پیغام سلطان شہید بہ رود کاویری حقیقت حیات و مرگ و شہادت
English title: MESSAGE OF THE MARTYR-KING TO THE RIVER CAUVERY (The reality of life, death and martyrdom)
River Cauvery, flow gently for a while; perchance you are wearied by continual wandering
اے دریائے کاویری ذرا آہستہ چل ، شاید تو مسلسل چلتے رہنے سے تھک گیا ہے ۔
For many years you have wept in the mountains, carving out your path with your eyelashes.
تو مدتوں سے پہاڑوں میں رو رہا ہے اور تو نے اپنے راستے کو اپنی پلکوں سے کھودا ہے ۔
Sweeter to me than Oxus and Euphrates, to Deccan your water is the Water of Life.
اے کاویری تو مجھے جیحون اور فرات جیسے دریاؤں سے بھی زیادہ عزیز ہے ۔ اے کہ دکن کے لیے تیرا پانی آب حیات ہے ۔
Alas, for the city which lay in your embrace, whose sweet beauty was a reflection of your sweetness!
آہ و شہر جو کبھی تیری آغوش میں تھا ، اس شہر کا شیریں جلووَں والا حسن تیرے پانی ہی کے باعث تھا ۔ مراد سرنگا پٹنم شہر ہے جو سلطان کا دارالحکومت تھا ۔
You have grown old, yet you are ever young, ever the same your surge, your ardour, your lustre;
اگرچہ تو بوڑھا ہو گیا ہے لیکن تیرا شباب ابھی تک برقرار ہے ۔ تیرا پیچ و تاب اور تیرا رنگ و آب اسی طرح ہے ۔
Your waves have begotten only the purest pearls – may your tresses flow freely till all eternity!
تیری موج نے موتی کے ایک دانے کے سوا کچھ پیدا نہیں کیا ۔ خدا کرے تیرا طرہ ابد تک شوریدہ رہے ۔
You whose music is the very fire of life, do you know from whom this message comes?
اے دریا تیری لہروں کا ساز زندگی کا سوز پیدا کر رہا ہے ۔ کیا تو جانتا ہے کہ یہ پیغام کس کی طرف سے ہے
From him whose mighty power you once encircled, whose empire you reflected in your mirror,
یہ وہ شخص ہے جس کی سطوت و شان کا تو طواف کرتا رہا ہے اوراس کی سلطنت کا آئینہ دار رہا ہے ۔
By whose contriving deserts were turned to Paradise, who wrought his image with his own blood,
وہ جس کی تدبیر نے بہت سے صحرا کو بہشت بنا دیا ۔ وہ ہستی (ٹیپو) جس نے اپنے خون سے اپنا نقش تحریر کیا ۔
Whose dust is the goal of a hundred yearnings, and with whose blood your waves surge still;
وہ کہ جس کی خاک ہزاروں آرزووں کا مرجع ہے ۔ تیری لہروں میں بیقراری اسی کے خون سے ہے ۔
The man whose words were all action, the one man awake, whilst the East slept.
وہ (عظیم انسان ٹیپو) کہ جس کی گفتار پورے طور پر کردار تھی، اس وقت جب مشرق سویا ہوا تھا وہ بیدار تھا ۔
You and I are waves of life’s river; every moment this universe changes,
اے کہ میں اور تو (کاویری) دونوں زندگی کی ندی کی لہریں ہیں ۔ یہ کائنات ہر لمحہ بدلتی رہتی ہے ۔
For life is a perpetual revolution since it is ever searching for a new world.
زندگی ہر لمحے کا انقلاب ہے ۔ اس لیے کہ وہ ہر پل ایک نئے عالم کے سراغ میں لگی رہتی ہے ۔
This flux is the warp and woof of life, this flux the source of the joy of manifestation;
ہر وجود کا تانا بانا رفت و بود (ماضی) سے ہے، یہ سارا ذوق نمود اسی رفت و بود ہی سے ہے یعنی کائنات کا وجود ہی فنا پر قائم ہے ۔
The highways like travellers are on a journey; apparently at rest, secretly everywhere in motion;
راستے بھی مسافروں کی طرف سفر میں رہتے ہیں ، ہر جگہ سفر پوشیدہ اور حضر (قیام) ظاہر ہے ۔
The caravan, the camels, the desert, the palm-trees, whatever you see, weeps for the pain of parting.
قافلہ، اونٹنی اور بیابان اور کھجور کا درخت جس کو بھی تم دیکھو گے وہ کوچ کے درد کے باعث رو رہا ہو گا ۔
In the garden the rose is a guest of but a moment, its hue and lustre a moment’s experiment.
چمن میں پھول ایک پل کا مہمان ہوتا ہے ۔ اس کا رنگ اور اس کی چمک دمک ایک پل کا امتحان ہے ۔
The season of the rose? Funeral and festival together, buds in the breast, the rose’s bier on the back.
موسم گل کیا ہے یہ ماتم بھی ہے اور پینے پلانے کا عالم بھی ہے ۔ غنچہ اس کی آغوش میں ہوتا ہے اور پھول کی نعش اس کے کندھوں پر ہوتی ہے ۔
I said to the tulip, ‘Burn once again’; the tulip answered, ‘You know not yet my secret,
میں نے لالہ کے پھول سے کہا کہ تو تھوڑی دیر کے لیے مزید جل ۔ وہ بولا کہ شاید تو ابھی تک ہمارے راز سے آگا ہ نہیں ہے ۔
Existence is constructed of sticks and straws; what is the guerdon of manifestation, but regret?
خس و خاشاک ہی سے وجود کی تعمیر ہے ۔ نمود کی سزا حسرت کے سوا او رکیا ہے
Do you enter the inn of existence? Do not; do you come from not-being to being? Do not;
کیا تو بقا و فنا کی سرائے (دنیا ) میں آنا چاہتا ہے ، نہ آ ۔ کیا تو عدم سے وجود کی طرف آنا چاہتا ہے نہ آ ۔
Or if you do, go not out of your self like a spark, but become a wanderer searching for a stack to fire.
اور اگر تو آ ہی جاتا ہے تو پھر چنگاری کی طرح خود سے مت گزر کسی کھلیان کی تلاش میں آوارہ ہو جا، نکل جا ۔
If you have fever and flame like the sun, step forth into the vastness of the sky;
اگر تجھ میں سورج کی طرح چمک اور گرمی ہے تو پھر تو آسما نوں کی وسعتوں میں پاؤں رکھ عمل سے ۔
Burn up mountain and bird, garden and desert, burn even the fishes in the depths of the sea.
پہاڑ اور پرندہ اور باغ و صحرا سب کو جلا دے بلکہ مچھلیوں کو سمندر کی تہہ میں جلا ڈال ۔
If you have a breast worthy of an arrow, live like a falcon, and like a falcon die;
اگر تیرا سینہ تیر کھانے کے قابل ہے تو پھر تو دنیا میں شاہیں کی طرح زندگی بسر کر اور شاہیں بن کر مر ۔
Immortality is in the breadth of life – I do not ask of God for length of days,
زندگی پیش کر دینے سے ہی اس کی بقا ہے اس لیے طویل زندگی نہیں مانگی ۔
What is the law, the religion, the rite of life? Better one instant a lion, than a century a sheep.
زندگی کے لیے رسم و دین اور مسلک کیا چیز ہے شیر کا ایک پل بھیڑ کے سو سال (زندہ رہنے ) سے بہتر ہے(یہ فقرہ ٹیپو نے اپنی شہادت کے وقت کہا تھا ۔ ) یعنی شیر بن کر رہو اور شیر ہی کی طرح مرو ۔
Life is fortified by cheerful resignation; death is a magic talisman, a fantasy.
زندگی میں استحکام تسلیم و رضا سے پیدا ہوتا ہے اور موت تو نیرنگ و طلسم اور کیمیا ہے ۔ (تسلیم و رضا سے مراد ہے انسان کا اللہ کی رضا میں اپنی مرضی کو فنا کر دینا اور اس کی رضا کے مطابق زندگی بسر کرنا) ۔
The man of God is a lion and death a fawn; death is but one station for him of a hundred.
بندہ حق شیر ہے جب کہ موت اس کے لیے ہرن ہے ۔ اس کی سینکڑوں مقامات میں سے موت ایک مقام ہے ۔
The perfect man swoops upon death even as a falcon swooping upon a dove,
وہ مرد کامل (بندہ حق) موت پر اس طرح جھپٹتا ہے جس طرح شاہین کبوتر پر جھپٹتا ہے ۔
The slave dies every moment in fear of death; the fear of death makes life for him a thing forbidden;
(نفس کا )غلام موت کے خوف سے ہر وقت مرتا ہے اور موت کے ڈر سے اس کی زندگی اس پر حرام ہو جاتی ہے ۔
The free servant has another dignity; death bestows upon him a new life.
جبکہ بندہ آزاد کی شان ہی اور ہے ۔ موت اسے ایک نئی جان دیتی ہے یعنی جہاد میں شہادت پا کر وہ حیات جاوید پا لیتا ہے ۔
He is anxious for the self, but not for death, since to the free death is no more than an instant.
بندہ آزاد اپنی فکر کرتا ہے ۔ موت کے بارے میں نہیں سوچتا یا فکر نہیں کرتا ۔ آزاد لوگوں کی موت ایک پل سے زیادہ کی نہیں ہوتی ۔
Transcend the death that is content with the grave, for that death is the death of brute beasts;
اس موت سے گزر جا جو قبر سے موافقت کرتی ہے ۔ یہ یا اس قسم کی موت تو چرندوں ، پرندوں اور درندوں کی موت ہے ۔
'The true believer prays to the Holy God for that other death which raises up from the dust.
مرد مومن خدائے پاک سے اس موت کی آرزو رکھتا ہے جو اسے مٹی سے اٹھا لے ۔
That other death-the goal of the road of love, the final Allahu Akbar in love’s battlefield.
وہ دوسری موت کیا ہے، وہ راہ شوق کی انتہا ہے ۔ اور شوق کے ہنگامہ میں آخری تکبیر ہے (جہاد میں اللہ اکبر کہہ کر جان کی قربا نی دینا عشق و محبت کی آخری منزل ہے ۔ )
Though to the believer every death is sweet, the death of Murtada’s son is something other.
اگرچہ مرد مومن کے لیے ہر موت شکر کی طرح شیریں ہے لیکن حضرت علی مرتضی ٰعلیہ السلام کے فرزند (امام حسین علیہ السلام جنھوں نے باطل قوت سے ٹکرا کر کربلا میں شہادت پائی ) کی موت کچھ اور ہی چیز ہے ۔
The warfare of worldly kings is for rapine, the believer’s warfare is the Sunna of the Prophet
دنیا کے بادشاہوں کی جنگ محض لوٹ مار کے لیے ہوتی ہے جبکہ مومن کی جنگ سنت پیغمبر ہے ۔
What is the believer’s warfare? Flight to the Beloved; quitting the world, choosing the Beloved’s street,
مومن کی جنگ کیا ہے وہ محبوب حقیقی کی طرف ہجرت کرنا ہے اور دنیا چھوڑ دینا اور دوست کے کوچے کی طرف جانا ہے ۔
He who proclaimed to the peoples the word of love said of warfare that it was ‘the monasticism of Islam’.
وہ ذات گرامی (رسول اللہ ﷺ) کہ جس نے قوموں کو عشق کی بات بتائی انھوں نے جنگ (جہاد) کو اسلام کی رہبانیت کہا ہے ۔
None but the martyr knows this subtlety, for he has purchased this subtlety with his blood.
یہ جو حضورنے فرمایا ہے اس نکتہ کو شہید کے سوا اور کوئی نہیں سمجھتا ۔
Sources and translator credits
- Original text transcription: Javid Nama — پیغام سلطان شہید بہ رود کاویری حقیقت حیات و مرگ و شہادت — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Javid Nama — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- javid-nama: published English translation by آربری — Published digital poem page (ywgu75c9.json); retrieved 2026-10-05.Translation by آربری; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- javid-nama: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (ywgu75c9.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
