در حضور شاہ ہمدان
English title: IN THE PRESENCE OF SHAH-I HAMADAN
Published English translations cover only part of this poem.
Published Urdu translations cover some, but not all, Persian verses in this poem.
زندہ رود
I seek from you the key to the secret of God: He sought from us obedience, and created Satan.
(اے شاہِ ہمدان ) میں آپ سے خدا کے ایک بھید کا حل جاننا چاہتا ہوں ۔ خدا نے خود شیطان کو پیدا کیا اور ہم سے اطاعت چاہی ۔
So to adorn the hideous and unlovely and to demand of us comeliness of works;
برائی اور گناہ کو اس طرح آراستہ کرنا (دلفریب بنانا ) اور ہمارے عمل سے نیکی چاہنا (عجیب سی بات ہے ) ۔
I ask you, what is this magic-mongering, what this dicing with an evil adversary?
میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ جادوگری کیا ہے ۔ ایک برے ساتھی کے ساتھ جوا کھیلنے کا کیا مطلب ہے
A handful of dust, against yon revolving sphere – tell me now, did it beseem Him so to do?
ایک طرف یہ خاک کی مٹھی یعنی انسان اور دوسری طرف یہ گردش کرنے والا آسمان، آپ ہی فرمائیے کہ کیا اسے (خدا کو) یہ کام زیب دیتا ہے
Our labour, our thoughts, our anguish is but to bite our hands in despair.
ہمارے اعمال اور ہمارے افکار ہمارے لیے اذیت کا باعث ہیں ۔ چنانچہ دانتوں سے اپنے ہاتھ کاٹنا ہمارا کام ہے (اظہار حیرت ہے ) ۔
شاہ ہمدان
Shah-i Hamadan The man who is fully aware of himself creates advantage out of loss.
وہ انسان جو اپنے آپ سے باخبر ہے وہ نقصان سے بھی نفع پیدا کر لیتا ہے ۔
To sup with the Devil brings disaster to a man; to wrestle with the Devil brings him glory.
شیطان کے ساتھ بزم آرائی (دوستی) آدمی کے لیے جان کا عذاب ہے مگر شیطان کے ساتھ جنگ آدمی کے لیے جمال ہے ۔
One must strike oneself against Ahriman; you are a sword, he is the whetstone;
اپنے آپ کو شیطان کے مقابلے میں لانا چاہیے ۔ تو (اے انسان ) تو سراپا تلوار ہے جبکہ شیطان سان ہے ۔
Become sharper, that your stroke may be hard, else you will be unfortunate in both worlds.
تو زیادہ تیز ہو (تلوار زیادہ تیز کر ) تا کہ دشمن (شیطان) پر تیرا وار بڑا سخت پڑے، کاری ہو ۔ ورنہ تو دونوں جہانوں میں سیاہ بخت رہے گا ۔
زندہ رود
Under the heavens man devours man, nation grazes upon another nation.
آسمان کے نیچے (اس دنیا میں ) آدمی، آدمی کو کھا رہا ہے اور ایک قوم دوسری قوم کو لوٹ رہی ہے ۔
My soul burns like rue for the people of the Vale; cries of anguish mount from my heart.
میری جان خطہ کشمیر کے لوگوں کے حالات دیکھ کر سپند کے دانے کی طرح چٹخ رہی ہے ۔ اور میرے دل سے درد بھرے نالے اٹھتے ہیں ۔
They are a nation clever, perceptive, handsome, their dexterity is proverbial,
کشمیری قوم ایک باریک بیں بہت سوجھ بوجھ والی دانشمند اور خوش شکل ہے، دنیا میں اس کی ہنرمندی ایک دلیل ہے ۔
Yet their cup rolls in their own blood; the lament in my flute is on their behalf.
اس کا پیالہ اس کے اپنے ہی خون سے لت پت ہے ۔ میری بانسری سے اسی کے حالات کی فریاد نکل رہی ہے ۔
Since they have lost their share of selfhood they have become strangers in their own land;
جب سے یہ قوم خودی سے بے نصیب ہو گئی ہے وہ اپنے ہی وطن میں اجنبی بن کے رہ گئی ہے ۔
Their wages are in the hands of others, the fish of their river in other men’s nets.
اس کے ہاتھوں کی مزدوری دوسروں کے ہاتھ میں ہے ۔ اس کے دریا کی مچھلی دوسروں کے کانٹے میں پھنسی ہوئی ہے ۔
The caravans move step by step to the goal; but still their work is ill-done, unformed, immature.
دوسری قوموں کے قافلے (ترقی کی ) منزل کی طرف قدم بقدم چلے جا رہے ہیں لیکن اس (بدقسمت قوم) کا کام ناخوب بھی ہے اور ان گھڑت اور ناقص بھی ۔
Through servitude their aspirations have died, the fire in the veins of their vine is quenched.
غلامی سے اس کے جذبے ختم ہو گئے ہیں او ر اس کی تاک (انگور کی رگ ) کے اندر آگ بجھ گئی ہے ۔
But do not think that they were always so, their brows ever lowered thus to the dust;
تو کہیں یہ نہ سمجھ کہ یہ قوم ہمیشہ ایسی ہی رہی ہے اور اسی طرح اس نے ہمیشہ دوسروں کے آگے اپنی پیشانی رگڑی ہے ۔
Once upon a time they too were warlike folk, valiant, heroic, ardent in battle.
وہ کبھی صف شکن بھی رہی ہے اور زبردست جانباز اور حوصلہ مند رہی ہے ۔
Behold her mountains turbaned in white; behold the fiery hands of her chenars;
اس (کشمیر) کے برف پوش پہاڑ دیکھ اور یہاں کے درخت چنار کے آتشیں ہاتھ یعنی پتے دیکھ ۔
In springtime rubies leap down from the rocks, a flood of colour rises from her soil;
موسم بہار میں یہاں کے پتھروں سے لعل اگتے ہیں ۔ (لالہ کے سرخ رنگ کے پھول) یہاں کی مٹی سے رنگ کا ایک طوفان اٹھتا ہے ۔
Stippled clouds cover mountain and valley like cotton-flocks strewn from a carder’s bow.
پہاڑ اور وادی میں بادلوں کے ٹکڑے اس طرح اڑتے پھرتے ہیں جیسے روئی دھنیئے کی کما ن سے دھنکی ہوئی روئی اڑتی ہے ۔
Mountain and river, and the setting of the sun: there I behold God without a veil
وہاں کے پہاڑ، دریا اور سورج کا وقت غروب (اتنا خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں کہ ) میں نے وہاں خدا کو بے حجاب دیکھا ہے (اللہ تعالیٰ کا جمال بے نقاب نظر آتا ہے ) ۔
I wandered with the zephyr in Nishat chanting as I roved, ‘Listen to the reed’
میں وہاں کے نشاط باغ میں بادِ نسیم کے ساتھ ادھر ادھر گھومتا رہا اور خوشی سے سرشار ہو کر مولانا رومی کی مثنوی کا پہلا شعر بشنوازنے گاتا رہا ۔ شعر یہ ہے،
A bird perched in the branches was singing: ‘This springtide is not worth a penny.
وہاں شاخوں میں بیٹھے ایک پرندے نے مجھ سے کہا کہ اس بہار کی قیمت تو ایک کوڑی کے برابر بھی نہیں ہے ۔
The tulip has blossomed, the dark-eyed narcissus is in bloom, the breeze of Nauruz has torn their skirts;
لالہ کے پھول اگے اور نرگس شہلا پھوٹی، باد بہار نے اس سرزمین کا گریبان پھاڑ دیا ہے ۔
For many ages from this mountain and valley have sprung daisies purer than the light of the moon,
اس کے پہاڑوں اور ان کے درمیانی راستوں میں مدتوں سے چنبیلی کے ایسے پھول کھل رہے ہیں جو چاند کی روشنی سے بھی زیادہ پاکیزہ زیادہ چمکدار اور سفید تھے ۔
For many ages the rose has packed and unpacked her baggage, yet our earth has not begotten a second Shihab al-Din.’
اس (وادی کشمیر ) میں مدتوں گلاب کے پھول کھلتے اور مرجھا جاتے رہے لیکن ہماری سرزمین سے کوئی اور شہاب الدین پیدا نہ ہوا ۔
The passionate lament of that bird of dawn filled my heart with new fire and fever.
صبح کے اس پرندے کے پر سوز نالہ نے میری جان میں نیا جوش پیدا کر دیا ہے ۔
Presently I beheld a madman, whose threnody robbed me of all endurance and reason.
وہاں میں نے ایک دیوانے کو خروش یا فریاد کرتے دیکھا اور اس کیفیت نے میرے صبر و جوش کی متاع ہی اڑا لی ( میں بیقرار ہو گیا ) ۔
‘Pass us by, and seek not an impassioned lament, pass from the rose-twig, that talisman of colour and scent.
تو ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دے اور ہم سے نالہ مستانہ کی توقع نہ رکھ ۔ تو پھول کی شاخ سے گزر جا کیونکہ یہ محض رنگ و بو کا جادو ہے ۔
You said that dew was dripping from the tulip’s petals; nay, it is a feckless heart weeping beside the river.
تو کہتا ہے کہ شبنم لالہ کی پتیوں سے ٹپکتی رہی ہے ۔ ارے غافل یہ لالہ نہیں یہ تو ایک دل ہے جو ندی کے کنارے بیٹھا رو رہا ہے ۔
What have these few feathers to do with such a chant? It is the spirit of Ghani mourning the death of desire.
یہ پروں کی مٹھی کہاں اورر اس قسم کا نغمہ کہاں یہ تو غنی کی روح ہے جو آرزو کی موت پر ماتم کر رہی ہے ۔
Zephyr, if you should pass over Geneva speak a word from me to the League of Nations:
اے بادِ صبا اگر جنیوا کی طرف تیرا گزر ہو تو وہاں ہماری طرف سے مجلس اقوام سے ہماری یہ بات کہنا ۔
They have sold farmer and cornfield, river and garden, they have sold a people, and at a price how cheap.’
کسان اور کھیت اور ندیاں اور کیاریاں انھوں نے بیچ دیں ۔ انھوں نے ایک قوم کو بیچ دیا اور کس قدر سستا بیچ دیا ۔ انگریز حکمرانوں نے اپنے لالچ اور مسلمانوں کو ذلیل و خوار کرنے کے لیے کشمیر کو ایک ہندو ڈوگرہ کے ہاتھ معمولی قیمت پر بیچ دیا تھا ۔
شاہ ہمدان
Shah-i Hamadan I will tell you a subtle mystery, my son: the body is all clay, the soul a precious pearl.
اے بیٹے میں تجھے ایک رمز کی بات بتاتا ہوں ، وہ یہ کہ جسم (بدن) سراسر مٹی ہے جبکہ جان ایک قیمتی موتی ہے ۔
The body must be melted for the sake of the soul; the pure must be distinguished from the clay.
روح کی خاطر بدن کو پگھلا دینا چاہیے، پاک روح اور خاک بدن میں تمیز کرنی چاہیے ۔
If you cut off a part of the body from the body, that slice of the body will be lost to you;
اگر تو جسم (بدن) سے اس کا کوئی ٹکڑا کاٹ لے تو بدن کا وہ ٹکڑا ہمیشہ کے لیے تیرے ہاتھوں سے نکل گیا ۔
But the soul which is drunk with vision – if you give it away, it will return to you.
لیکن وہ روح جو محبوب حقیقی کے جلوے میں محو و مست ہو جائے اگرتو اسے ہاتھ سے دے دے تو وہ پھر تیرے ہاتھ آ جائے گی (شہید زندہ ہیں ) ۔
The soul’s substance resembles nothing else; it is in bonds, and yet not in bonds;
اس (روح) کا جوہر کسی بھی شے کی مانند نہیں ہے، وہ اگرچہ جسم کی قید میں ہے لیکن قید میں نہیں ہے ۔
If you watch over it, it dies in the body, and if you scatter it, it illuminates the gathering.
اگر تو جان کی حفاظت کرے گا (بچا بچا کے رکھے گا ) تو یہ بدن میں مر جائے گی اور اگر اسے تو خدا کی راہ میں قربان کر دے تو وہ انجمن کی رونق بنے گی ۔
What, noble sir, is the soul ‘drunk with vision’? What does it mean to ‘give the soul away’?
اے جوان مردجلوہ مستِ جان کیا ہے اے جوانمرد جان کو ہاتھ سے دے دینے سے کیا مراد ہے
To give away the soul is to surrender it to God, it means melting the mountain with the soul’s flame.
جان دینا کیا ہے یہ اسے حق کے حوالے کرنا ہے اور پہاڑ کو اس کے سوزِ جاں سے پگھلا دینا ہے ۔
‘Drunk with vision’ means discovering one’s self, shining like a star in the night-season:
جلوہ مستی کیا ہے یہ خود (اپنے آپ) کو پا لینا ہے (خودی سے آگاہ ہونا ہے ) راتوں میں ستاروں کی طرح چمکنا ہے ۔
Not to discover one’s self is not to exist, to discover is to bestow the self on the Self.
اپنے آپ کو نہ پانا گویا نابود ہو جانا ہے ، جبکہ اپنے آپ کو پا لینا خود کو اپنے سپرد کر دینا ہے ۔ خود کو زندگی عطا کرنا ہے ۔
Whosoever has seen himself and has seen naught else has drawn forth the load from the self’s prison;
جس نے خود (اپنے آپ) کو دیکھ لیا اور اپنے سوا کسی اور کو نہ دیکھا، اس نے اپنے قید خانے سے سامان باہر نکال لیا (قید سے آزاد ہو گیا ) ۔
In his eyes the soul is cheap as the air, before him the walls of his prison tremble;
(اپنی معرفت سے آگاہ) انسان کی نگاہوں میں جان ہوا کی طرح سستی ہوتی ہے ۔ اس کے سامنے اس کا قیدخانہ (جسم) کانپتا ہے ۔
His axe shivers the granite rock so that he takes his share of the universe.
اس کا تیشہ پتھر کو بھی توڑ دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ زمانے سے اپنا حصہ لے لیتا ہے (چھین لیتا ہے ) ۔
When he gives up the soul, his soul is truly his, otherwise his soul is his guest but for a moment or two.
جب وہ جان سے گزر جاتا ہے (اللہ کی راہ میں جان قربان کر دیتا ہے ) تو اس کی جان اس کی جان بن جاتی ہے ورنہ اس کی جان اس کی دو ایک پل کی مہمان ہے یعنی عارضی و فانی ہے ۔
زندہ رود
You have spoken of the wisdom of foul and fair; learned sage, expound a further subtlety.
آپ نے برائی اور اچھائی (بدی اور نیکی ) کی حکمت کے بارے میں فرمایا ہے، اے پیر دانا ایک اور گہری بات بھی بیان فرمائیں ۔
You were the guide of those who behold the inner meanings you were the confidant of the secrets of kings.
آپ صاحبانِ معرفت و عرفان (معرفت پر نگاہ رکھنے والے) کے مرشد رہے ہیں اور بادشاہوں کے اسرار سے بھی آگاہ رہے ہیں ۔
We are poor men, and the ruler demands tribute; what is the origin of the sanction of throne and crown?
ہم غریب ہیں اور حکمران ہم سے خراج مانگتا ہے، تخت و تاج کے اعتبار کی اصل کیا ہے (حیثیت کیا ہے )
شاہ ہمدان
Shah-i Hamadan What is the origin of Kingship in East and West? Either the consent of the peoples, or war and violence.
مشرق اور مغرب میں بادشاہت کی اصل (حقیقت) کیا ہے یہ قوموں کی مرضی سے یا جنگ و جدل سے وجود پاتی ہے ۔
Exalted sir, I will speak with you plainly; it is forbidden to pay tribute save to two persons:
اے بلند مرتبہ شخص میں تجھے واضح طور پر (صاف صاف) بتاتا ہوں کہ دو آدمیوں کے علاوہ کسی اور کو خراج دینا حرام ہے ۔
‘Either those in authority as being among you, whose proof and demonstration is the verse of God,
یا تو وہ اولی الامر منکم ، جس کی شان ہے اور خدا کی یعنی قرآن کریم کی آیت اس سلسلے میں دلیل ہے ۔ یعنی صاحب اقتدار اہل ایمان ہو، رسول اللہ کا اطاعت گزار اور حضور کے فرمودہ اصولوں کے مطابق حکمرانی کرتا ہو، اور جو حکمران اسلامی نظریات سے بیگانہ ہو اسے حاکم نہیں ماننا چاہیے نہ خراج دینا چاہیے ۔
Or else a hero swift-rising like a hurricane who seizes cities, and stakes himself in the battle,
یا خراج کا حقدار وہ جواں مرد ہے جو باطل قوتوں کے خلاف طوفانی ہوا کی طرح اٹھے، جو شہر (کفار کا ملک) فتح کرنے والا ہو اور جو اپنے نفس امارہ کے خلاف جہاد کرنے والا ہو ۔
On the day of war conquering the land by force of arms, on the day of peace by the winning ways of love.
دشمنی کے دن (جنگ کے موقع پر) وہ اپنی قاہری (زبردست قوت) سے ملک فتح کرنے والا ہو اور صلح کے دن یعنی امن کے موقع پر وہ اپنے دلبرانہ طور طریقوں سے لوگوں کے دل جیتنے والا ہو، یعنی اس میں جلال اور جمال دونوں صفات ہوں ۔
You might indeed purchase Iran and India, but kingship cannot be bought from any man;
ایران اور ہندوستان کو خریدا جا سکتا ہے مگر بادشاہت کسی سے نہیں خریدی جا سکتی ۔
Virtuous friend, the Cup of Jamshid none shall procure from the glassmaker’s shop,
اے ہنرمند نوجوان (زندہ رود) جام جمشید کسی نے شیشہ گر کی دکان سے نہیں خریدا ۔
Or if he procures aught, all he owns is glass, and glass has no other property but to break.
اور اگر کوئی وہاں سے خرید بھی لیتا ہے تو وہ مال شیشے کے سوا کچھ نہ ہو سکا جس کا کام آخرکار ٹوٹنا ہے۔
غنی
Ghani Who gave to India this yearning for freedom? Who gave the quarry this passion to be the hunter?
ہندوستان کو آزادی کا یہ ذوق کس نے دیا شکار کو شکاری کا جنون کس نے دیا
Those scions of Brahmins, with vibrant hearts, whose glowing cheeks put the red tulip to shame;
(یہ ذوق) ان برہمن زادوں نے دیا جو زندہ دل ہیں ، جن کے حسین چہروں کے سامنے لالہ کا سرخ پھول بھی شرمسار ہے ۔
Keen of eye, mature and strenuous in action whose very glance puts Europe into commotion.
یہ تیز نگاہ اور تجربہ کار اور جفاکش ، محنتی ہیں ۔ اور ان کی نگاہ سے انگریز شور کرتے ہوئے واویلا مچا رہے ہیں ۔
Their origin is from this protesting soil of ours, the rising-place of these stars is our Kashmir.
ان کی اصل ہماری دامن گیر مٹی (کشمیر) سے ہے ۔ ان ستاروں کا مطلع (طلوع ہونا) ہمارا کشمیر ہے ۔
If you suppose our earth is without a spark, cast a glance for a moment within your heart;
اگر تو (زندہ رود) ہماری خاک کو شعلے سے خالی سمجھتا ہے تو پھر ذرا اپنے اندر ہی نظر ڈال، یعنی تو بھی تو کشمیری ہے ۔ کیا تو نہیں چاہتا کہ کشمیر آزاد ہو ۔
Whence comes all this ardour you possess, whence comes this breath of the breeze of spring?
یہ جو تجھ میں سارا سوز ہے یہ کہاں سے آیا ہے، یہ موسم بہار کی ہوا کے جھونکے کہاں سے اٹھے ہیں
It is from the selfsame wind’s influence that our mountains derive their colour and scent.
یہ وہی ہوا ہے جس کی تاثیر سے ہمارے پہاڑ بڑے رنگ و بو پاتے ہیں ۔
Do you not know what one day a wave said to another wave in Lake Wular?
کیا تجھے کچھ علم ہے کہ ایک روز ولر جھیل میں ایک موج نے دوسری موج سے کہا
‘How long shall we strike at each other in this sea? Rise up; let us break together against the shore.
ہم کب تک اس سمندر میں ایک دوسرے سے ٹکراتی رہیں گی ، تو اٹھ تا کہ ہم کچھ دیر ساحل سے سر ٹکرائیں ۔
Our child, that is to say, yon Ancient River fills with its roar valley and mountains and meadow;
ہماری پیدا کی ہوئی وہ پرانی ندی جس کا شور وادی، پہاڑ اور دمن میں ہے ۔
Continually it smites the rocks on its path until it uproots the fabric of the mountains.
وہ ہر لمحہ خود کو راستے کے پتھروں سے ٹکراتی ہے، یہاں تک کہ وہ پہاڑ کی بنیاد تک کو کھو ددیتی ہے (پہاڑ کے اندر بھی راستہ بنا لیتی ہے ) ۔
That youth who seized cities, deserts and plains took his nurture from the milk of a hundred mothers;
وہ جوان جس نے شہر و بیابان اور وادی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ، اس کی پرورش سو ماؤں کے دودھ سے ہوئی ہے ۔
Its majesty strikes terror into mortal hearts; all this is from us, not from any other.
اس کا دبدبہ انسانوں کے لیے ایک قیامت کی حیثیت رکھتا ہے، جب اس میں سیلاب آتا ہے تو وہ بڑی تباہی مچاتا ہے ۔ یہ ہمارے اندر سے نکلا ہے کسی اور جگہ سے تو نہیں نکلا ۔ تو یہ سب کچھ کشمیر ہی کی بدولت ہے ۔ گویا کشمیر نہ ہوتا تو جہلم بھی نہ ہوتا ۔
To live in the bounds of the shore is a sin; our shore is but a stone in our path.
ساحل کی حدود میں زندگی بسر کرنا غلطی ہے، ہمارا ساحل ہمارے راستے کا پتھر بنا ہو اہے ۔
To accommodate oneself to the shore is eternal death, even though you roll in the sea morning and evening;
ساحل سے موافقت کر لینا (کناروں کے اندر رہنا) ہمیشہ کی موت ہے، خواہ اے موج تو سمندر میں صبح و شام کیوں نہ لڑھکتی رہے، طوفان ہی کیوں نہ برپا کرتی رہے ۔
Life is to leap amidst mountain and desert – happy is the wave that has transgressed the shore!’
زندگی تو کوہ و دشت میں اپنی جولانیاں دکھانا ہے ، مبارک ہے وہ موج ہو ساحل سے باہر نکل گئی ۔
You who have read the lines on the brow of Life, you who have given to the East the tumult of Life,
اے (زندہ رود) تو نے تو زندگی کی پیشانی کی لکیریں پڑھی ہیں اور اہل مشرق کو زندگی کا ہنگامہ دیا ہے (تجھے قوموں کی تقدیر کی پوری خبر ہے) ۔
You who have a sigh that consumes the heart, stirring you to restlessness and us still more,
اے کہ تو ایسی آہ رکھتا ہے جو جگر کو جلاتی ہے ، تو اس سے بے قرار ہے تو ہم تجھ سے زیادہ بے قرار ہیں ۔
From you the birds in the meadow learned their threnody; in your tears the grasses make ablution;
اے کہ تجھ سے باغ کے پرندوں میں ہائے و ہو کا شور ہے، اور سبزہ تیرے آنسووَں سے وضو کرتا ہے ۔
Out of your genius the field of roses blossomed, out of your hope many souls are filled with hope.
اے کہ تیری طبع سے پھولوں کی کیاری کھل اٹھی، اے کہ تیری امید سے دوسری جانیں بھی پرامید ہو گئی ہیں ۔
Your cry is a bell urging the caravans; why then do you despair of the dwellers in the Vale?
قافلوں کے لیے تیری صدا بیداری اور کوچ کی گھنٹی ہے، پھر تو خطہ کشمیر کے لوگوں سے نا امید کیوں ہے
Their hearts are not dead in their breasts; their embers are not extinguished under the ice;
ان (اہل کشمیر) کے سینوں میں مردہ دل نہیں ہیں ، ان کا شعلہ (انگارہ) برف کے نیچے دب کر نہیں بجھا ۔
Wait till you see, without the sound of the Trumpet, a nation rising out of the dust of the tomb.
ذرا ٹھہر تاکہ تو دیکھے کہ ایک ملت (اہل کشمیر) صور کی آواز کے بغیر ہی قبروں کی مٹی سے اٹھنے والی ہے ۔ (وہ وقت قریب ہے جب اہل کشمیر غلامی سے نجات پا لیں گے ) ۔
Do not grieve then, visionary; breathe out that sigh consuming all, dry and moist alike;
اے صاحب نظر (زندہ رود) تو غم نہ کھا تو ایسی آہ کھینچ جو خشک و تر کو جلا دے ۔
Many cities beneath the turquoise heaven have been consumed by the flame of a dervish heart.
اس نیلے آسمان کے نیچے بہت سے شہر ایک مرد درویش کے سوز دل سے جل اٹھے ہیں ۔
Dominion is frailer than a bubble and can be destroyed by a single breath.
سلطنت پانی کے بلبلے سے بھی زیادہ نازک چیز ہے، اسے ایک پھونک سے ختم کیا جا سکتا ہے ۔
The destinies of nations have been shaped by a song, by a song nations are destroyed and rebuilt.
نوا (شاعری) ہی سے امتوں کی تقدیر بنائی جا سکتی ہے اور اسی شاعری ہی سے قوموں کو تباہ کیا جا سکتا ہے یا انکی تعمیر کی جا سکتی ہے ۔
Though your lancet has pierced men’s hearts, none has perceived you as you truly are;
اگرچہ تیرا نشتر کلام دلوں میں پیوست ہو چکا ہے لیکن جو کچھ تو ہے ویسا تجھے کسی نے نہیں دیکھا ۔
Your melody springs from a poet’s song, but what you utter transcends poesy.
تیرا پردہ اگرچہ شاعری کے نغمے سے ہے ورنہ جو کچھ تو کہتا ہے وہ شاعری سے ماورا ہے ۔
Stir up a new tumult in Paradise; strike up an intoxicating air in Paradise!
تو بہشت میں (جہاں اس وقت زندہ رود رومی کے ساتھ ہے ) ایک نوائے مستانہ نیا ہنگامہ برپا کر دے ۔
زندہ رود
Habituate yourself to the dervish wine and quaff it continuously; when you become riper, hurl yourself at the dominion of Jamshid.
تو نشہَ درویشی کے ساتھ موافقت کر اور مسلسل پی (مست رہ) جب تو اس نشہ میں پختہ ہو جائے تو اپنے آپ کو جمشید کی سلطنت کے مقابلے پر لے آ ۔
They said, ‘This world of ours-does it agree with you?’ I said, ‘It does not agree’. They said, ‘Then break it to pieces’.
پوچھنے لگے کہ کیا ہمارا جہان تجھ سے موافقت کر رہا ہے میں نے کہا نہیں ، تو اس پر انھوں نے کہا کہ اس جہان کو درہم برہم کر دے ۔
Tulip of the wilderness, you cannot burn alone; strike this heart-enflaming brand upon the breast of man;
اے لالہَ صحرائی تو اکیلا نہیں جل سکتا تو جگر میں حرارت پیدا کرنے والا اپنا یہ داغ آدمی کے سینے میں لگا ، پیدا کر ۔
You are the ardour of his bosom, the heat of his blood – do you not believe me? Then tear apart the flesh of the world.
تو اس کائنات کا سوزِ دروں ہے اور تو ہی اس کے خون کی حرارت ہے ۔ اگر تجھے اس بات پر یقین نہیں ہے تو پھر جہان کے بدن میں چیر ، پھاڑ ڈال کر دیکھ لے ۔
Is reason your lamp? Set it on the path to shine; or is love your cup? Quaff it with the intimate.
کیا عقل تیری چراغ ہے اگر ہے تو اسے کسی راہ گزر میں رکھ دے ۔
I pour forth from my eyes the bloody gouts of my heart; my ruby of Badakhshan – pick it up, and set it in your ring.
میں اپنے خون دل کا ایک ٹکڑا آنکھوں سے گرا رہا ہوں ، تو میرے بدخشاں کا ایک لعل اٹھا لے اور اسے اپنی انگوٹھی میں جڑ لے ۔
Sources and translator credits
- Original text transcription: Javid Nama — در حضور شاہ ہمدان — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Javid Nama — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- javid-nama: published English translation by آربری — Published digital poem page (satxot8y.json); retrieved 2026-10-05.Translation by آربری; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- javid-nama: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (satxot8y.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
