مناجات
English title: PRAYER
Published English translations cover only part of this poem.
Published Urdu translations cover some, but not all, Persian verses in this poem.
Man, in this world of seven hues, lute-like is ever afire with lamentation;
اس سات رنگوں والی دنیا میں آدمی ہر لمحہ ستار کی طرح فریاد کرتا رہتا ہے ۔
Yearning for a kindred spirit burns him inwardly; teaching him threnodies to soothe the heart;
محرم راز کی آرزو اسے ہر وقت جلاتی رہتی ہے اور وہی دل کو لبھانے والے نالے اسے سکھاتی رہتی ہے ۔
And yet this world, that is wrought of water and clay; how can it be said to possess a heart?
لیکن یہ عالم جوپانی اور مٹی سے بنا ہوا ہے کے بارے میں کیسے کہیں کہ یہ بھی دل رکھتا ہے یا صاحب دل ہے ۔ (صاحبِ دل ہو تو اس پر انسان کی فریاد کا اثر ہوتا ہے) ۔
Sea, plain, mountain, grass – all are deaf and dumb, deaf and dumb heaven and sun and moon;
یہ سمندر اور بیابان، پہاڑ اور گھاس سبھی گونگے اور بہرے ہیں ۔ کسی کی آہ و فغاں کا اثر ان پر نہیں ہو سکتا ۔
Though the stars swarm in the selfsame sky, each star is more solitary than the other;
اگرچہ آسمان پر ستاروں کا ایک ہجوم ہے لیکن ہر ایک دوسرے سے زیادہ تنہا ہے ۔ یعنی سارے ایک دوسرے سے بے خبر ہیں ۔
The caravan unprovisioned against the journey, the heavens boundless, the nights interminable.
یہ ایک ایسا قافلہ ہے جس نے سفر کا کوئی سامان تیار نہ کیا ہو، جبکہ سفر کے لیے اس کے سامنے لامحدود آسمان اور لمبی راتیں ہیں ۔
Is this world then some prey, and we the huntsmen, or are we prisoners utterly forgotten?
یہ جہان شکار ہے اور ہم سب اس کے شکاری ہیں یا پھر ہم ایسے قیدی ہیں جنہیں قید کے بعد بھلا دیا گیا ہے ۔
Bitterly I wept, but echo answered never: Where may Adam’s son find a kindred spirit?
میں نے بہت آہ و زاری کی لیکن اس کے جواب میں کسی طرف سے کوئی آواز بلند نہ ہوئی نہ سنائی دی کسی شے پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا ۔ فرزند آدم کا ہمراز کہاں ہے یعنی مجھ سے کسی نے بھی ہمدردی کا اظہار نہ کیا ۔
I have seen that the day of this dimensioned world, whose light illuminates both palace and street.
میں نے اس چار طرفوں والے جہان کے دن کو دیکھا ہے جس کا نور محل و کوچے کو روشن کرتا ہے ۔
Came into being from the flight of a planet, is nothing more, you might say, than a moment gone.
اس کا وجود ایک سیارے کے چلنے سے ہے ۔ یہاں رفت و بود کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔ وہ دن سوائے اس کے کہ تو کہے کہ وہ تھا اور چلا گیا ، کچھ نہیں ہے یعنی اس کا وجود سورج نکلنے سے ہے ۔
How fair is the Day that is not of our days, the Day whose dawn has neither noon nor eve!
وہ دن بڑا ہی مبارک ہے جس کا تعلق ایام یعنی سورج کی گردش کے نتیجے میں طلوع ہونے والے دنو ں سے نہیں ہے اس کی صبح کی نہ تو دوپہر ہے اور نہ شام ہی ہے ۔
Let its light illuminate the spirit and sounds become visible even as colours;
اگر انسان کی روح ایسے دن سے منور ، روشن ہو جائے تو آواز کو رنگ کی طرح دیکھا جا سکتا ہے ۔
Hidden things become manifest in its splendour, its watch is unending and intransient.
ہر طرح کا غیب اسکی روشنی کے سبب حضور کی صورت اختیار کر لیتا یا حضوری میں بدل جاتا ہے ۔ وہ ہمیشہ رہتا ہے اور کبھی ختم نہیں ہوتا ۔
Grant me that Day, Lord, even for a single day; deliver me from this day that has no glow!
اے خدا تو مجھے ایسا دن نصیب فرما اور اس بے سوز دن سے رہائی دلا دے ۔ مجھے تو اے خدا تو ایسے بے مقصد دن سے بچا کے رکھ ۔
Concerning whom was the Verse of Subjection revealed? For whose sake spins the azure sphere so wildly?
قرآن مجید میں آیہ تسخیر کس کی شان میں ہے ۔ یہ نیلا آسمان کس کی عظمت پر حیران ہے گویا اللہ تعالیٰ نے یہ عظمت انسان کو بخشی ہے جس کو دیکھ کر آسمان حیرانی کا شکار ہے ۔
Who was it knew the secret of He taught the names? Who was intoxicated with that saki and that wine?
علم الاسماء کا رازدان کون تھا ۔ اس ساقی اور شراب (الست) کا مست کون تھا ۔ (حضرت آدم کو اللہ تعالیٰ نے سب اشیاء کے اسماء بتا دیے تھے جو فرشتے بھی نہ بتا سکے) ۔
Whom didst Thou choose out of all the world? To whom didst Thou confide the innermost secret?
اے خدا آپ نے سارے جہان میں سے کسے منتخب کیا اور پھر اس کائنات کے اندر کے رازوں سے کسے آگاہ کیا، محرم و واقف بنایا (وہ انسان ہی تھا جسے افضل مخلوقات بنایا گیا اور کائنات کے راز بھی اس پر ظاہر کیے گئے) ۔
Thy countenance is my faith, and my Koran: dost Thou begrudge my soul one manifestation?
آپ کا چہرہ ہی میرا ایمان اور میرا قرآن ہے یعنی میرے لیے سب کچھ ہے ۔ پھر کیا بات ہے کہ آپ اپنے جلوے سے مجھے محروم رکھ رہے ہیں
By the loss of a hundred of its rays; the sun’s capital is in no wise diminished.
سورج کی سینکڑوں شعاعوں کے نقصان بکھیرنے سے آفتاب کی روشنی کی متاع تو کم نہیں ہو جاتی وہ اسی طرح چمکتا رہتا ہے ۔
Reason is a chain fettering this present age: where is a restless soul such as I possess?
یہ دورِ حاضر کے لیے خرد کے پاؤں کی زنجیر بنی ہوئی ہے ۔ میری جیسی بے تاب جان کہاں ہے
For many ages Being must twist on itself that one restless soul may come into being.
حیات مدتوں پیچ و تاب کھاتی ہے تب کہیں جا کر ایک جانِ بیتاب ظہور میں آتی ہے ۔
Except you fret away at this brackish soil; it is not congenial to the seed of desire.
اگر آپ (اے خدا) ناراض نہ ہوں تو میں یہ عرض کروں گا کہ یہ شورہ زار زمین آرزو کے بیج کے لیے سازگار نہیں ۔ لوگوں کے دلوں میں جذبہ عشق پیدا کرنا محال ہے
Count it for gain enough if a single heart grows from the bosom of this unproductive clay!
اس بنجر مٹی میں سے اگر ایک دل بھی اگ آئے تو اسے غنیمت سمجھ ۔ دل سے مراد دلِ زندہ و بیدار ہے ۔
Thou art a moon: pass within my dormitory, glance but once on my unenlightened soul.
(اے محبوب حقیقی) آپ تو چاند ہیں ، میری محفل شب کی طرف آئیے اور ذرا میری جان کی تاریکی کو دیکھیے ۔ یعنی میری زندگی کی تاریک رات کو اپنے نور سے منور فرما دیں ۔
Why does the flame shrink away from the stubble? Why is the lightning-flash afraid to strike?
شعلے کو بھلا خشک تنکوں کو جلانے سے پرہیز کیوں ہو بجلی کو گرنے سے ڈر کیا ہے ۔ (خود کو خشک تنکے اور حاصل زندگی سے تشبیہ دی ہے جبکہ خدا کے جلوے کو بجلی سے )
So long as I have lived, I have lived in separation: reveal what lies beyond yon azure canopy;
میں جب تک جیا فراق ہی میں زندہ رہا ۔ مجھے دکھائیے کہ اس نیلے آسمان کے پرے کیا ہے ۔ یہ مجھ پر ظاہر کر دیں ۔
Open the doors that have been closed in my face, let earth share the secrets of heaven’s holy ones.
آپ بند دروازے مجھ پر کھول دیں اور مجھ خاکی انسان کو فرشتوں کا ہمراز بنا دیں ۔
Kindle now a fire within my breast, leave be the aloe, and consume the brushwood;
میرے سینے میں عشق کی آگ روشن کر دیں ۔ عود کو چھوڑ دیں اور ہیزم (ایندھن) کو جلا دیں ۔ (عود عشق کا اور ہیزم عقل کا استعارہ ہے ۔ مطلب یہ کہ میرے سینے میں جذبہ عشق پیدا کر دیں ) ۔
Then set my aloe again upon the fire and scatter my smoke through all the world.
پھر میری عود کو آگ پر رکھیئے اور ساری دنیا میں میرا دھواں پھیلا دیں ۔ یعنی مجھے جذبہ عشق سے نواز کر اسے میری شاعری کے ذریعے لوگوں تک پہنچا دیں ۔
Stir up the fire within my goblet; mingle one glance with this inadvertency.
میرے پیمانے کی آگ تیز کر دے اور اپنے تغافل کے ساتھ ایک نگاہ بھی ملا دے ۔
We seek Thee, and Thou art far from our sight; no, I have erred-we are blind, and Thou art present.
ہم آپ کو ڈھونڈ رہے ہیں اور آپ ہماری آنکھوں سے دور ہیں ۔ نہیں یہ بات نہیں آپ تو ہمارے سامنے ہیں مگر ہم خود اندھے ہیں ۔
Either draw aside this veil of mysteries, or seize to Thyself this sightless soul!
یا تو تو ان رازوں کا پردہ ہٹا دے یا پھر تیرے دیدار سے محروم میری جان واپس لے لے ۔
The date-tree of my thought despairs of leaf and fruit; either despatch the axe, or the breeze of dawn.
میری فکر کا درخت پتوں اور پھل سے محروم ہے ۔ یا تو اسے کلہاڑی کی نذر کر دے کہ یہ کٹ کر ختم ہو جائے یا پھر صبح کی ہوا سے نوا ز دے تاکہ یہ خوب پھلے پھولے ۔
Thou gavest me reason, give me madness too, show me the way to inward ecstasy.
تو نے مجھے عقل دی ہے ۔ تو اب جنون سے بھی مجھے نواز دے مجھے اپنے اندرونی جذب تک کا راستہ بھی عطا فرما دے ۔
Knowledge takes up residence in the thought; love’s lodge is the unsleeping heart;
علم کا مقام انسانی فکر میں ہے جبکہ عشق کا ٹھکانا ایسے دل میں ہے جو ہمیشہ بیدار رہتا ہے ۔
This peep-show is the Samiri’s conjuring-trick; knowledge without the Holy Ghost is mere spellbinding.
علم کا یہ تماشاخانہ محض سامری کا جادو ہے ۔ روح القدس کے بغیر علم شعبدہ بازی یا جادوگری ہے ۔
Without revelation no wise man ever found the way, he died buffetted by his own imaginings;
مردِ دانا تجلی کے نور کے بغیر راہ نہیں پاتا جبکہ نادان اس تجلی کے بغیر اپنے پریشان خیالوں کی دو لتیوں ہی سے مر جاتا ہے ۔
Without revelation life is a mortal sickness, reason is banishment, religion constraint.
تجلی کے بغیر زندگی دکھ درد ہے اور عقل تو حقیقتِ زندگی سے دور لے جاتی ہے اور اس کا دین محض مجبوری بن کر رہ جاتا ہے ۔
This world of mountain and plain, ocean and land, we yearn for vision, and it speaks of report.
پہاڑ، بیابان اور سمندر اور خشکی کی یہ دنیا ہمیں صرف اللہ تعالیٰ کی خبر دیتی ہے مگر ہم اس کے دیدار کے خواہاں ہیں ۔
Though from my soil nothing grows but words, the language of banishment never comes to an end.
اگرچہ میری خاک سے کلام کے سوا اور کچھ نہیں پیدا ہوتا مگر میرا کلام ہجر کی پوری داستان بیان نہیں کر سکا ۔
Under the heavens I feel myself a stranger: from beyond the skies utter the words I am near;
اپنے آپ کو اس دنیا میں اجنبی سمجھتا ہوں ۔ تو اے خدا آسمان کے اس جانب سے مجھے صدا دے کہ میں قریب ہوں ۔
That these dimensions, this north and this south, like to the sun and moon in the end may set;
تاکہ جہان کی یہ طرفیں اور یہ شمال اور یہ جنوب سب سورج اور چاند کی طرح نظروں سے اوجھل ہو جائیں ۔ تاکہ میں قیدِ مکان سے آزاد ہو جاؤں ۔
I shall transcend the talisman of yesterday and tomorrow, transcend the moon, sun, Pleiades.
میں گزرے ہوئے کل اور آنے والے کلی ماضی اور مستقل کے جادو سے نکل جاؤں اور چاند اور سورج اور پروین سے گزر جاؤں ۔
Thou art eternal splendour; we are like sparks; a breath or two we possess, and that too borrowed.
اے خدا تو ہمیشہ رہنے والا نور ہے جبکہ ہم چنگاری کی مانند عارضی و فانی ہیں ۔ ہماری زندگی کے دو ایک سانس ہی ہیں اور وہ بھی ادھار ہیں ۔
You who know naught of the battle of death and life, who is this slave who would emulate even God?
اے ذاتِ اقدس تجھے موت اور زندگی کے باہمی نزاع کا پتہ نہیں ہے ۔ یہ ناچیز خدا پر رشک کرنے والا کون ہوتا ہے ۔
This slave, impatient, conquering all horizons, finds pleasure neither in absence nor in presence.
خدا پر رشک کرنے والا یہ بندہ کائنات کو مسخر کیے ہوئے ہے لیکن پھر بھی وہ صبر کرنے والا نہیں ہے ۔ نہ تو اسے تجھ سے دوری اچھی لگتی ہے اور نہ تیری حضوری ہی اچھی لگتی ہے ۔وصل میں مرگِ آرزو ہجر میں لذتِ طلب
I am a momentary thing: make me eternal, out of my earthiness make me celestial.
میری زندگی ایک لمحہ کی زندگی ہے اسے جاوداں کر دے ۔ گو میں زمینی ہوں لیکن تو مجھے آسمانی بنا دے ۔
Grant me precision both in speech and action: the ways are clear- give me the strength to walk.
مجھے گفتار اور کردار میں ضبط عطا فرما دے ۔ راستے ظاہر ہیں ان پر چلنے کے لیے تو مجھے رفتار عطا فر ما دے ۔
What I have said comes from another world; this book descends from another heaven.
میں نے جو کچھ اس کتاب (جاوید نامہ) میں کہا ہے اس کا تعلق کسی اور جہان سے ہے ۔ یہ کتاب کسی اور آسمان سے ہے ۔
I am a sea; untumult in me is a fault; where is he who can plunge into my depths?
میں ایک سمندر ہوں اور یہ خیال کرنا کہ مجھ میں طوفان نہیں ہے ایک غلط بات ہے ۔ وہ شخص جو میرے افکار کی گہرائی میں اترے کہاں ہے
A whole world slumbered upon my shore and saw from the strand naught but the surge of a wave.
ایک دنیا نے میرے ساحل پر آرام کیا مگر ان بے شمار لوگوں نے ساحل سے سوائے موجوں کے چلنے کے اور کچھ نہ دیکھا ۔ (مطلب یہ کہ لوگوں نے میری شاعری کو عام شاعری کی طرح پڑھا اور اس کی تہ یا گہرائی میں اترنے کی کوشش نہیں کی) ۔
I, who despair of the great sages of old, have a word to say touching the day to come!
میں جو پرانے بوڑھوں سے نا امید ہوں میں آنے والے دور کی بات کہنا چاہتا ہوں (مطلب یہ کہ بوڑھوں نے تومیری شاعری کی طرف توجہ نہیں دی تاہم مجھے آنے والی نوجوان نسل سے توقع ہے کہ وہ اس کی طرف توجہ کریں گے ) ۔
Render my speech easy unto the young, make my abyss for them attainable.
اے خدا تو جوانوں کے لیے میری شاعری آسان کر دے ان کے لیے میرے سمندر کو عبور کرنا آسان بنا دے ۔ خدایا آرزو میری یہی ہے میرا نورِ بصیرت عام کر دے
Sources and translator credits
- Original text transcription: Javid Nama — مناجات — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Javid Nama — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- javid-nama: published English translation by آربری — Published digital poem page (1dbkdcaw.json); retrieved 2026-10-05.Translation by آربری; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- javid-nama: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (1dbkdcaw.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
