تمہید
English title: Introduction
The old ardour has disappeared from the life of the East; its breath wavered and soul left its body;
اہل مشرق کے دلوں سے وہ پرانا سوز باقی نہیں رہا ۔ ان کی سانسیں تھک گئیں ان کے جسم سے جان نکل گئی ۔
Like a picture without the chain of breath and does not know what the taste of life is.
اس تصویر کی مانند جو نفس کے تار کے بغیر زندہ ہے اہلِ مشرق بھی زندگی کے ذوق سے بے خبر ہیں ۔ (اہل مشرق مسلمان زندہ ہونے کے باوجود مردہ ہیں ) ۔
Its heart lost desire and craving, its flute ceased to produce notes.
اہل مشرق کا دل ترقی کی آرزو سے بیگانہ ہو گیا ۔ ان کی زندگی کی بانسری گیتوں سے محروم ہو گئی ہے ۔
I am expressing my ideas in a different form, and writing in reply to the book of Mahmud.
میں نے ایک اور انداز سے اپنا مقصد بیان کیا ہے ۔ میں نے محمود شبستری کے خط کا یعنی ان کی کتاب گلشن راز کا جدید انداز سے جواب تحریر کیا ہے ۔
Since the time of the Shaikh, no man has given the sparks of fire to our life.
شیخ محمود شبستری کے دور سے لے کر اس زمانے تک کسی مردِ کامل نے ہماری جان میں کوئی چنگاری سوزِ عشق نہیں پھینکی ۔
We lay on the earth with shrouds around our bodies, and did not experience a single resurrection.
پہلو میں کفن لیے ہم تو مٹی میں پڑے ہوئے سو رہے مردوں جیسی زندگی بسر کر تے رہے لیکن اس مدت کے دوران ہم نے تو قیامت کا کوئی ہنگامہ نہیں دیکھا (مسلمانوں کی زندگی میں کوئی انقلابی تبدیلی رونما نہیں ہوئی) ۔
That wise man of Tabriz witnessed before his eyes calamities that resulted from the invasion of Genghis.
تبریز کے رہنے والے اس دانشمند شیخ محمود شبستری کے سامنے سے وہ تمام قیامتیں گزریں ہیں جو منگولیا سے اٹھنے والے طوفان چنگیز خان کی غارت گری سے پیدا ہوئیں ۔
I saw a revolution of another type: Appearance of a new sun.
لیکن میری نگاہ نے ایک طرح کا انقلاب دیکھا ہے ایک اور ہی انداز کے سورج کا طلوع دیکھا ہے ۔ اہل مغرب کی غارت گر تہذیب چنگیز خان کی تباہی سے زیادہ خطرناک ہے ۔ میں نے مغربی افکار کی تاریکی دور کرنے کے لیے اپنی شاعری کا انتخاب کیا ہے ۔
I removed veil from the face of meaning, and gave sun in the hands of a mote.
میں نے مغربی تہذیب کے چہرے سے نقاب ہٹا دیا ۔ لوگوں (اہل مشرق) کو حقیقتِ حال سے باخبر کر دیا ہے ۔ میں نے ذرہ کے ہاتھ میں سورج کا جام دے دیا(کمزوروں کو درسِ ہمت دیا) ۔
Don’t you think I am intoxicated without wine, and spin tales likes poets.
تو یہ نہ سمجھ کہ میں شرابِ حقیقت پئے بغیر ہی مستی میں ڈوبا ہوا ہوں ۔ جو کچھ کہتا ہوں اس پر عمل نہیں کرتا ۔ یہ بھی خیال نہ کر میں نے عام شاعروں کی طرح خیال پرستی پھیلائی ہے (بلکہ میں نے حقیقت نگاری کی ہے) ۔
You will see no good from a low person, who accuses me of being a poet.
اس کمینے آدمی سے تو خیر کی امید نہ رکھ کی جس نے مجھ پر شعر و سخن کی تہمت لگائی ہے ( میں نے شاعری کو پیغامِ حقیقت پہنچانے کا ذریعہ بنایا ہے )
I have nothing to do with the street of the beloved, and do not have a grief-stricken heart nor a longing for the beloved;
میرا معشوقوں کی گلی سے کوئی کام نہیں ہے ۔ میں ان عامیانہ شاعروں کی طرح نحیف و نزار دل نہیں رکھتا اور نہ ہی مجھے کسی دوست کا غم ہے (میری شاعری عشق و محبت کے روایاتی خیالات سے پا ک ہے) ۔
Neither is my earth the dust of a street, nor is within my clay a heart without self-control.
نہ عام شاعروں کی طرح میری مٹی کسی کے راستہ کی غبار ہے ۔ میں کوچہَ محبوب کے چکر نہیں لگاتا اور نہ میری مٹی میں غمِ محبوب کے لیے تڑپنے والا دل ہے ۔
My mission in life is in line with Gabriel the Truthful; I have neither a rival, nor a messenger, nor a porter.
میں عام شاعروں کی طرح زمینی سوچ نہیں رکھتا میں تو خدا کے مقرب فرشتے جبریل امین کا ہم زبان ہوں ۔ پاکیزہ شاعری کرتا ہوں ۔ اور عام شاعروں کی طرح رقیب، قاصد، دربان جیسی اصطلاحات نہیں جانتا ۔
Though a mendicant, I have the wherewithal of Moses: Kingly pomp under a beggar’s garment.
میری شاعری میں فقر حضرت موسیٰ کلیم اللہ کی عظمت کے ساز و سامان کے ساتھ موجود ہے ۔ اس شاعری کو پڑھنے کے بعد تجھے دنیا کی بادشاہی کی شان و شوکت اس بوریا نشین کے قدموں تلے نظر آئے گی ۔ اور تجھے خدا سے ہم کلام ہونے کے راز بھی بتائے گی ۔
If I am earth, desert cannot contain me; if water, river cannot encompass me.
اگر میں مٹی ہوں تو وہ مٹی ہوں جو صحرا میں نہیں سما سکتی ۔ اگر میں پانی ہوں تو وہ پانی ہوں جو دریاؤں میں بھی نہیں سما سکتا ۔ ان دونوں سے میں الگ ہوں ۔
The heart of a stone trembles at my glass, the ocean of my thought is without a shore.
میرے شیشے سے پتھر کا دل بھی خوفزدہ ہے اور میرے افکار کے سمندر کا کوئی کنارہ نہیں ۔
Behind my curtain lie concealed several destinies, and several resurrections take birth at my hand.
میرے پردے میں مقدر پوشیدہ ہیں ، اور قیامتیں میری آغوش میں پرورش پاتی ہیں ۔
For a moment I retired unto myself, I created an immortal world.
میں نے ایک لمحے کے لیے دنیا سے الگ ہو کر اپنے آپ پر غور کیا تو ایک لازوال جہان پیدا کر لیا (اب انہی افکار کو صفحہَ ہستی قرطاس پر لکھ رہا ہوں ) ۔
‘I am not ashamed of such poetry, for in a hundred years an Attar might not appear.’
مجھے عامیانہ شاعری کے برعکس مقصدیت سے بھرپور شاعری کرتے ہوئے شرم محسوس نہیں ہوتی ۔ کہ خواجہ فرید الدین عطار جیسا عارف شاعر صدیوں بعد ہی پیدا ہوتا ہے ۔
A battle of life and death is being waged in my soul; my eye is riveted on immortal life.
اب حالت یہ ہے کہ میری جان موت و حیات کی کشمکش جاری رہتی ہے اور میری نگاہ ہمیشہ قائم رہنے والی زندگی پر جمی رہتی ہے ۔
I saw your clay stranger to life, hence I breathed into your body of my own soul.
میں نے تیری مٹی (خاکی بدن) کو جان سے بیگانہ دیکھا ۔ اس لیے کہ میں نے تیرے جسم میں اپنی شاعری کے ذریعے جان پیدا کر دی ہے ۔ زندگی کی صحیح حقیقتوں سے روشناس کرا دیا ہے) ۔
I am wholly affected by the fire that I possess: Illumine the darkness of your night by my lamp.
اس آگ (عشق الہٰی ) سے جو میں دل میں رکھتا ہوں میں داغ داغ ہو چکا ہوں ۔ تو بھی اپنی رات میرے چراغ ِ عشق سے منور کر لے ۔
Heart was sown into the soil of my body like a seed, a different destiny was written on my tablet:
(کارکنان قضا و قدر) نے میری مٹی میں دانہ کی طرح یہ دل بویا ہے ۔ اور میری تختی پر نئے انداز کا خط تحریر کیا (مجھے دوسروں سے الگ اور منفرد بنایا ہے ۔ )
To me the ideal of khudi is sweet as honey. What else can I do? My whole stock consists of this experience.
میرے لیے خودی کا کیف و سرور شہد کی لذت کی طرح ہے ۔ میں کیا کہوں کہ میری وارداتِ قلب ہی ایسی ہے ۔
First I tasted the fruit of this experience myself, then I decided to share it with the people of the East.
اس خودی کے کیف کو پہلے میں نے خود آزمایا، پھر اہلِ مشرق کو بتایا کہ وہ بھی خودی آشنا ہو کر اپنی تقدیر بدل لیں ۔
If Gabriel were to go through this book, he would cast aside the pure \[Divine\] Light as if it were dust;
اگر یہ خط جبریل جیسا مقرب اور نورانی فرشتہ پڑھ لے تو وہ اپنے نورانی جسم کو چھوڑ کر جسم خاکی اختیار کر لے ۔ میری شاعری فرشتوں کو بھی عشقِ الہٰی سکھاتی ہے ۔
He would bewail about his \[low\] station, and relate to God the condition of his heart:
وہ جبریل اپنے نورانی مگر سوز و گداز کے بغیر مقام پر نالہ و فریاد کر رہا ہے اور خدا کو اپنے دل کا حال اس طرح بیان کر رہا ہے ۔
‘I no longer desire unveiled Epiphany; I desire nothing but hidden heart-sore.
میں تیرے جلووں کو اس طرح بے پردہ دیکھنا نہیں چاہتا ۔ میں کچھ نہیں چاہتا سوائے اپنے اندر کے پوشیدہ غم کے ۔ (ہر وقت کے دیدار اور جلووں نے میرے دل سے سوز و گداز کی لذت نکال لی ہے ۔ عشق کی لذت سے آشنا کرنے کے لیے مجھے خاکی جسم عطا کر دے تاکہ میں بھی فراق کی ٹیسیں محسوس کر سکوں ) ۔
I am ready to forego eternal union, for now I realize what sweetness is in lamentation!
اے خدا! میں نے تیرے ہمیشہ کے وصال کو ترک کیا ۔ تاکہ میں تیرے فراق میں پیدا ہونے والی آہ و فغاں کی لذت حاصل کر لوں ۔
Give me the pride and submissiveness of man, give unto my heart burning and consuming of man.’
مجھے آدم کا ناز و نیاز عطا کر دے ۔ میری جان میں آدم کا گداز (کیفیت عشق) پیدا کر دے ۔ تا کہ میں بھی معشوق کے حضور عاجزی کا کیف و سرور پا سکوں ۔
Sources and translator credits
- Original text transcription: Zabur-e-Ajam — تمہید — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Zabur-e-Ajam — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- zabur-e-ajam: published English translation by بشیر احمد — Published digital poem page (xw80six8.json); retrieved 2026-10-05.Translation by بشیر احمد; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- zabur-e-ajam: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (xw80six8.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
