ۔ مسلم اقوام کو خصوصاً اپنی معرفت کی شناخت کی تلقین کی گئی ہے ۔ اور اہلِ یورپ کے علم و فن کے نقاءص اور چالیں بتا کر ان سے بچنے کے لیے کہا گیا ہے ۔
Sources and translator credits
- Original text transcription: Zabur-e-Ajam — وصال ممکن و واجب بہم چیست؟ — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Zabur-e-Ajam — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- Persian Psalms: English translations in the digital anthology excerpt — Recovered Persian poetry anthology PDF excerpt; publication title and year are not established by the preserved source packet (zabur-english.pdf, 54 PDF pages).Translation by Bashir Ahmad Dar; Passages are individually credited in the recovered PDF as “Translated by Bashir Ahmad Dar”; exact source and credit PDF page locators are stored with each imported passage.Source
- zabur-e-ajam: published English translation by بشیر احمد — Published digital poem page (xw80six8.json); retrieved 2026-10-05.Translation by بشیر احمد; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- zabur-e-ajam: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (xw80six8.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
