به این بهانه درین بزم محرمی جویم
This is my way of finding in this company a confidant: I sing ghazals and through them I convey the message of my Friend.
میں اس بہانے سے محفل میں کوئی اپنا محرم ڈھونڈتا ہوں ۔ غزل چھیڑ کے دوست کا پیغام سناتا ہوں ۔
In that peculiar privacy where speech acts as a veil I let my heart speak in the language of the eyes.
اس خلوت میں جہاں سخن حجاب بن جاتا ہے میں دل کی بات نگاہ کی زبان سے کہتا ہوں ۔
In order to cleanse it and make it fit to see Your face, I wash my sight with tears.
تیرے چہرے پر پڑنے کے لیے اسے پاک کر رہا ہوں نگاہ شوق کو آنسووَں کی ندی میں دھو رہا ہوں ۔
Though my affairs are tied up in a knot, just like a bud, I grow with a bud’s eagerness to witness the sun’s glory.
اگرچہ کلی کی طرح میرے کام میں گرہ پڑی ہوئی ہے مگر سورج کی جلوہ گاہ کی چاہ مجھے کھینچتی ہے (جدوجہد کے بغیر کوئی سالک کامیاب نہیں ہو سکتا اگر راہ میں دشواری پیدا ہو جائے تو سالک کو ہمت سے کام لینا چاہیے) ۔
My being is a wave, which fears no flood. Do not think that I seek a shore while swimming in the sea of life.
موج کی طرح میرے وجود کی بنت ایک بے پرواہ طغیانی سے ہے یہ گمان مت کر کہ میں اس سمندر میں کسی ساحل کا متلاشی ہوں ۔
He is to me what sight is to the eye. Even at the farthest remove I always am with Him.
اس کے اور میرے بیچ اور نظر کا تعلق ہے (یعنی نظر آنکھ میں رہتی ہے) کہ انتہائی دوری میں بھی اس کے ساتھ رہتا ہوں ۔ (وہ ہر جگہ موجود ہے) نحن اقرب الیہ من حبل الورید ، ترجمہ: ہم انسان سے اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔
He painted on my eye’s screen the picture of a world. It is as if I were under a magic-maker’s spell.
میری آنکھ کے پردے پر اس نے ایک اور ہی دنیا کی تصویر کھینچ دی ہے ۔ میں ایک شعبدہ باز کے ہاتھوں جادو میں گرفتار ہوں (مطلب یہ کہ کائنات کا وجود حقیقی نہیں ہے بلکہ فریب ہے کائنات دکھائی تو دیتی ہے لیکن دراصل موجود نہیں ہے ۔
Its dome with its doors shut cannot contain me. I am a thorn in the side of this ancient sky.
میں اس کے بند گنبد میں نہیں سماتا ۔ میں اس بوڑھے آسمان کے پہلو میں خار کی طرح کھٹکتا ہوں ۔ نوٹ: اقبال کا فلسفہ یہ ہے کہ مومن اس کائنات میں نہیں سما سکتا کیونکہ وہ زمان و مکان سے بالاتر ہوتا ہے ۔ وہ آسمان کے پہلو میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے وہ طلسم زمان و مکان کو باطل کر سکتا ہے یعنی مومن میں یہ طاقت ہے کہ وہ اس کائنات کو مسخر کر سکتا ہے ۔
The joy of being on the wing will not let me rest in my nest. One moment on a tree branch, the next I am on the stream’s brink.
پرواز کا مزہ مجھے آشیانے میں نہیں بیٹھنے دیتا کبھی پھولوں کی ٹہنی پر ہوں کبھی ندی کے کنارے پر ۔ (مومن، عاشق) کو کسی لمحہ قرار نہیں ہوتا وہ ایک حالت میں زندگی بسر نہیں کر سکتا ۔ اس کی زندگی میں ہر وقت انقلاب رونما ہوتا رہتا ہے ۔
Sources and translator credits
- Original Persian transcription: به این بهانه درین بزم محرمی جویم — Pinned Ganjoor data commit a64968e78425b2e8c7904fbdf5289fba8251a757; the underlying printed edition is not identified by the export.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- payam-e-mashriq: published English translation by ہادی حسین — Published digital poem page (qa16s8q5.json); retrieved 2026-10-05.Translation by ہادی حسین; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- payam-e-mashriq: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (qa16s8q5.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
