نخست از فکر خویشم در تحیر
English title: Question 1
سؤال اول
First of all I am perplexed about my thought | What is that which is called "thought"?
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ میں اپنی فکر سے حیرت زدہ ہوں اور وہ کیا چیز ہے جسے تفکر کہتے ہیں
What sort of thought is the condition of my path? | Why is it sometimes obedience, sometimes sin?
ہمارے لیے کونسی فکر طے کرنے کے لیے شرطِ اول ہے ۔ یہ بھی بتائیں کہ یہ فکر کبھی طاعت (عبادت یا ثواب ) اور کبھی گناہ کیوں ہوتی ہے (کسی شے پر کسی خاص مقصد کے تحت غور کرنا فکر ہے اور اس فکر کے نتیجہ میں جو کیفیت ہاتھ آتی ہے وہ تفکر ہے) ۔
جواب
What a light there is within the heart of man! | A light that is manifest in spite of its invisibility.
آدم کے سینے میں یہ کیسا نور ہے، یہ کیسا نور ہے کہ ہر پوشیدہ چیز بھی اس کی نظروں میں ظاہر ہو جاتی ہے (اس کی وجہ یہ ہے کہ سینہَ آدم کا یہ نور خودی کا نور ہے ۔ یہ نور اپنے اصل کے اعتبار سے انائے مطلق ہے ) جو غیب اور ظاہر دونوں عالموں کی خبر رکھتا ہے ۔ سینہَ آدم کے اندر خودی کا نور بھی تو اسی کا پرتو ہے ۔ اس لیے یہ بھی غیب و ظاہر کو جانتا ہے (مقام افسوس ہے کہ آدم نے اپنی خودی کو دنیاوی آلائشوں سے بے کار کر کے رکھ دیا ہے) ۔
I saw it in the constancy of change, | I saw it both as light and fire.
میں نے اسے حرکت کرتا ہوا اور ساکن دیکھا ہے ۔ میں نے اسے نور میں بھی دیکھا ہے اسے نار (عقل یا تدبیر کی صورت) میں بھی دیکھا ہے ۔
Sometimes its fire is nourished by argumentation and reasoning, | Sometimes its light is derived from the breath of Gabriel,
کبھی اس کی نار دلیل اور محبت ہے اور کبھی اس کا نور جبرئیل فرشتہ کی جان ہے ۔
What a life-illuminating and heart-kindling light! The sun is nothing in face of a single ray of this light.
یہ کیسا نور ہے (یہ نور ایسا ہے کہ) آدمی کی جان کو روشن کر تا ہے اور سینے میں حرارت عشق پیدا کرتا ہے ۔ سورج اس کی ایک شعاع کی قیمت کے برابر نہیں ہے ۔
Conjoined with dust, it is above limitations of space; | Chained to the alternation of day and night, it is free from the bonds of time.
یہ نورِ خودی مٹی سے آلودہ ہے لیکن اس کا مکان کوئی نہیں ۔ یہ نور ِ خودی دن اور رات کے بندھنوں میں جکڑا ہوا ہے ۔ لیکن زمانے کی قید سے آزاد ہے ۔ (نور خودی انسانی جسم میں قید ہونے کے باوجود زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے) ۔
The calculation of its time is not through breath, | There is none like it in seeking and discovering.
اس کی زندگی یا زمانہ کی گنتی اس کے سانسوں کے شمار پر نہیں ۔ اس قسم کا جوئندہ اور پائندہ اور کوئی نہیں ہے ۔
Sometimes it feels exhausted and sits on the shore, | Sometimes a shore-less ocean is in its cup.
کبھی وہ تھکا ہوا ہوتا ہے اور ساحل اس کا مقام ہے اورکبھی بیکراں سمندر اس کے پیالے میں ہوتا ہے ۔
It is both the river and the staff of Moses, | On account of which the river is divided into two.
یہی دریا ہے اور یہی (نورِ خودی) حضر ت موسیٰ علیہ السلام کا عصا ہے ۔ وہ عصا جسے دریا کے پانی پر جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مارا تھا تو دریا کا پانی دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا ۔ اور درمیان میں گزرگاہ بن گئی تھی) ۔
It is a deer whose pasture is the sky, | Who drinks water from the stream of the Milky Way.
وہ ایک ایسا ہرن ہے کہ اس کی چراگاہ آسمان کی وسعت ہے ۔ وہ کہکشاں کی نہر سے پانی پیتا ہے (اس کا میدان عمل ستاروں سے بھی آگے ہے) ۔
Earth and sky are its halting places, | It walks alone amid a caravan,
زمین اور آسمان اس کے مقامات ہیں ۔ وہ کارواں کے درمیان ہونے کے باوجود کارواں سے الگ ہے (وہ ایک منفرد حیثیت کا مالک ہے) ۔
Some of its states are: the world of darkness and light, the sound of the trumpet, death, paradise, and Houri.
اس کے احوال میں سے نور و ظلمات کا جہان، صور کی آواز ، موت، جنت اور حوریں ہیں ۔
It gives both to Iblis and Adam opportunity to develop, | And provides them, a chance of expansions.
ابلیس اور آدم کی نمود اسی سے ہے ۔ ابلیس و آدم اور کشود بھی اسی سے ہے (اس کائنات میں پائی جانے والی تمام اشیاء اچھی اور بری سب اسی کے نور کی وجہ سے اپنے اعمال میں مصروف ہیں ) ۔
Eye is impatient at its sight, | Its charms even beguile God.
نگاہ اس کے جلوے کی تاب دیکھنے کے لیے ہر وقت بے قرار رہتی ہے ۔ اس کی تجلیاں خدا کی نگاہوں کو بھی پسند ہیں ۔
With one eye, it sees its own privacy, | With the other eye, it looks at its apparent lustre.
وہ نور ِ خودی ایک آنکھ سے اپنی خلوت کا مشاہدہ کرتا ہے اور دوسری آنکھ سے اپنی جلوت کا تماشا کرتا ہے ۔
If it closes one eye, it is a sin; | If it sees with both eyes, it is the true condition of the path.
اگر وہ ایک آنکھ بند کر لیتا ہے تو یہ گناہ ہے اور اگر وہ دونوں آنکھوں سے دیکھتا ہے تو یہ راہِ سلوک کی شرط ہے ۔
Out of its little stream, it produces an ocean, | It becomes a pearl and then settles at its bottom.
وہ اپنی ندی سے ایک سمندر پیدا کر لیتا ہے ۔ پھر اس سمندر میں موتی بن جاتا ہے ۔ اور موتی بن کر اپنی گہرائی میں بیٹھ جاتا ہے (خودی ترقی کرتے کرتے خدا کی صفات کی مظہر بن جاتی ہے) ۔
Soon it takes a different form; | Becomes a diver and catches itself again.
اس وقت وہ خودی ایک نئی صورت میں ڈھل جاتی ہے ۔ وہ غوطہ خور بن کر غوطہ لگاتی ہے اور خودی کو دوبارہ پا لیتی ہے ۔ (خودی بھی انا ہے لیکن مقید ہے، خدا بھی انا ہے لیکن انائے مطلق ہے ۔ جب انائے مطلق ، انائے مقید میں آتی ہے تو انائے مقید کو اپنی صفات سے جلوہ گر کر دیتی ہے اور یہاں صفاتِ خدا (مختلف مادی اشیاء کے ساتھ) تعین میں آ جاتی ہے ۔
In it there are noiseless commissions; | It has colour and sound perceptible without eye and ear.
اس نورِ خودی کے اندر بے شور ہنگامے ہیں ۔ اس کے اندر آنکھ اور کان کے بغیر رنگ اور آواز ہے ۔ انائے مطلق جب انائے مقید میں تعین کرتی ہے تو خدا کا ظہور ہوتا ہے اور اس سے کائنات میں رونق قائم ہوتی ہے ۔ لیکن اس تمام رونق میں انائے مطلق خاموش رہتی ہے ۔
There is a world hidden in its glass, | But it reveals itself to us piecemeal.
اس کے شیشے میں زمانہ ہے لیکن ہم پر درجہ بدرجہ ظاہر ہوتا ہے ۔ حیات خودی کے شیشے میں جلوہ گر ہو کر آہستہ آہستہ آشکار ہوتی ہے ۔
Life makes it into a lasso and throws it, | To catch everything low and high.
زندگی اس (نورِ خودی) سے کمند پھینکتی ہے اور (اس طرح وہ) ہر پست و بلند شے کی شکاری بن جاتی ہے ۔ (زندگی کائنات کو خودی کی بدولت مسخر کرتی ہے) ۔
By its means it ensnares itself, | And wrings also the neck of duality.
زندگی اس خودی کے باعث اپنی ہی قید میں آ جاتی ہے اور اپنے سوا یا خدا کے سوا ہر چیز کا گلہ دبا دیتی ہے (ہر چیز پر غالب آ جاتی ہے) ۔
One day the two worlds fall a prey to it, | And are caught into its beautiful lasso.
اور ایک دن ایسا آتا ہے کہ جب دونوں جہان اس کے شکار ہو جاتے ہیں اور اس کی چمکدار کمند کے پھندے میں آ جاتے ہیں (یہاں دونوں جہانوں سے مراد نفس اور آفاق کے جہان ہیں ) ۔
If you conquer both these worlds, | You will become immortal even if everything else dies
اگر تو ان دونوں جہانوں کو زیر کر لے گا تو ساری کائنات مر جائے گی ۔ تو نہیں مرے گا ۔
Do not set foot in the desert of search lazily; | First, take hold of that world which lies within you.
ان دونوں جہانوں کو زیر کرنے کی خواہش کے بیان میں سستی سے قدم نہ رکھ ۔ پہلے اس جہان پر قبضہ کر جو تیرے اپنے اندر ہے (اپنی پہچان کر) ۔
If you are low, become strong by conquering the Self. | If you wish to seek God, get nearer yourself.
اگر تو کمزور اور بے زور ہے تو خود پر قابو پا کر (اپنی معرفت حاصل کر کے) طاقتور بن جا ۔ اور اگر تو خدا کا قرب چاہتا ہے تو پہلے اپنی پہچان کر (خودی کی معرفت خدا کی معرفت ہے) ۔
If you become proficient in conquering Self, | Conquering the world will become easy for you.
اگر تو اپنی ذات کی تسخیر کرنے میں کامل ہو جائے تو تیرے لیے آفاق کی فتح بھی آسان ہو جائے گی دوسرے بند کا خلاصہ سالک کے ضروری ہے نفس اور آفاق دونوں پر فکر کرے پہلے نفس پر پھر آفاق پر ۔ یہ اس کے لیے شرط راہ ہے ۔
Happy is the day when you conquer this world, | And pierce the bosom of the skies.
وہ دن مبارک ہو گا جب تو اس جہان آفاقی کو تسخیر کرے گا اور تو نو آسمانوں کے سینہ کو چیر لگا دے گا (تو آسمانوں کی سرحدوں کو پار کر کے عرش و کرسی تک رسائی حاصل کر لے گا )نو آسمانوں میں سات آسمان کے علاوہ غالباً عرش و کرسی بھی شامل ہیں ) ۔
The moon will prostrate before you, | And you throw over it a lasso of waves of. smoke.
وہ دن کتنا مبارک ہو گا جب چاند تیرے سامنے اپنی پیشانی جھکا دے گا اور تو اس پر دھوئیں کی کمند ڈال کر اسے آسانی سے تسخیر کرے گا ۔
You will be free in this ancient world,, | Able to fashion the idols to your purpose
مبارک ہو وہ دن جب تو اس پرانے جہان (قدیم افکار و خیالات) کے چنگل سے آزاد ہو گا اور نو بتوں (کائنات کے نظام) کو اپنی مرضی کے مطابق تراشے گا ۔
To hold in. the grasp of your hand all the world | Of light and sound, of colour and smell;
جب وہ مبارک دن آئے گا تو اس چار سمتوں والے جہان کو زیر قبضہ کر لینا ۔ وہ جہان جو نوا ، آواز، رنگ اور بو کا مقام ہے ۔ جہان کی ہر شے فانی ہے ۔
To change its quantitative aspect, | To mould it according to your purpose;
پھر اس جہان کے زیادہ کو کم اور اس کے کم کو زیادہ کرنا ۔ جہاں ضرورت پڑے ترمیم کر لینا اور اسے اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لینا ۔
Not to be captivated by its sorrows and delights | To break the spell of its nine skies;
اس جہان کے دکھ اور سکھ سے دل نہ لگا ۔ بلکہ اس نو آسمانوں کے جادو کو توڑ دے (انکی سرحدوں سے آگے نکل جا) ۔
To go down into its heart like the point of an arrow, not to exchange your wheat for its barley;
جس طرح نیزہ جسم میں چھید کر دیتا ہے اسی طرح اس جہان کے ضمیر میں بھی چھید کر دینا اور اپنی گندم (اچھے اعمال کو) اس کے جو جیسے کم قیمت مال کے بدلے میں نہ دے دینا ۔
This is indeed the-true kingly glory, | This is the State that is linked to religion.
حقیقی بادشاہت عظمت و شان تو یہی ہے ، یہی ہے، یہی وہ ملک ہے جو دین کے ساتھ جڑواں ہے ۔ (ملکِ بقا کی بادشاہت ہی حقیقی ہے، ملک فنا کی بادشاہت فضول ہے) تیسرےبند کا خلاصہ جب آدمی کو اپنی معرفت حاصل ہو جاتی ہے تو منزلِ تفکر پر پہنچ جاتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آفاق اس کے قدموں تلے آ جاتے ہیں اور وہ حقیقی معنوں میں دنیا و دین کا بادشاہ بن جاتا ہے پہلے سوال کے جواب کا خلاصہ: پہلے بند میں فکر کو خودی کی حرکت، دوسرے بند میں شرطِ راہ اور تیسرے بند میں اس کے نتیجے کو تفکر کہا گیا ہے ۔
Sources and translator credits
- Original text transcription: Zabur-e-Ajam — نخست از فکر خویشم در تحیر — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Zabur-e-Ajam — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- Persian Psalms: English translations in the digital anthology excerpt — Recovered Persian poetry anthology PDF excerpt; publication title and year are not established by the preserved source packet (zabur-english.pdf, 54 PDF pages).Translation by Bashir Ahmad Dar; Passages are individually credited in the recovered PDF as “Translated by Bashir Ahmad Dar”; exact source and credit PDF page locators are stored with each imported passage.Source
- zabur-e-ajam: published English translation by بشیر احمد — Published digital poem page (xw80six8.json); retrieved 2026-10-05.Translation by بشیر احمد; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- zabur-e-ajam: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (xw80six8.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
