جہان کورست و از آئینۂ دل غافل افتاد است
English title: The world had lost its sight
The world had lost its sight. And the glass of the heart forsook, | But an eye now sees the light. That into the heart can look.
یہ جہان اندھا ہے اور دل کے آئینے کی صفائی سے غفلت میں پڑا ہوا ہے (اس دل کے آئینے میں نہ صرف خارجی جہاں کا عکس موجود ہے بلکہ معرفت حق بھی جلوہ گر ہو سکتی ہے) لیکن جہان کی توجہ تو خارجی اسباب پر ہے اور جو آنکھ کہ باطن کو دیکھنے والی بن گئی اسے معلوم ہو گیا کہ دل کیا چیز ہے ۔
Dark is the night, twists the road, All faithless the wayfarers; | And the caravan’s guide what load. Of problems oppressive bears!
اندھیری رات ہے اور راستہ پیچیدہ ہے اور اس راستہ پر چلنے والا دورِ حاضر کا مسلمان یقین کی دولت سے محروم ہے ۔ امیرِ کارواں کے لیے ایسے بے یقین مسافر کو پیچیدہ راستوں سے منزلِ مقصود تک لے جانا بہت مشکل ہے ۔
Drunk are the feckless spy, The lover, the messenger; | So the words of the sweethearts lie. In how many loads to wear.
ناقص عشق والا رقیب مست ہے، عاشق مست ہے ۔ اور قاصد بھی مستی کی کیفیت میں ہے یہ تینوں اس لیے مست ہیں کہ مجبوریوں کی تحریر کئی کجاوے رکھتی ہے ۔ کئی پہلو رکھتی ہے ہر کوئی محبوب کی بات سے اپنے مطلب کی بات نکال رہا ہے اور اسی میں مست ہے ۔
Its faith of believer true, Its doubt of the infidel– | O Muslims, what shall I do. With the heart that in me doth dwell?
(دورِ جدید کی تہذیب، ثقافت اور علم و دانش کی وجہ سے ) میرا دل کبھی مومن کی طرح پختہ ایمان رکھتا ہے اور کبھی کافر کی طرح بے یقینی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ اے مسلمانو مجھے بتاوَ میں کیا تدبیر کروں کہ بے یقینی کی حالت سے نکل کر تمہارے جیسا بن جاؤں کیونکہ میرا واسطہ ایسے دل سے آ پڑا ہے جو بے یقینی کا شکار ہے ۔
Sometimes the helmsman’s skill. The storm doth display, and more! | Lo, the waves, impetuous will. Hath cast our craft on the shore.
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ طوفان بھی کشتی کو ساحل تک پہنچانے کا کام کر دیتا ہے کہ سمندر کی لہروں کے ایک تلاطم نے میری کشتی کو بھی ساحل پر پھینک دیا ہے ۔ بعض اوقات ناموافق حالات سے بھی زندگی سنور جاتی ہے ۔
Who fashioned these seeing eyes In the wave, far in ocean lost, | That the pearl in the sea’s heart lies, And the potsherd breaks on the coast?
میں اس بات سے بے خبر ہوں کہ دریا کی موجوں کو چشم بینا پرکھنے والی آنکھ کس نے بخشی ہے کہ موتیوں کو تو بحفاظت اپنی تہ میں رکھتی ہے اور ٹھیکریوں کو کنارے پر پھینک دیتی ہے (دنیا کی ہر چیز فطرت کے احکامات کے تحت کام کر رہی ہے) ۔
No part of my soul’s unrest. Hath stirred in my Native land; | With my magic I tried my best, It was lost on the desert sand.
میرے اندر جو سوزِ عشق موجود ہے وہ میری کھیتی (میرے مخاطب لوگوں کو) نصیب میں نہیں ۔ (عوام الناس نے میرے پیغام کو بے کار سمجھا ہے ۔ ) میں نے صحرا کی مٹی میں اکسیر کا کام کیا (اپنے پیغام کا بیج بویا لیکن سب بے کار گیا ۔
If a New World thou hast. In thy bosom, declare thy faith! | Wounded in heart and breast, Europe is nigh to death.
اگر تیرے دل میں کوئی نیا جہان ہے (نئے افکار و خیالات ) ہیں تو ان سے کوئی ایسا علاج دریافت کر جو عہد حاضر کا زخم خوردہ لوگوں کے زخموں کا مداوا کر سکے ۔ کیونکہ اہلِ یورپ کے پاس ان کا کوئی علاج نہیں ۔ وہ تو خود زخمی پڑے ہیں (یورپ نے مختلف نظام ہائے زندگی کو آزما لیا ہے ۔ اب تیرے مسلمان کے پاس ہی وہ حتمی علاج موجود ہے ۔ وہ ساری دنیا کو عطا کر دے ۔
Sources and translator credits
- Original text transcription: Zabur-e-Ajam — جہان کورست و از آئینۂ دل غافل افتاد است — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Zabur-e-Ajam — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- Persian Psalms: English translations in the digital anthology excerpt — Recovered Persian poetry anthology PDF excerpt; publication title and year are not established by the preserved source packet (zabur-english.pdf, 54 PDF pages).Translation by A.J. Arberry; Passages are individually credited in the recovered PDF as “Translated by A.J. Arberry”; exact source and credit PDF page locators are stored with each imported passage.Source
- zabur-e-ajam: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (1qabhk8n.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
