جواب شکوہ

English title: THE RESPONSE TO THE COMPLAINT

Translations
دل سے جو بات نکلتي ہے اثر رکھتي ہےپر نہيں' طاقت پرواز مگر رکھتي ہے
قدسي الاصل ہے' رفعت پہ نظر رکھتي ہےخاک سے اٹھتي ہے ، گردوں پہ گزر رکھتي ہے
عشق تھا فتنہ گرو سرکش و چالاک مراآسماں چير گيا نالہ بے باک مرا
پير گردوں نے کہا سن کے' کہيں ہے کوئيبولے سيارے' سر عرش بريں ہے کوئي
چاند کہتا تھا' نہيں! اہل زميں ہے کوئيکہکشاں کہتي تھي' پوشيدہ يہيں ہے کوئي
کچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھے جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھا
تھي فرشتوں کو بھي حيرت کہ يہ آواز ہے کيا!عرش والوں پہ بھي کھلتا نہيں يہ راز ہے کيا
!تا سر عرش بھي انساں کي تگ و تاز ہے کيا!آگئي خاک کي چٹکي کو بھي پرواز ہے کيا
غافل آداب سے سکان زميں کيسے ہيں!شوخ و گستاخ يہ پستي کے مکيں کيسے ہيں
اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھي برہم ہے!تھا جو مسجود ملائک' يہ وہي آدم ہے
عالم کيف ہے' دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہے
ناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سليقہ نہيں نادانوں کو
آئي آواز' غم انگيز ہے افسانہ ترااشک بے تاب سے لبريز ہے پيمانہ ترا
آسماں گير ہوا نعرئہ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل ديوانہ ترا
شکر شکوے کو کيا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر ديا نبدوں کو خدا سے تو نے
ہم تو مائل بہ کرم ہيں' کوئي سائل ہي نہيںراہ دکھلائيں کسے' رہر و منزل ہي نہيں
تربيت عام تو ہے' جوہر قابل ہي نہيںجس سے تعمير ہو آدم کي' يہ وہ گل ہي نہيں
کوئي قابل ہو تو ہم شان کئي ديتے ہيںڈھونڈنے والوں کو دنيا بھي نئي ديتے ہيں
ہاتھ بے زور ہيں' الحاد سے دل خوگر ہيںامتي باعث رسوائي پيغمبر ہيں
بت شکن اٹھ گئے' باقي جو رہے بت گر ہيںتھا براہيم پدر اور پسر آزر ہيں
بادہ آشام نئے ، بادہ نيا' خم بھي نئےحرم کعبہ نيا' بت بھي نئے' تم بھي نئے
وہ بھي دن تھے کہ يہي مايہ رعنائي تھانازش موسم گل لالہ صحرائي تھا
جو مسلمان تھا' اللہ کا سودائي تھاکبھي محبوب تمھارا يہي ہرجائي تھا
کسي يکجائي سے اب عہد غلامي کر لو!ملت احمد مرسل کو مقامي کو لو
کس قدر تم پہ گراں صبح کي بيداري ہےہم سے کب پيار ہے! ہاں نيند تمھيں پياري ہے
طبع آزاد پہ قيد رمضاں بھاري ہےتمھي کہہ دو يہي آئين و فاداري ہے؟
قوم مذہب سے ہے' مذہب جو نہيں' تم بھي نہيںجذب باہم جو نہيں' محفل انجم بھي نہيں
جن کو آتا نہيں دنيا ميں کوئي فن' تم ہونہيں جس قوم کو پروائے نشيمن، تم ہو
بجلياں جس ميں ہوں آسودہ' وہ خرمن تم ہوبيچ کھاتے ہيں جو اسلاف کے مدفن، تم ہو
ہو نکو نام جو قبروں کي تجارت کرکےکيا نہ بيچو گے جو مل جائيں صنم پتھر کے
صفحہ دہرئے سے باطل کو مٹايا کس نے؟نوع انساں کو غلامي سے چھڑايا کس نے؟
ميرے کعبے کو جبينوں سے بسايا کس نے؟ميرے قرآن کو سينوں سے لگايا کس نے؟
تھے تو آبا وہ تھارے ہي' مگر تم کيا ہو!ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو
کيا کہا ! بہر مسلماں ہے فقط وعدہ حورشکوہ بے جا بھي کرے کوئي تو لازم ہے شعور
عدل ہے فاطر ہستي کا ازل سے دستورمسلم آئيں ہوا کافر تو ملے حور و قصور
تم ميں حوروں کا کوئي چاہنے والا ہي نہيںجلوئہ طور تو موجود ہے' موسي ہي نہيں
منفعت ايک ہے اس قوم کي' نقصان بھي ايکايک ہي سب کا نبي' دين بھي' ايمان بھي ايک
حرم پاک بھي' اللہ بھي' قرآن بھي ايککچھ بڑي بات تھي ہوتے جو مسلمان بھي ايک
فرقہ بندي ہے کہيں اور کہيں ذاتيں ہيںکيا زمانے ميں پنپنے کي يہي باتيں ہيں
کون ہے تارک آئين رسول مختار؟مصلحت وقت کي ہے کس کے عمل کا معيار؟
کس کي آنکھوں ميں سمايا ہے شعار اغيار؟ہوگئي کس کي نگہ طرز سلف سے بيزار؟
قلب ميں سوز نہيں' روح ميں احساس نہيںکچھ بھي پيغام محمد کا تمھيں پاس نہيں
جاکے ہوتے ہيں مساجد ميں صف آرا' تو غريبزحمت روزہ جو کرتے ہيں گوارا ، تو غريب
نام ليتا ہے اگر کوئي ہمارا' تو غريبپردہ رکھتا ہے اگر کوئي تمھارا' تو غريب
امرا نشہ دولت ميں ہيں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بيضا غربا کے دم سے
واعظ قوم کي وہ پختہ خيالي نہ رہيبرق طبعي نہ رہي، شعلہ مقالي نہ رہي
رہ گئي رسم اذاں روح بلالي نہ رہيفلسفہ رہ گيا ، تلقين غزالي نہ رہي
مسجديں مرثيہ خواں ہيں کہ نمازي نہ رہےيعني وہ صاحب اوصاف حجازي نہ رہے
شور ہے، ہو گئے دنيا سے مسلماں نابود!ہم يہ کہتے ہيں کہ تھے بھي کہيں مسلم موجود
وضع ميں تم ہو نصاري تو تمدن ميں ہنوديہ مسلماں ہيں! جنھيں ديکھ کے شرمائيں يہود
يوں تو سيد بھي ہو، مرزا بھي ہو، افغان بھي ہو!تم سبھي کچھ ہو ، بتائو تو مسلمان بھي ہو
دم تقرير تھي مسلم کي صداقت بے باکعدل اس کا تھا قوي، لوث مراعات سے پاک
شجر فطرت مسلم تھا حيا سے نم ناکتھا شجاعت ميں وہ اک ہستي فوق الادراک
خود گدازي نم کيفيت صہبايش بودخالي از خويش شدن صورت مينايش بود
ہر مسلماں رگ باطل کے ليے نشتر تھااس کے آئينہء ہستي ميں عمل جوہر تھا
جو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمھيں موت کا ڈر، اس کو خدا کا ڈر تھا
باپ کا علم نہ بيٹے کو اگر ازبر ہو!پھر پسر قابل ميراث پدر کيونکر ہو
ہر کوئي مست مے ذوق تن آساني ہے!تم مسلماں ہو! يہ انداز مسلماني ہے
حيدري فقر ہے نے دولت عثماني ہےتم کو اسلاف سے کيا نسبت روحاني ہے؟
وہ زمانے ميں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر
تم ہو آپس ميں غضب ناک، وہ آپس ميں رحيمتم خطاکار و خطابيں، وہ خطا پوش و کريم
چاہتے سب ہيں کہ ہوں اوج ثريا پہ مقيمپہلے ويسا کوئي پيدا تو کرے قلب سليم
تخت فغفور بھي ان کا تھا، سرير کے بھييونہي باتيں ہيں کہ تم ميں وہ حميت ہے بھي؟
خودکشي شيوہ تمھارا، وہ غيور و خود دارتم اخوت سے گريزاں، وہ اخوت پہ نثار
تم ہو گفتار سراپا، وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلي کو، وہ گلستاں بہ کنار
اب تلک ياد ہے قوموں کو حکايت ان کينقش ہے صفحہ ہستي پہ صداقت ان کي
مثل انجم افق قوم پہ روشن بھي ہوئےبت ہندي کي محبت ميں برہمن بھي ہوئے
شوق پرواز ميں مہجور نشيمن بھي ہوئےبے عمل تھے ہي جواں ، دين سے بدظن بھي ہوئے
ان کو تہذيب نے ہر بند سے آزاد کيالا کے کعبے سے صنم خانے ميں آباد کيا
قيس زحمت کش تنہائي صحرا نہ رہےشہر کي کھائے ہوا ، باديہ پيما نہ رہے
وہ تو ديوانہ ہے، بستي ميں رہے يا نہ رہے!يہ ضروري ہے حجاب رخ ليلا نہ رہے
گلہ جور نہ ہو ، شکوئہ بيداد نہ ہو!عشق آزاد ہے ، کيوں حسن بھي آزاد نہ ہو
عہد نو برق ہے ، آتش زن ہر خرمن ہےايمن اس سے کوئي صحرا نہ کوئي گلشن ہے
اس نئي آگ کا اقوام کہن ايندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پيراہن ہے
آج بھي ہو جو براہيم کا ايماں پيداآگ کر سکتي ہے انداز گلستاں پيدا
ديکھ کر رنگ چمن ہو نہ پريشاں ماليکوکب غنچہ سے شاخيں ہيں چمکنے والي
خس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خاليگل بر انداز ہے خون شہدا کي لالي
رنگ گردوں کا ذرا ديکھ تو عنابي ہےيہ نکلتے ہوئے سورج کي افق تابي ہے
امتيں گلشن ہستي ميں ثمر چيدہ بھي ہيںاور محروم ثمر بھي ہيں، خزاں ديدہ بھي ہيں
سينکڑوں نخل ہيں، کاہيدہ بھي، باليدہ بھي ہيںسينکڑوں بطن چمن ميں ابھي پوشيدہ بھي ہيں
نخل اسلام نمونہ ہے برومندي کاپھل ہے يہ سينکڑوں صديوں کي چمن بندي کا
پاک ہے گرد وطن سے سر داماں تيراتو وہ يوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تيرا
قافلہ ہو نہ سکے گا کبھي ويراں تيراغير يک بانگ درا کچھ نہيں ساماں تيرا
نخل شمع استي و درشعلہ دود ريشہ توعاقبت سوز بود سايہ انديشہ تو
تو نہ مٹ جائے گا ايران کے مٹ جانے سےنشہ مے کو تعلق نہيں پيمانے سے
ہے عياں يورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
کشتي حق کا زمانے ميں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے، دھندلا سا ستارا تو ہے
ہے جو ہنگامہ بپا يورش بلغاري کاغافلوں کے ليے پيغام ہے بيداري کا
تو سمجھتا ہے يہ ساماں ہے دل آزاري کاامتحاں ہے ترے ايثار کا، خود داري کا
کيوں ہراساں ہے صہيل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سے
چشم اقوام سے مخفي ہے حقيقت تيريہے ابھي محفل ہستي کو ضرورت تيري
زندہ رکھتي ہے زمانے کو حرارت تيريکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تيري
وقت فرصت ہے کہاں، کام ابھي باقي ہےنور توحيد کا اتمام ابھي باقي ہے
مثل بو قيد ہے غنچے ميں، پريشاں ہوجارخت بردوش ہوائے چمنستاں ہوجا
ہے تنک مايہ تو ذرے سے بياباں ہوجا!نغمہ موج سے ہنگامہء طوفاں ہوجا
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر ميں اسم محمد سے اجالا کر دے
ہو نہ يہ پھول تو بلبل کا ترنم بھي نہ ہوچمن دہر ميں کليوں کا تبسم بھي نہ ہو
يہ نہ ساقي ہو تو پھرمے بھي نہ ہو، خم بھي نہ ہوبزم توحيد بھي دنيا ميں نہ ہو، تم بھي نہ ہو
خيمہ افلاک کا استادہ اسي نام سے ہےنبض ہستي تپش آمادہ اسي نام سے ہے
دشت ميں، دامن کہسار ميں، ميدان ميں ہےبحر ميں، موج کي آغوش ميں، طوفان ميں ہے
چين کے شہر، مراقش کے بيابان ميں ہےاور پوشيدہ مسلمان کے ايمان ميں ہے
چشم اقوام يہ نظارہ ابد تک ديکھےرفعت شان 'رفعنالک ذکرک' ديکھے
مردم چشم زميں يعني وہ کالي دنياوہ تمھارے شہدا پالنے والي دنيا
گرمي مہر کي پروردہ ہلالي دنياعشق والے جسے کہتے ہيں بلالي دنيا
تپش اندوز ہے اس نام سے پارے کي طرحغوطہ زن نور ميں ہے آنکھ کے تارے کي طرح
عقل ہے تيري سپر، عشق ہے شمشير تريمرے درويش! خلافت ہے جہاں گير تري
ماسوي اللہ کے ليے آگ ہے تکبير تريتو مسلماں ہو تو تقدير ہے تدبير تري
کي محمد سے وفا تو نے تو ہم تيرے ہيںيہ جہاں چيز ہے کيا، لوح و قلم تيرے ہيں
Sources and translator credits
  • Original text transcription: Bang-e-Dara — جواب شکوہ — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
  • Iqbal Demystified source list: Bang-e-Dara — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
  • Reviewed exact Persian line-language classifications for the digital Urdu collectionsSource
  • Bang-e-Dara English translation at allama-iqbal.com — The Response To The Complaint — Public digital poem page, retrieved 2026-10-05; pinned to allama-iqbal.com commit 82547635bb6b758c45082084b2f152fc453a8056.Translation by Dr M.A.K. Khalil; English Translation by: Dr M.A.K. KhalilSource
  • Bang-e-Dara: published Urdu field at allama-iqbal.com — Public poem data pinned to allama-iqbal.com repository commit 82547635bb6b758c45082084b2f152fc453a8056; source path allama-iqbal-com-content/bang-e-dara/3a/28.json.Translation by Not separately identified; The published Urdu field does not separately identify its translator. No English translator credit is reused.Source
  • Bang-e-Dara: published Urdu rendering at Iqbal Rahber — Public published source page; pinned snapshot rahber-mixed-jawab-shikwa-poem.txt.Translation by Not separately identified; Published Urdu rendering from Iqbal Rahber; no translator is separately identified.Source
Back to Bang-e-Dara