چہ بحر است این کہ علمش ساحل آمد
English title: Question 2
سؤال دوم
What is this ocean whose shore is knowledge? | What is that pearl which is found in its depth?
یہ سمندر کس قسم کا ہے کہ جس کے ساحل علم میں کوئی حرکت نہیں ۔ اس سمندر کی گہرائی میں غوطہ زنی سے کونسا گوہرِ مقصود حاصل ہوتا ہے ۔
جواب
EVER-MOVING Life is a flowing ocean, | Consciousness is its shore.
جو خودی کی سانسوں سے حرکت میں ہے بہتا ہوا سمندر ہے ۔ اور شعور و آگہی اس کے کنارے ہیں ۔
What an ocean that is deep and surging a thousand mountains and deserts are on its bank.
یہ کیسا دریا ہے جس کی گہرائی بہت زیادہ ہے اور اٹھتی ہوئی بے قرار موجوں والا ہے ۔ اس کے کنارے پر ہزاروں صحرا اور پہاڑ ہیں ۔ (یہ خودی کا دریا ہے ۔ اس آدمی کی زندگی کا دریا جسے اپنی معرفت حاصل ہو گئی ہے ۔ اس نے جان لیا ہے کہ وہ انائے مقید میں ہونے کے باوجود انائے مطلق کی صلاحیتوں اور قوتوں کا مالک ہے )
Don't talk about its surging waves, | For each had overflowed its bank.
اس دریائے خودی کی بے قرار موجوں کے بارے میں سوال مت کر ۔ کہ اس کی تو ہر موج کناروں سے اچھلی ہوئی ہے (کچھ نہ کچھ عمل کے لیے بے تاب رہتی ہے) ۔
It left the ocean and imparted moisture to the desert, | It gave to the eye the sense of quantity and quality.
خودی کے دریا کی یہ موج سمندر سے گزر گئی، اور اس نے صحرا کو اپنی نمی سے زندگی بخشی ۔ اس نے نگاہ کو کیف و کم (ہر قسم کے حالات و اسرار دیکھنے کی لذت عطا کی ۔
Whatever thing comes into its presence, | Gets illumined through the grace of its consciousness.
ہر وہ چیز جو اس کے حضور پیش ہوتی ہے وہ اس کے شعور کے فیض سے منور ہو جاتی ہے (خودی ہر شے کی قدر و قیمت مقرر کرتی ہے) ۔
It is satisfied with its privacy and is not inclined to association with others, | Yet all things are illumined by its light.
وہ خلوت پسند ہے اور دوسروں کی صحبت پسند نہیں کرتی ۔ لیکن پھر بھی ہر شے اسی کے نور سے منور ہے ۔
First it brightens it up, | Then it ensnares it in a mirror.
پہلے یہ خودی اس چیز کو منور کرتی ہے اور بالاخر اسے قانون کے ایک دائرے میں قید کر دیتی ہے ۔
Its consciousness makes it familiar with the world, | The world made it aware of its potentiality.
اس کے شعور نے اسے جہان کے زیادہ نزدیک کر دیا اور جہان نے اسے بتایا کہ وہ کائنات سے برتر ہے ۔
Intellect removes veil from its face, | But speech reveals it much better.
عقل نے اس کے چہرے سے پردہ ہٹایا ۔ لیکن اس کی گفتار نے اور بھی عریاں کر دیا ۔ خودی عقل بھی رکھتی ہے اور قوتِ گویائی بھی اور یہ قوت گویائی اس کی پوشیدہ قوتوں کی مظہر ہے ۔
Yet it is not confined to this mundane world - | It is only one of its stages in the path of evolution.
وہ اس جہان مکافات میں نہیں سماتی ۔ جہان تو اس کے مقامات میں سے ایک ہے (اس کی نظر تو کہکشاؤں سے بھی پرے ہے) ۔ پہلے بند کا خلاصہ انائے مطلق (خدا) اور انائے مقید (خودی) میں بحر اور موج کا رشتہ ہے ۔ جس طرح موج بحر کا ظہور ہے اسی طرح انائے مطلق ظہور کے لحاظ سے انائے مقید میں جلوہ گر ہے اور اس جلوہ گری کے کئی رنگ و روپ ہیں ۔
You look upon the world as existing outside you: | These mountains and deserts, oceans and mines;
تو جہان کو خود سے باہر دیکھتا ہے اور اس جہان میں موجود آبادی، بیابان، سمندر، صحرا اور کان یعنی کائنات کی ساری آشیاء کو خود سے باہر جانتا ہے (حالانکہ یہ تمام اشیائے جہا ن کا وجود تیری نگاہ کے باعث ہے ۔ )
This world of colour and smell is our nosegay; | It is independent and yet intimately related to us.
یہ رنگ و بو کا جہان (دلکش مگر فانی جہان) ہمارا گلدستہ ہے ۔ یہ اگرچہ ہم سے آزاد ہے لیکن ہمارے ساتھ وابستہ ہے ۔
The ego bound them all by its one glance: | The earth and the sky, the moon and the sun.
خودی نے اس جہان کو نگاہو ں کے ایک تار میں باندھ لیا ۔ (اور پھر اس جہان میں موجود ) زمین ، آسمان اور چاند کو اس میں باندھ لیا (ان تمام اشیائے جہان کا وجود خودی کے نظارہ کا مرہون منت ہے) ۔
Our heart has a secret gateway to it, | For every existent depends for its existence upon our perception.
ہمارے دل کا اس جہان کے ساتھ ایک پوشیدہ تعلق ہے، کیونکہ ہر موجود جو اس جہان میں ہے نگاہ احسان مند ہے ۔
If nobody sees, it becomes contemptible; | If anybody sees, it becomes mountains and oceans.
اگر جہان یا اس کی اشیا کا کوئی نظارہ نہ کرے تو وہ عاجز اور بے قیمت ہو جائیں گے ۔ اور اگر دیکھے گا تو وہ سمندر اور پہاڑ کے علاوہ کچھ نہ ہوں گے ۔ بے حیثیت نظر آئیں گے ۔
The world has significance through our seeing it - | Its tree grows by our growth.
اس جہان کا موٹاپا (چہل پہل) ہماری نظر کا کمال ہے اور اس کا پودا ہماری وجہ سے بڑا ہوا ہے ۔
The problem of subject and object is a mystery; | The heart of every particle of matter is expressing its supplication:
ناظر اور منظور دونوں کی کہانی ایک راز ہے ۔ ہر ذرے کا دل اپنی نیازمندی کا اظہار کر رہا ہے ۔ (دنیا کی ہر شے کسی ناظر دیکھنے والے کی نگاہوں کی محتاج ہے ۔ اگر دیکھنے والی نگاہ نہ ہو تو منظور موجود ہونے کے باوجود عدم ہو جائے ۔ اس لیے کائنات کا وجود انسان کی وجہ سے ہے ۔
O observer, make me your object, | Make me existent by the grace of your sight.
ہر ذرہ یہ کہہ رہا ہے کہ اے شاہد (دیکھنے والے) تو مجھے مشہود بنا دے ۔ تو اس بات کی گواہی دے کہ میں تیرے مشاہدہ میں حاضر ہوں ۔ تو مجھے اپنی ایک نظر کے فیض سے موجود کر دے ۔ کیونکہ میرا شہود تیری نظر کی شہادت کی بدولت ہے) ۔
The perfection of the being of a thing lies in being present, | In becoming an object for an observer;
کسی شے کی ذات کا کمال اس کا موجود ہونا ہے ۔ کسی شاہد کے لیے اس کا مشہود ہونا ہے ۔
Its defect, not to be before our eyes, | Not to be illumined by our awareness.
ہمارے سامنے عقل کی رو سے ان کا ہونا نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ان کا ہمارے شعور سے منور نہ ہونا ان کا عدم ہے (کسی شے کا موجود ہونا صرف ناظر کی دید اور شاہد کے مشاہدے پر مبنی ہے) ۔
The world is nothing but our manifestation, | For without us there would be no world of light and sound,
یہ جہان ہماری جلوہ گری کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ کیونکہ ہمارے بغیر کائنات میں روشنی اور آواز کے جلوے بے کار ہیں ۔
You also should crave help by associating with it, | Discipline your eyes by its twists and turns.
یہ کائنات جس کی موجودگی ہماری نظر کی مرہون منت ہے اور اپنے اندر نور اور صدا کے جلوے لیے ہوئے ہے اس سے کنارہ کشی اختیار نہ کر بلکہ اس کی صحبت سے دوستی طلب کر کے اس سے فائدہ حاصل کر اپنی نگاہ کائنات کے حالات پر رکھتے ہوئے اس کے پیچ و خم سے احترام کر ۔
Rest assured that master-huntsmen | Have sought help in this matter from insects.
اس بات پر یقین کر کہ شکاری شیروں نے راستے میں آنے والی چیونٹی کمزور سے کمزور مخلوق سے بھی مدد چاہی ہے ۔ دوسرے بند کا خلاصہ اس بند میں جہان کو شاہد و ناظر کی شہادت اور نظر کا مرہون منت کہا گیا ہے ۔ یہ بات بتائی گئی ہے کہ کائنات کی موجودگی ہمارے نفس مدرک پر منحصر ہے اگر وہ کائنات کی اشیا ء کا ادراک نہ کرے تو ان کا ہونا اور نہ ہونا برابر ہے ۔
With its help, keep a watchful eye on yourself; | You are like Gabriel the truthful; take wings.
اس کائنات سے دوستی کر کے (فوائد حاصل کر کے) اس سے اپنے آپ کی پہچان کے طریقے سیکھ لے ۔ تو اللہ کے مقرب فرشتے جبرئیل کی طرح (اللہ کی صفات) کا امانتدار ہے ۔ اس لیے تو اپنے بازو اور پر پیدا کر کیونکہ تیرا تعلق زمین سے نہیں بلکہ آسمان سے ہے ۔
Open the eye of intellect on this world of plurality, | So that you may enjoy the revelations of the One,
اس کائنات میں جو لا تعداد اشیاء موجود ہیں ۔ ان کا مشاہدہ کر کے عقل کی آنکھیں کھول کر احد کا مظاہرہ کر ۔ کیونکہ وہ خدا کثرت کے پردے میں بھی عیاں ہے اور کائنات کا ہر ذرہ صفاتِ خداوندی کا ظہور ہے ۔ اس لیے یہ کہنا کہ کثرت میں وحدت پائی جاتی ہے فطرت کے عین مطابق ہے ۔
Take your share from the smell of the shirt, | While sitting in Kan'an, get fragrance from Egypt and Yemen.
اپنا نصیب (لباسِ تصوف) کی خوشبو سے حاصل کر ۔ کنعان شہر میں بیٹھے بیٹھے ملکِ مصر اور یمن کی معطر ہواؤں سے فیض حاصل کر ۔ یہاں دو تاریخی واقعات کی طرف اشارہ ہے جس طرح حضرت یعقوب علیہ السلام کو کنعان میں رہتے ہوئے شہر مصر سے حضرت یوسف علیہ السلام کی خبر ان کے کرتے کے باعث مل گئی تھی ۔ اور یمن میں حضرت اویس قرنی کو رسول اللہ ﷺ کے کرتے کی خوشبو پہنچ گئی تھی ۔ اسی طرح عارفِ کامل بھی کثرت کے پردے میں وحدت کی خوشبو پا لیتا ہے ۔
Ego is the hunter, the sun and the moon are its prey; | They are chained to the strings of his intellectual efforts.
خودی شکاری ہے اور سورج اور چاند اس کے شکار ہیں ۔ چاند اور سورج تیری تدبیر کے قیدی ہیں ۔ (تو خودی کے آئینے میں اپنی جھلک پائے گا ۔ اور کثرت کے پردے میں وحدت کا تماشا کر کے کائنات پر حکمرانی کرے گا) ۔
Throw yourself on this world like fire! | Make an assault on the visible and the invisible worlds alike.
خدا کی معرفت حاصل کر کے خود کو جہان میں آگ کی مانند پھینک کر اپنے اندر موجود غیر اللہ کے خیالات و افکار کو بھسم کر دے ۔ خودی کی پہچان کے بعد جب تیرے اندر صفاتِ الہٰی پیدا ہو جائیں تو پھر مکان اور لا مکان پر چپکے سے حملہ کر کے دونوں پر قبضہ کر لے ۔ تیسرےبند کا خلاصہ اے انسان! تو کائنات کا مشاہدہ کرنے کے بعد اس کے آئینوں میں جھانک کثرت کے پرواں میں اس خدا کی وحدت اور اپنی خودی میں خدا کی صفات کے جلوے دیکھ اور یہ حقیقت سمجھ لے کہ تیری حیثیت مادی نہیں ، نوری ہے ۔ اور اس نوری قوت سے زمان و مکان سے بھی آگے دنیاؤں کو تسخیر کر لے ۔
Sources and translator credits
- Original text transcription: Zabur-e-Ajam — چہ بحر است این کہ علمش ساحل آمد — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Zabur-e-Ajam — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- Persian Psalms: English translations in the digital anthology excerpt — Recovered Persian poetry anthology PDF excerpt; publication title and year are not established by the preserved source packet (zabur-english.pdf, 54 PDF pages).Translation by Bashir Ahmad Dar; Passages are individually credited in the recovered PDF as “Translated by Bashir Ahmad Dar”; exact source and credit PDF page locators are stored with each imported passage.Source
- zabur-e-ajam: published English translation by بشیر احمد — Published digital poem page (xw80six8.json); retrieved 2026-10-05.Translation by بشیر احمد; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- zabur-e-ajam: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (xw80six8.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
