حضور
English title: THE DIVINE PRESENCE
Published English translations cover only part of this poem.
Published Urdu translations cover some, but not all, Persian verses in this poem.
We are veiled from our Origin; we are as birds who have lost our nest.
ہم اپنی اصل کے لحاظ سے پردے میں ہیں ۔ ہم پرندے ہیں اور اپنا گھونسلا گم کر چکے ہیں ۔
If knowledge is perverse and evil of substance it is the greatest curtain before our eyes;
علم اگر کج فطرت اور بدگوہر ہو تو وہ علم ہماری آنکھوں کے سامنے بڑا حجاب بن جاتا ہے ۔
But if the object of knowledge is contemplation it becomes at once the highway and the guide,
اگر علم کا مقصود ایسی نظر پیدا کرنا ہے جو راہ بیں ، خدا بیں اور خود بیں ہو تو وہ علم خود ہی راستہ بھی ہے اور خود ہی راہبر بھی ہے ۔
Laying bare before you the shell of being that you may ask, ‘What is the secret of this display?’
ایسا علم تیرے سامنے وجود کا چھلکا رکھتا ہے تاکہ تو یہ پوچھے کہ اس نمود کا راز کیا ہے ۔
Thus it is that knowledge smoothes the road, thus it is that it awakens desire;
ایسا علم راستے کو اس طرح ہموار کر دیتا ہے اور شوق کو اس طرح بیدار کر دیتا ہے ۔
It gives you pain and anguish, fire and fever, it gives you mid-night lamentations.
وہ تجھے عشق کا درد، داغ، حرارت اور تڑپ عطا کرتا ہے ۔ تجھے آدھی رات کا رونا عطا کرتا ہے ۔
From the science of the interpretation of the world of colour and scent your eyes and your heart derive nourishment;
ایسا علم اس جہان رنگ و بو کی تفسیر ہے، یعنی اس کائنات کی وضاحت کرتا ہے ۔ جس سے دیدہ و دل کی پرورش ہوتی ہے ۔
It brings you to the stage of ecstasy and yearning and then suffers you like Gabriel to stand.
وہ علم تجھے جذب و شوق کے مقام پر لاتا ہے اور پھر تجھے جبرئیل کی طرح چھوڑ دیتا ہے ۔
How shall love bring any soul to the Solitude, seeing love is jealous of its own eyes?
عشق کسی کو خلوت میں کب لے جاتا ہے ۔ وہ تو اپنی نظر سے بھی غیرت کھاتا ہے ۔
Its beginning is the road and the companion, its end, travelling the road without companion.
ابتدا عشق میں تو رفیق (ساتھی) بھی ہے اور طریق بھی مگر اس کا آخر رفیق کے بغیر راستہ طے کرنا ہے ۔
I passed on from all the houris and places and hazarded the soul’s skiff on the sea of light.
میں نے سب حوروں اور محلوں کو پیچھے چھوڑ دیا اور اپنی جان کی کشتی نور کے سمندر میں بہا دی (حضور حق کی طرف رخ کیا ) ۔
I was drowned in the contemplation of Beauty, which is constantly in eternal revolution;
میں محبوب کے جمال کے نظارے میں مست ہو گیا ۔ وہ جمال لا یزال ہر لمحہ بدلنے کے باوجود زوال پذیر نہیں ہوتا تھا ۔
I became lost in the heart of creation till life appeared to me like a rebeck
میں کائنات کے ضمیر میں کھو گیا، غرق ہو گیا اور میری نگاہوں کو زندگی رباب کی مانند نظر آئی ۔
Whose every string was another lute, each melody more blood-drenched than the other.
وہ رباب کہ جس کا ہر تار ایک نیا رباب تھا اس کا ہر نغمہ پہلے نغمہ سے زیادہ خونیں تر تھا ۔
We are all one family of fire and light, man, sun and moon, Gabriel and houri.
ہم سب آگ اور نور کے ایک ہی خاندان سے ہیں ۔ ہم سب یعنی آدم اور سورج اور چاند اور جبرئیل اور حور بھی ۔
Before the soul a mirror has been hung, bewilderment mingled with certainty;
میری جان کے سامنے آئینہ لٹکا دیا گیا اور میری حیرت کو یقین کے ساتھ ملا دیا گیا ۔
Today’s dawn, whose light is manifest, in His Presence is yesterday and tomorrow ever present.
میں نے دیکھا کہ آج کی صبح کہ جس کا نور ظاہر ہے ، اس ذات کے حضور گزری ہوئی کل اور آنے والی کل کی صبح حاضر ہے ۔
God revealed in all His mysteries, with my eyes makes vision of Himself.
یہاں حق اپنے تمام اسرار کے ساتھ ظاہر تھا ۔ جہاں وہ میری نگاہ سے اپنا دیدار کر رہا تھا ۔
To see Him is to wax ever without waning, to see Him is to rise from the body’s tomb;
اس کا دیکھنا کم ہونے کے بغیر بڑھنا ہے، اس کا دیکھنا (جمال حق کا مشاہدہ کرنا) بدن کی قبر سے اٹھنا ہے ۔
Servant and Master lying in wait on one another, each impatiently yearning to behold the other.
بندہ و مولا دونوں ایک دوسرے کی تلاش میں ہیں اور دونوں ذوق نظر کے سبب بیقرار ہیں ۔
Life, wherever it may be, is a restless search; unresolved is this riddle-am I the quarry, or is He?
زندگی جہاں بھی ہے وہ تلاش و جستجو میں مصروف ہے ۔ یہ نکتہ حل نہیں ہوا کہ میں شکار ہوں یا وہ شکار ہے ۔
Love gave my soul the delight of beholding, gave my tongue the boldness to speak:
عشق نے جاں کو دیدار کی لذت بخشی اورمیری زبان کو بات کرنے کی جرات بھی عطا کی ۔
Thou who givest light and vision to both worlds, look a little while on yonder ball of clay.
اے (ذات کریم) کہ دونوں جہان تیری وجہ سے نور اور نظر والے ہیں ، ذرا اس خاکدان (مادی دنیا) کو بھی دیکھ ۔
Uncongenial to the free servitor, from its hyacinths springs the sting of thorns.
یہ آزاد بندے کے لیے سازگار نہیں ہیں ، اس کے گل سنبل سے کانٹے کا زخم پیدا ہوتا ہے ۔
The victors are drowned in pleasure and enjoyment, the vanquished have only to count the days and nights.
غالب لوگ تو عیش و عشرت میں غرق ہیں اور مغلوب (کمزور) گن گن کر دن رات گزارتے ہیں ۔
Thy world has been wasted by imperialism, dark night ravelled in the sleeve of the sun.
ملوکیت نے تیرا جہان برباد کر دیا ہے اور اس کے آفتاب کی آستین میں تاریک رات چھپی ہے ۔
The science of Westerners is spoliation; the temples have turned to Khaibar, without a Haidar.
انگریزوں کی دانش غارت گری ہے ۔ بے حیدری (حضرت علی حیدر جیسی شخصیت دلیر کے بغیر) کے باعث بت کدے خیبر بن گئے ہیں ۔
He who proclaims ‘No god but God’ is helpless; his thought, having no centre, wanders astray,
وہ جو (مسلمان) لا الہ کہتا ہے وہ بیچارہ ہے جس کا فکر بے مرکزی آوارہ ہو چکا ہے ۔
Slowly dying, pursued by four deaths – the usurer, the governor, the mullah, the shaikh.
مشکل سے مرنے والے سخت جاں اس مسلمان کی گھات میں یہ چارا موات لگی ہوئی ہیں سود خوار اور حاکم اور ملا اور پیر ۔
How is such a world worthy of Thee? Water and clay are a stain upon Thy skirt.’
اس قسم کا جہان (اے خدا) تیری شان کے لائق نہیں ہے ۔ یہ پانی اور مٹی کا جہان تیرے دامن پر ایک داغ بن چکا ہے ۔
ندای جمال
The Pen of God such images fair and foul wrote exactly as became each one of us.
حق کے قلم نے اچھے اور برے نقش میں سے جو بھی ہمارے موافق تھا وہ لکھ دیا ۔
Noble sir, do you know what it is, to be? It is to take one’s share of the beauty of God’s Essence.
اے مرد نجیب! کیا تو جانتا ہے کہ زندہ رہنا کیا ہے وہ ذات حق کے جمال سے نصیب حاصل کرنا ہے ۔
Creating? It is to search for a beloved, to display one’s self to another being.
تخلیق کرنا کیا ہے دلبر کی تلاش ہے اور اپنی ذات کو کسی دوسرے پر ظاہر کرنا ہے ۔
All these tumultuous riots of being without our beauty could not come to exist.
زندگی اور عدم ، نیستی کے جتنے بھی ہنگامے ہیں وہ ہمارے جمال کے بغیر وجود میں نہیں آتے ۔
Life is both transient and everlasting; all this is creativity and vehement desire.
زندگی فانی بھی ہے اور بقا والی بھی ہے ۔ یہ سب عمل تخلیق اور ذوق عشق کو بقا والی یعنی حیات بن سکتے ہو ۔
Are you alive? Be vehement, be creative; like Us, embrace all horizons;
اگر تو زندہ ہے تو پھر مشتاق بن اور جس طرح میں نے اپنی تجلی سے کائنات کی ہر شے تخلیق کی ہے تو بھی اسی طرح ہر شے کا خالق بن جا اور اپنے اس عمل سے ہماری طرح آفاق کا احاطہ کر لے ۔
Break whatsoever is uncongenial, out of your heart’s heart produce a new world;
جو تیرے موافق حال نہیں ہے تو اسے توڑ دے اور اپنے ضمیر سے ایک نئی دنیا وجود میں لا ۔
It is irksome to the free servitor to live in a world belonging to others.
آزاد بندے کو دوسروں کے جہان میں زندگی بسر کرنا گراں گزرتا ہے ۔
Whoever possesses not the power to create in Our sight is naught but an infidel, a heathen;
جس کے اندر قوت تخلیق نہیں ہے ، ہمار ے سامنے کافر اور زندیق کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔
Such a one has not taken his share of Our Beauty, has not tasted the fruit of the Tree of Life.
جس نے ہمارے جمال سے اپنا حصہ نہ پایا اس نے حقیقی زندگی کے درخت سے پھل نہ کھایا ۔
Man of God, be trenchant as a sword, be yourself your own world’s destiny!
اے مرد حق تو تلوار کی طرح کاٹنے والا بن، ہر تیز رہ اور اپنے جہان کی تقدیر خود ہی بن ۔
زندہ رود
What law governs the world of colour and scent, but that water once flowed returns not to the stream?
اس جہان رنگ و بو کا آئین کیا ہے ۔ صرف یہ ہے کہ گزرا ہوا پانی واپس ندی میں نہیں آتا، یعنی گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا ۔
Life has no desire for repetition; its nature is not habituated to repetition;
زندگی میں تو تکرار کی بات یہ نہیں ہے، اس کی فطرت تو تکرار کی عادی ہی نہیں ہے ۔
Beneath the sky, reversion is unlawful to life once a people has fallen, it rises not again.
آسمان کے نیچے یعنی اس دنیا میں اس کا واپس آنا، اس زندگی کے لیے نامناسب ہے ۔ ایک قوم جب پاؤں سے گر جاتی ہے تو پھر وہ دوبارہ نہیں اٹھتی ۔
When a nation dies, it rarely rises from the grave; what recourse has it, but the tomb and resignation?
جب کوئی قوم مرجاتی ہے تو وہ قبر سے نہیں اٹھتی ۔ اس کا چارہ قبر اورصبر کے سوا اور کیا ہے ۔
ندای جمال
Life is not a mere repetition of the breath; its origin is from the Living, Eternal God.
زندگی سانسوں کے بار بار آنے کا نام نہیں ہے ۔ اس کی اصل تو حی و قیوم سے ہے ۔
The soul near to Him who said ‘Lo, I am nigh’ – that is to take one’s share of everlasting life.
اس ذات حق سے قرب پیدا کرنا جس کا فرمان ہے کہ اے بندے میں تیرے قریب ہوں ہمیشہ کی زندگی ، حیات جاوید پانا ہے ۔
The individual through the Unity becomes Divine, the nation through the Unity becomes Omnipotent;
ایک فرد توحید لاہوتی ہو جاتا ہے جب کہ توحید پر ایمان کے باعث ایک قوم جبروتی ہو جاتی ہے ۔ مراد آدمی اپنے اندر خدائی صفات پیدا کر کے ان صفات کا مظہر بنتا ہے ۔ اسی کے سبب ایک قوم غالب و حکمران بن جاتی ہے ۔
Unity produced Ba Yazid, Shibli, Bu Dharr, Unity produced, for the nations, Tughril and Sanjar.
اسی (اللہ تعالیٰ کے قرب سے ) بایزید اور شبلی اور ابوذرغفاری جیسے اصحاب کرام پیدا ہوئے ہیں ۔ قوموں کے لیے طغرل اور سنجر جیسے حکمران اسی ایمان کی وجہ سے وجود میں آئے ۔
Without the Divine Epiphany man has no permanence; Our Manifestation is life to individual and nation;
تجلی کے بغیر آدم کو ثبات نہیں ہے ۔ اور ہمارا (خدا کا ) جلوہ ہی فرد اور قوم کو زندگی بخشتا ہے ۔
Both attain their perfection through the Unity, life being for the latter Majesty, for the former Beauty.
دونوں (فرد اور ملت) توحید ہی سے کامل ہوپاتے ہیں ۔ اسی (ملت) کے لیے زندگی جلال اور اس فرد کے لیے جمال ہے ۔
The one is of Solomon, the other of Salman, the one perfect poverty, the other all power:
یہ (جلال) خدا پسند بادشاہت ہے جب کہ وہ (جمال) خدا پسند فقر ہے ۔ وہ سراسر فقر ہے اور یہ سلطانی ہے ۔ (سلیمانی اشارہ ہے حضرت سلیمان کی طرف جو پیغمبر بھی تھے اور بادشاہ بھی، سلمانی اشارہ ہے حضرت سلمان فارسی کی طرف جو حضور اکرم کے درویش صحابی تھے) ۔
The one sees there is One, the other becomes one – while in the world, sit with the former, live with the latter!
وہ (فرد) ایک کو دیکھتا ہے توحید پر ایمان رکھتا ہے تو یہ اس بنا پر ایک متفق و متحد قوم بن جاتی ہے ۔ دنیا میں تو تو حید پر ایمان رکھنے والوں کے ساتھ محبت رکھ اور اس متحدہ قوم کے ساتھ زندگی بسر کر جو ہر طرح کے نسب و نسل، زبان و وطن وغیرہ کے اختلاف کے باوجود ایک ہی قوم ہے ۔
What is the nation, you who declare ‘No god but God’? With thousands of eyes, to be one in vision.
اے (کلمہ گو مسلمان ) لا الہ کہنے والے کیا تو جانتا ہے کہ ملت کیا ہے، یہ ہزاروں آنکھوں کے ساتھ ایک ہی نگاہ کا پیدا ہونا ہے ۔
The proof and claim of God’s people are always One: ‘Our tents are apart, our hearts are one.’
اہل حق کی دلیل اور دعویٰ ایک ہے ۔ ہمارے خیمے الگ الگ ہیں لیکن دل ایک ہے ۔
Oneness of vision converts the motes to the sun; be one of vision, that God may be seen unveiled.
ایک نگاہ ہونے کے سبب ذرے آفتاب بن جاتے ہیں ۔ تو بھی یک نگاہ ہو جا تاکہ حق تعالیٰ کو بے حجاب دیکھ سکے ۔
Do not look slightingly on oneness of vision; this is a true epiphany of the Unity.
تو یک نگاہی کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھ ۔ یہ بھی توحید کی تجلیوں میں سے ایک تجلی ہے ۔
When a nation becomes drunk with the Unity power, yea, omnipotence lies in its grasp.
جب کوئی ملت توحید میں مست ہوجاتی ہے تو وہ قوت و جبروت کی مالک بن جاتی ہے ۔
A nation’s spirit exists through association; a nation’s spirit has no need of a body.
ملت کی روح کا وجود انجمن سے ہے ۔ ملت کی روح بدن کی محتاج نہیں ہے ۔
Since its being manifests out of companionship, it dies when the bands of companionship are broken.
چونکہ اس کے وجود کی نمود باہمی مل بیٹھنا سے ربط باہم ہے ۔ اس لیے جب اس ملت کی صحبت کا شیرازہ بکھر گیا تو وہ قوم مر جاتی ہے ۔
Are you dead? Become living through oneness of vision; cease to be centreless, become stable.
کیا تو مردہ ہے اگر ایسا ہے تو یک نگاہی سے زندہ ہو جا ۔ بے مرکزی سے گزر جا اور صاحب بقا بن جا ۔
Create unity of thought and action, that you may possess authority in the world.
افکار اور کردار کی وحدت پیدا کر تا کہ تو دنیا میں حکمران بن جائے ۔
زندہ رود
Who am I? Who art Thou? Where is the world? Why is there a distance between me and Thee?
میں کون ہوں ، تو کون ہے میرے اور آپ کے درمیان دوری کس لیے ہے
Say, why am I in the bonds of destiny? Why dost Thou die not, whilst I die?
فرمائیے کہ میں تقدیر کی زنجیر میں کیوں قید ہوں ۔ توتو مرتا نہیں لیکن میں کیوں مرتا ہوں اس سلسلے میں کچھ فرمائیے ۔
ندای جمال
You have been in the world dimensionate, and any contained therein, therein dies.
تو اس چار طرفوں والی دنیا میں رہا ہے ۔ جو کوئی اس میں گم ہو جاتا ہے وہ اس میں مرجاتا ہے ۔ بقول علامہ کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق
If you seek life, advance your selfhood; drown the world’s dimensions in your self.
اگر تو زندگی (حیات جاوید) چاہتا ہے تو خودی اختیار کر اور اس جہان چار سو کو اپنے اندر غرق کر لے ۔
You shall then behold who am and who you are how you died in the world, and how you lived.
جب تجھے معرفت حاصل ہو جائے گی پھر تو دیکھ لے گا، کہ میں کون ہوں اور تو کون ہے اور تو آگاہ ہو جائے گا کہ تو دنیا میں کیسے مرا اور کس طرح زندہ رہا، کس طرح زندگی بسر کی ۔
زندہ رود
Accept the excuses of this ignorant man; remove the veil from the face of destiny.
اس (مجھ) مرد ناداں کی معذرت قبول کر اور تقدیر کے چہرے سے پردہ اٹھا دے کہ تقدیر کیا ہے
I have seen the revolution of Russia and Germany; I have seen the tumult raging in Moslemdom,
میں نے روس اور جرمنی کا انقلاب دیکھا ہے، میں نے مسلمان کی جان میں بھی شور دیکھا ہے ۔
I have seen the contrivings of West and East – prevent the destinies of West and East.
میں نے مغرب و مشرق کی تدابیر بھی دیکھی ہیں ، مجھ پر مغرب و مشرق کی تقدیر بھی ظاہر فرمایئے ۔ (کہ انہیں کیا پیش آ نے والا ہے) ۔
افتادن تجلی جلال
Epiphany of the Divine Majesty Suddenly I beheld my world, that earth and heaven of mine,
اچانک میں نے اپنے جہان کو دیکھا، اپنے اس جہان کے زمین و آسمان کو دیکھا ۔
I saw it drowned in a light of dawn; I saw it crimson as a jujube-tree:
میں نے اسے شق گوں نور میں غرق (شفق کی مانند سرخ خون میں نہائے ہوے) دیکھا ۔ اسے طبر خوں کی مانند سرخ دیکھا ۔
That light revealed every secret veiled and snatched the power of speech from my tongue.
اس تجلی کے نور نے ہر پوشیدہ چیز کو ظاہر کر دیا اور میری زبان سے بولنے کی قوت بھی چھین لی ۔
Out of the deep heart of the inscrutable world an ardent, flaming melody broke forth.
عالم لا مکاں کے ضمیر سے ایک پرسوز آواز سنائی دی جو کہہ رہی تھی کہ ۔
‘Abandon the East, be not spellbound by the West, for all this ancient and new is not worth one barleycorn.
تو مشرق سے گزر جا اور افرنگ سے مسحور نہ ہو کہ یہ قدیم اور جدید دو جو کی بھی قیمت نہیں پاتا ۔
That signet-ring which you gambled away to Ahriman should not be pledged even to trusty Gabriel.
وہ نگینہ جو تو نے شیطانوں کے پاس ہار دیا ہے، وہ تو جبرئیل امین کے پاس بھی گروی نہیں رکھا جا سکتا ۔
Life, that ornament of society, is guardian of itself; you who are of the caravan, travel alone, yet go with all!
زندگی انجمن آراستہ کرنے والی ا ور آپ اپنی محافظ بھی ہے، اے کہ تو قافلے میں ہے تو سب سے بے نیاز رہ اور سب کے ساتھ چل ۔
You have come forth brighter than the all-illumining sun; so live, that you may irradiate every mote.
تو روشن سورج سے بھی زیادہ روشن ہے، تو اس طرح کی زندگی بسر کر کہ تو ہر ذرے کو اپنی روشنی پہنچاتا رہے ۔
Alexander, Darius, Qubad and Khusrau have departed like a blade of grass fallen in the path of the wind.
(بڑے بڑے بادشاہ جیسے) یونان کا سکندر اور ایران کا دارا اور قباد اور خسرو اس دنیا سے اس طرح چلے گئے جس طرح خشک گھاس کا تنکا ہوا کی راہ میں پڑا ہو (ہوا اسے اڑ ا کر لے جاتی ہے) ۔
So slender is your cup that the tavern has been put to shame; seize a tumbler, and drink wisely, and so be gone!’
تیری تنک جامی (کم ظرفی) کے باعث میکدہ رسوا ہو گیا ہے تو پیالہ اٹھا اور ہوش مندوں کی طرح پی اور رخصت ہو جا ۔
Sources and translator credits
- Original text transcription: Javid Nama — حضور — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Javid Nama — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- javid-nama: published English translation by آربری — Published digital poem page (tfdv12vd.json); retrieved 2026-10-05.Translation by آربری; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- javid-nama: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (tfdv12vd.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
