نمودار شدن خواجۂ اہل فراق ابلیس
English title: IBLIS: LEADER OF THE PEOPLE OF SEPARATION APPEARS
Published English translations cover only part of this poem.
Published Urdu translations cover some, but not all, Persian verses in this poem.
The company of the radiant of heart is for a breath or two, that breath or two is the substance of being and not-being;
ان روشن دل حضرات کی صحبت بس دو ایک پل ہی رہی ۔ اور یہ دو ایک پل میرے لیے میری ساری زندگی کا سرمایہ بنے ۔
It made love more tumultuous, and then passed, endowed reason with vision, and then passed.
اس صحبت نے میرے عشق کو کچھ اور شوریدہ کر دیا اور ختم ہو گئی، اس نے میری عقل کو صاحب نظر بنا دیا اور ختم ہو گئی ۔
I closed my eyes to hold it still within me, to transport it from my eyes to my heart.
میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں تاکہ میں (اس عظیم صحبت کی یاد کو ) اپنے ساتھ رکھوں ، کبھی نہ بھولوں اور آنکھوں کی راہ سے اسے دل میں لے آوَں ، دل میں بسا لوں ۔
Suddenly I saw the world had become dark, become dark from space even to spacelessness.
اچانک میں نے دیکھا کہ جہان تاریک ہو گیا ۔ مکاں سے لامکاں تک تاریکی چھا گئی ۔
In that night a flame appeared from the midst of which an old man leaped forth
اس رات (تاریکی ) میں ایک شعلہ ظاہر ہوا، جس کے اندر سے ایک بوڑھا آدمی باہر نکلا ۔ (ابلیس کی تخلیق آگ سے ہوئی، اسی لیے شعلے کی بات کی گئی ہے) ۔
Wrapped in a cloak of antimony grey, his body immersed in wreathing smoke.
وہ ایک سرمئی رنگ کی کالی قبا میں ملبوس تھا ۔ اس کا جسم یا پیکر بل کھاتے ہوئے دھوئیں سے ڈوبا ہوا تھا ۔
Rumi said, ‘The Leader of the People of Separation! How all a-fire, and what a cup of blood!
رومی نے کہا کہ یہ اہل فراق کا سردار ابلیس ہے، جو سر تا پا سوز ہے اور جس کے پیالے (دل) میں خون بھرا ہوا ہے ۔ سراپا سوز اس لیے کہ وہ آگ سے بنایا گیا ہے، خونیں ایاق اس حوالے سے کہ وہ آدم کو سجدہ نہ کر کے راندہَ درگاہ ٹھہرا، یہ امر اسکی آرزووَں کا خون تھا ۔
Ancient, seldom smiling, of few words, his eyes scanning the soul within the body,
وہ ایک ایسا بوڑھا ہے جو نہ ہنسنے والا ہے (سنجیدہ ہے) اور کم باتیں کرنے والا یعنی کم گو ہے ۔ اس کی نظر آدمی کے جسم میں جان کو دیکھ لیتی ہے ۔
Drunkard and mullah, philosopher and Sufi, in practice like a toiling ascetic,
وہ رند بھی ہے ، ملا بھی ہے اور فلسفی و خرقہ پوش بھی ، عمل میں وہ سخت ریاضت کرنے والے زاہدوں کی مانند ہے ۔
His nature alien to the joy of union, his asceticism the abandonment of eternal beauty;
اس کی فطرت ذوق وصال سے نا آشنا ہے ۔ اس کا زہد اس حسنِ ابدی کو ترک کرنا ہے (اسے خدا سے دوری پسند ہے) ۔
Since it was not easy to break away from beauty, he made a beginning with spurning adoration.
چونکہ اس محبوبِ حقیقی کے جمال سے خود کو الگ یا دور رکھنا آسان نہ تھا اس نے یہ کام آدم کو سجدہ نہ کرنے سے انجام دیا ۔
Gaze a little at his visitations, gaze at his difficulties, his tenacity
ذرا اس کی واردات پر نظر ڈال ۔ اس کی مشکلات اور اس کا ثبات دیکھ ۔
Still absorbed in the battle of good and evil, he has seen a hundred prophets, and is an infidel yet.’
وہ ابھی تک رزم خیر و شر میں غرق ہے ۔ اس نے سینکڑوں پیغمبر دیکھے ہیں مگر ابھی تک وہ کافر کا کافر ہی ہے ۔
My soul in my body quivered for his agony; a sigh of anguish broke from his lips.
اس (ابلیس) کی آگ (سوز) سے میرے جسم میں میری جان تڑپنے لگی، اس کے ہونٹوں سے ایک غم آلودہ آہ غم نکلی (اس نے غم بھری آہ کھینچی) ۔
With eyes half-closed he turned to me and said; ‘Who besides me has so gloried in action?
اس نے اپنی ادھ کھلی آنکھوں سے مجھے دیکھا اور کہا، عمل میں ہمارے سوا اور کون فائدہ اٹھانے والا ہوا ہے ۔
I have become so involved in labour that even on the Sabbath I am rarely at rest;
میں اپنے کام میں اس حد تک الجھا ہوا ہوں کہ مجھے جمعہ کے روز (چھٹی کے دن ) بھی فرصت میسر نہیں ہے ۔
I have no angels, no servants attending me; my revelation is without benefit of prophets.
نہ تو میرا کوئی فرشتہ ہی ہے اور نہ کوئی نوکر چاکر ہی، اور میری وحی کسی پیغام بر (وحی لانے والا فرشتہ) کے بغیر ہے ۔ یعنی اگرچہ مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی لیکن لوگ میرے پیغام کو اہمیت دے کر اس پر خوشی سے عمل کرتے ہیں ۔
I have brought neither Traditions nor Book; I have robbed theologians of their sweet soul.
میں نہ تو کوئی حدیث لایا ہوں اور نہ کوئی آسمانی کتاب ہی مگر میں نے فقیہوں کی میٹھی جان نکال لی ہے ۔ ( میں نے انہیں پیٹ کا غلام بنا کر ان کے روحانی جذبے ختم کر دیے ہیں ۔ ) ۔
None ever spun finer than they the thread of religion. yet in the end they left the Kaaba a heap of bricks.
دین کا دھاگہ فقیہوں کی طرح کسی نے نہیں کاتا (یا نہیں پرویا) ۔ انھوں نے آخر کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ (فرقہ بندی سے اس کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا ) ۔
My religion has no such foundation; in the faith of Iblis there are no schisms and sects.
ہمارے مذہب کی بنیاد اس قسم کی نہیں ہے ۔ ابلیس کے مذہب میں کوئی فرقہ نہیں ہے ۔
Ignorant one, I have given up prostration, I have turned the organ of good and evil.
اے بے خبر میں نے (آدم کو) سجدے سے انکار کر کے خیر و شر کے ساز کو نغمہ نکالنے کے لائق بنا دیا ۔ (اگر میں آدم کو گمراہ نہ کرتا تو وہ بھی فرشتوں کی طرح خیر ہی خیر ہوتا جس سے دنیا اس رونق سے محروم رہتی جو آج اس خیر و شر کی باہمی تکرار سے پیدا ہو رہی ہے ) ۔
Do not take me for one who denies God’s existence; open your eyes on my inner self, overlook my exterior.
تو مجھے خدا کے وجود سے انکار کرنے والا نہ سمجھ تو میرے باطن پر نظر ڈال، میرا ظاہر نہ دیکھ ۔
If I say, "He is not", that would be foolishness, for when one has seen, one cannot say, "He is not".
اگر میں یہ کہتا ہوں کہ خدا نہیں ہے تو یہ میری حماقت ہو گی، کیونکہ اس ذات کو دیکھنے کے بعد یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ نہیں ہے ۔
Under the veil of "No" I murmured "Yes"; what I have spoken is better than what I never said.
میں نے نہیں کے پردے میں ہاں کہا ہے ۔ میرا یہ کہنا میرے نہ کہنے سے بہتر ہے ۔
To share in the pain and suffering of Adam I did not forgo the fury of the Beloved.
چونکہ میں آدم کے درد کا حصہ دار ہوں یعنی درد سے آگاہ ہوں ، اس لیے میں نے یار (خدا) کا غضب آدم کے لیے نہ چھوڑا، خود پر لے لیا ۔
I displayed my own hideousness and have given you the joy of leaving or choosing.
میں نے اپنی بدی کو واضح طور پر ظاہر کر کے تمہیں اختیار اور ترک کا ذوق دے دیا ۔
Deliver me now from my fire; resolve, O man, the knot of my toil.
تو مجھے میری آگ سے رہائی دلا، اے آدم تو میری گتھی سلجھا دے (میری مشکل حل کر دے ) ۔
You who have fallen into my noose and given to Satan the leave to disobey;
اے وہ انسان تو جو میری قید میں پڑا ہوا ہے اور گناہ کی اجازت تو نے مجھ شیطان کو دے رکھی ہے ۔
Live in the world with true manly zeal; as you pity me, live a stranger to me
میرے غمگسار تو مجھ سے بیگانہ ہو کر زندگی گزار اور جہان میں ہمت مردانہ سے زندگی بسر کر ۔
Proudly disregarding my sting and my honey, so that my scroll may not become blacker still.
تو میرے نیش (تلخی) اور شیرینی سے بے نیاز ہو کر گزر جا تاکہ میرا نامہَ اعمال اور زیادہ سیاہ نہ ہو ۔
In the world the huntsman lives on his prey; whilst you are my prey, I draw out my arrows.
دنیا میں شکاری اس لیے ہے کہ شکار موجود ہیں ۔ جب تک تو میرا شکار بنا رہے گا میرے ترکش میں تیر رہیں گے ۔
He who soars aloft is secure from falling: if the quarry is cunning, the huntsman will fail.’
پرواز جاننے والا کبھی نہ گرتا، اگر شکار ہو شیار ہو جائے تو شکاری کا وجود بھی نہیں رہتا ۔
‘Give up this cult of separation’, I said to him ‘The most hateful of things to God is divorce.’
میں (زندہ رود) نے اس سے کہا کہ تو (ابلیس) فراق کا دستور چھوڑ دے یعنی خدا سے معافی مانگ لے ۔ اس سلسلے میں تو اس حدیث کو پیش نظر رکھ کر اللہ تعالیٰ کے نزدیک طلاق سب سے ناپسندیدہ عمل ہے ۔
He said, ‘The fire of separation is the stuff of life; how sweet the intoxication of the day of separation!
وہ بولا کہ ہجر و فراق کے سوز ہی میں زندگی کا لطف ہے ۔ واہ روزِ فراق کی سرمستی کے کیا کہنے ہیں (روز فراق یعنی سجدہ سے انکار کا دن، گویا ابلیس کو اس فراق ہی سے اپنی انفرادیت قائم کرنے کا موقع ملا ہے ۔ )
The very name of union comes not to my lips; if I seek union, neither He remains nor I.’
میرے (ابلیس کے ) ہونٹوں پر وصل کا لفظ ہی نہیں آتا، اگر میں وصل کی خواہش کرتا ہوں تو نہ تو وہ رہے گا اور نہ میں رہوں گا ۔ یعنی خدا کی اور میری شناخت خیر اور شر سے ہے ۔ وہ سراپا خیر اور میں سراپا شر ہوں ۔ اگر خیر و شر کا فرق ختم ہو گیا تو خدا کو کوئی نہیں پہچانے گا ۔
The word ‘union’ made him out of himself; the burning agony was renewed in his heart.
وصل کے لفظ نے اسے (ابلیس کو) خود سے بیگانہ کر دیا بے خود ہو گیا ۔ اس کے دل میں سوز و درد از سر نو تازہ ہو گیا ۔ اسے پرانی یادوں نے بے قرار کر دیا ۔
He wallowed awhile in his own fumes; he became lost again in his own fumes;
وہ کچھ دیر تک اپنے دھوئیں میں تڑپا اور پھر اپنے اسی دھوئیں میں غائب ہو گیا ۔
Out of those fumes whirling a lament rose high; how blessed the soul that can feel anguish!
اس بل کھاتے ہوئے دھوئیں میں سے ایک فریاد بلند ہوئی ۔ اس جان کے کیا ہی کہنے (کیا خوب ہے وہ جان جس میں درد ہو ۔
Sources and translator credits
- Original text transcription: Javid Nama — نمودار شدن خواجۂ اہل فراق ابلیس — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Javid Nama — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- javid-nama: published English translation by آربری — Published digital poem page (p97h9fvy.json); retrieved 2026-10-05.Translation by آربری; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- javid-nama: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (p97h9fvy.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
