اﷲالصمد
English title: "God, the Absolute."
Published English translations cover only part of this poem.
Published Urdu translations cover some, but not all, Persian verses in this poem.
No slave To things material God’s servant is; Life is no turning of a water-wheel.
اس لیے کہ خدا کا بندہ اسباب کا بندہ نہیں ہو سکتا اور زندگی کی رہٹ کا چکر نہیں ۔
If thou be Muslim, be not suppliant Of other’s succour; be the embodiment Of good to all the world.
اگر تو مسلمان ہے تو خدا کے سوا ہر شے سے بے نیاز ہو جا اور دنیا کے لیے خیر و برکت کا سرچشمہ بن جا ۔
Make not complaint Of scurvy fortune to the fortunate, Nor from thy sleeve reach out a beggar’s hand.
دولت مند کے پاس جا کر گردش روزگار کے شکوے نہ کر اورا س طرح اپنے لیے سوا ل کا دروازہ نہ کھول بلکہ آستین سے باہر ہی نہ نکال ۔ (کسی سے کچھ نہ مانگ) ۔
Like Ali, be content with barley-bread; Break Marhab’s neck, and capture Khyber’s fort.
حضرت علی کی طرح جو کی روٹی کو اپنا شعار بنا لے ۔ مرحب جیسے زور آور سردار کی گردن توڑ اور خیبر جیسے مستحکم مقام پر قبضہ کر لے ۔
Why bear the favour of the bountiful, Why feel the lancet of their nay and yea?
اہل کرم کا احسان کیوں لیا جائے ان کے ہاتھ سے ہاں یا نہیں کا نشتر کیوں کھایا جائے ۔ ہاں اور نہیں دونوں کی حیثیت نشتر کی ہے جس سے سوالی کے دل پر زخم لگتے ہیں ۔ اگر سوال پورا کیا گیا تو دینے والے کا احسان ہوا اور لینے والے کی خودداری کو نقصان پہنچا ۔ اگر سوال ٹھکرا دیا گیا تو مطلب یہ ہوا کہ خودداری کو مجروح کر لینے کے باوجود ضرورت بھی پوری نہ ہوئی یہ بھی بہرحال زخم ہی ہوا ۔
Take not the sustenance from mean, base hands; Thou art a Joseph; count thyself not cheap.
تو اپنا رزق کمینوں کے ہاتھ سے نہ لے ۔ تو یوسف ہے تیری قیمت بہت زیادہ ہے تجھے اپنے آپ کو ارزان نہ کرنا چاہیے ۔
And if thou be an ant, and lackest wings And feathers, go not unto Solomon To plead thy want.
اگرچہ تیری حیثیت چیونٹی کی ہو، ساتھ ہی تو بے بال و پر بھی ہو ، پھر بھی تیرے لیے زیبا نہیں کہ تو اپنی حاجت سلیمان کے سامنے لے جائے ۔
The road is arduous; Go light-accoutred, if thou wouldst attain; Unfettered live thy days, unfettered die.
زندگی کا راستہ بڑا کٹھن ہے اپنے ساتھ سامان بہت کم لے ۔ دنیا میں آزاد زندہ رہ اور آزاد ہی مر
Count o’er the rosary of Take thou less Of this world’s goods, and thou shalt riches win In living free.
حضرت عمر کا یہ کتنا اچھا ارشاد ہے وہ دنیوی ضرورتیں کم کر دے اور آزادانہ زندگی بسر کر تو اسی ارشاد کو نقشہ عمل بنا ۔ اقلل من الدنیا تعش حرا یہ قول حضرت عمر سے منسوب ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیوی ضرورتیں کم کردے اور آزادانہ زندگی بسر کر ۔ ظاہر ہے کہ انسان کی ضرورتیں جتنی زیادہ ہوں گے اتنی ہی اسے تگ و دو کرنی پڑے گی اور جب خود اس کی تگ و دو سے ضرورتیں پوری نہ ہوں گی تو وہ دوسروں کے لطف و کرم کا محتاج ہو گا اسی طرح اس کی آزادی چھن جائے گی ۔ دنیا سے بے نیاز وہی رہ سکتا ہے جس کی ضرورتیں بہت کم ہوں ۔
So far as in thee lies Become that Stone of the philosophers, Not the base dross; a benefactor be, Not a petitioner for others’ alms.
جس حد تک ممکن ہو، مٹی نہ بن، کیمیا بن ۔ تجھے نعمت ہونا چاہیے جو دوسروں کو بخشش سے مالا مال کرے، سوالی نہ ہونا چاہیے ۔
Thou knowest well bu Ali’s eminence, Accept from me this draught, drawn from his cup
تو حضرت بو علی قلندر رحمتہ اللہ علیہ کے مقام اور مرتبے کو پہچانتا ہے ، میں انھیں کے جام ارشادات میں سے ایک گھونٹ تجھے پلاتا ہوں ۔
“Trample Kai-Kaus’ throne beneath thy foot; Yield up thy life, but not thy self-respect!”
وہ فرماتے ہیں ، کیکاوَس کے تخت ٹھکرا دے ، سر دے دے مگر عزت و ناموس ہاتھ سے نہ دے ۔
The tavern door stands open of itself To those whose bowls are empty, whose needs none.
یہ سنت الہٰی ہر لحظہ پیش نظر رکھ کہ جن لوگوں کے جام شراب سے خالی ہیں اگر وہ اللہ تعالیٰ کی صفت بے نیازی اپنے اندر پیدا کرلیں گے تو ان کے لیے شراب خانے کا دروازہ خودبخود کھل جائے گا ۔
Harun Rashid, that captain of the Faith Whose blade to Nicephor of Byzance proved A deadly potion
مسلمانوں کے خلیفہ ہارون الرشید کا واقعہ ہے ۔ وہی ہارون الرشید جس کی تلوار کی دھار کا مزہ نقفور نے بھی چکھا ۔ نقفور مشرقی رومی سلطنت کا بادشاہ تھا ۔ شروع میں ملکہ آئرین کے ماتحت یہ وزیر مال تھا ۔ پھر درباریوں کو ساتھ ملا کر تخت پر بیٹھ گیا ملک آئزین خراج ادا کرتی تھی ۔
unto Malik spoke Upon this fashion: “Master of my folk, The dust before whose door illuminates My people’s brow,
ہارون الرشید نے امام مالک سے کہا کہ اے قوم کے آقا آپ کے دروازے کی خاک سے قوم پیشانی روشن ہے ۔
melodious nightingale Carolling mid the roses of good words, I am desirous to be taught by thee The secrets of those words.
آپ حدیث کے باغ میں نغمہ سنج ہیں ، میں بھی چاہتا ہوں کہ آپ سے حدیث کے اسرار کا درس لوں ۔
How long art thou Content in Yemen to conceal the glow Of thy bright rubies? Rise, and pitch thy tent Here, in the homestead of the Caliphate.
لعل کب تک یمن میں پردوں کے اندر چھپا رہے گا ، آئیے دارالخلافت (بغداد) میں قیام فرمائیے ۔ امام مالک مسجد النبی (مدینہ منورہ ) میں درس دیا کرتے تھے ۔
How fair the brightness of the shining day, The captivating beauty of Iraq!
عراق میں دن خوب روشن ہوتے ہیں اور یہاں حسن بھی بڑا نظر سوز ہوتا ہے
The Fount of Khizer gushes from its vines, Its earth is healing for the wounds of Christ.”
اس کے انگور سے آب خضر (آب حیات) ٹپکتا ہے اورا س کی مٹی زخم مسیحا کے لیے مرہم ہے ۔
“I am the Prophet’s servant,” Malik said, “And only him I love, with all my heart.
امام مالک نے جواب دیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کا ملازم ہوں ۔ حضور ﷺ کے عشق کے سوا میرے سر میں کسی کا سودا نہیں ۔
Bound to his saddle-bow, I will not quit His holy sanctuary
میں حضور ہی کے شکار بند سے بندھا ہوا ہوں اور اس پاک حرم سے اٹھ کر کہیں جا نہیں سکتا ۔
By the kiss Of Yathrib’s dust I live; my night to me Is fairer that Iraq’s pellucid day.
خاک یثرب کو بوسہ دینا میری زندگی ہے اور میری راتیں عراق کے دنوں سے زیادہ خوشگوار ہیں ۔
Love says, ‘Obey my ordinance; sign not The articles of service even to kings.’
عشق حق کا فرمان تو یہ ہے کہ میرا حکم مان اور بادشاہوں کو خدمت گاری کے لیے بھی قبول نہ کر ۔
Thou wouldst become my master, overlord Of this freed slave of God, that I should wait
تو چاہتا ہے کہ میرا آقا بن جائے اور آزاد انسانوں کا مولا کہلائے ۔
Upon thy door to teach thee, and no more Serve the community, being bound to thee.
میں تعلیم دینے کے لیے تیرے دروازے پر آوَ ں ۔ قوم کا خدمت گزار ملازم نہیں ہو سکتا ۔
Be it thy wish some portion to attain Of godly knowledge, in my circle sit And study with the rest.
اگر تو دین کا کچھ علم حاصل کرنا چاہتا ہے تو میرے حلقہ درس میں آ کر بیٹھ ۔
Indifference To worldly needs engenders fine disdain, And holy pride takes many splendid shapes.”
بے نیازی میں بھی بڑے ناز ہیں اور ان نازوں سے بے شمار انداز ہیں ۔
Godly indifference is to put on The hue of God, and from thy robe to wash The dye of otherness.
بے نیازی کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان حق کا رنگ اختیار کرنے اور غیر کا رنگ پیراہن سے دھو ڈالے ۔
But thou hast learned The rote of others, taking that for store, An alien rouge to beautify thy face;
اے مسلمان! تو نے غیروں کا علم پڑھا اور اسی کو ذخیرہ کیا ۔ اسی غازہ سے اپنا چہرہ چمکا۔
In those insignia thou takest pride, Until I know not if thou be thyself Or art another.
غیر ہی کے طور طریقوں کو اپنے لیے باعث عزت سمجھتا ہے ۔ میں نہیں جانتا کہ تو تو ہے یا غیر ہے یعنی تیری حقیقی حیثیت غیر کی نقالی میں گم ہو ئی ہے اور یقینا تو تو نہیں رہا ۔
Fanned by foreign blasts Thy soil is fallen silent, and no more Fertile in fragrant roses and sweet herbs.
غیر کی باد نسیم نے تیری مٹی کو خشک اور بے آب و گیاہ بنا دیا ۔ وہاں گلاب اور ناز بو پیدا ہوتے تھے ۔ تیری مٹی اب ان سے محروم ہو گئی ۔
Desolate not thy tilth with thy own hand; Make it not beg for rain from alien clouds.
تو اپنا کھیت اپنے ہاتھوں نہ اجاڑ اور غیر کے بادل سے بارش کی بھیک نہ مانگ ۔
Thy mind is prisoner to others’ thoughts, Another’s music throbs within thy throat,
تیری عقل غیر کے افکار کی قیدی ہے ۔ تیرے گلے میں جو سانس ہے وہ بھی غیر ہی کا ایک تار ہے ۔
Thy very speech is borrowed, and thy heart Dilates with aspirations not thine own.
تیری زبان کی گفتگو ئیں اور تیرے دل کی آرزوئیں سب مستعار ہیں ، یعنی ان میں سے کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو تیری ہو ۔
The song thy ring-doves sing, the leafy gowns That deck thy cypresses, are meanly begged;
تیری قمریوں کے ترانے اور تیرے سروں کی قبائیں سب دوسروں سے مانگی ہوئی ہیں ۔
Thou takest wine from others in a bowl Itself from others taken upon loan.
حد یہ ہے کہ تو اپنے پیالے میں شراب ہی نہیں بلکہ پیالہ بھی دوسروں سے قرض لیتا ہے
If he, whose glance contains the mystery Erred not the sight – if he should come again Unto his people,
وہ پاک ذات، جس کی نگاہ کے لیے قرآن مجید کا ارشاد ہے ، نہ کجی کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھ نے اور نہ غلطی کھائی (سورہ نجم) ۔ اگر وہ اپنی قوم کی طرف دوبارہ آئے ۔
he whose candle-flame Knows its own moth, who can distinguish well His own from strangers standing at the gate,
وہ جس کی شمع پروانوں کو پہچانتی ہے ، جانتے ہو ، وہ تم جیسے مسلمانوں کو کیا کہے گی
Our master would declare, Thou art not mine. Woe, woe, alas for us upon that day!
تم مجھ سے نہیں تمہیں مجھ سے کسی قسم کا تعلق نہیں ۔ یہ سن کر ہم اس کے سوا کیا کہیں گے کہ افسوس ہم پر ، افسوس ہم پر
How long wilt thou content thyself to live The life of stars, that in the risen morn Lose all their being?
ستاروں کی طرح کب تک زندگی بسر کرو گے اپنی ہستی کو صبح کی روشنی میں کب تک گم رکھو گے
Thou hast been deceived By the false dawn, packed up thy goods and gone From the broad firmament.
تم نے صبح کاذب کا دھوکہ کھایا اور اپنے آپ کو ختم کر لیا ۔ اپنی حقیقت پر نظر ڈالو
Thou art the sun; Look on thy self a little; purchase not Some shreds of radiance from others’ stars!
تم تو خود سورج ہو، پھر دوسروں کے تاروں سے روشنی کیو ں لیتے ہو ۔
Thou hast engraved thy heart with alien shapes, Gambled the alchemy and gained the dross;
تم نے اپنے دل پر غیر کا نقش بٹھا لیا ۔ افسوس، مٹی کے بدلے کیمیا ہار دی ۔
How long this glittering with others’ shine? Shake off heavy fumes for foreign grapes!
تم کب تک دوسروں کی چمک دمک کے بل پر چمکتے رہو گے اپنا سر دوسروں کی شراب سے ہلکا کرو یعنی دوسروں کی شراب پی کر سرگرداں اور متوالے مت بنو ۔
How long this fluttering about the flame Of party lanterns? If thou hast a heart Within thy breast, with thine own ardour burn!
تم کب تک محفل کے چراغ کے چکر لگاتے رہو گے ۔ اگر تمہارے پہلو میں دل ہے تو اپنی آگ میں جلو ۔
Be like the gaze, wrapped round in thy own veils; Rise on the wing, but ever wheel back home;
تم نظر کی صورت اختیار کرو، اپنی آنکھ کے پردوں ہی میں رہو ۔ اڑنا چاہتے ہو تو اڑو، مگر اپنی جگہ نہ چھوڑو ۔ نظر کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے پردے نہیں چھوڑتی ۔ ہر جگہ گھومتی ہے مگر اپنی جگہ رہتی ہے ۔
Bubble-like bar thy little privacy Against the intruder, if thou wouldst be wise.
اے عقلمند! دنیا میں بلبلے کی مانند اپنی خلوت کی جگہ کا راستہ غیروں پر بند کر دے ۔
No man to individuality Ever attained, save that he knew himself, No nation came to nationhood, except It spurned to suit the whim of other men
فرداس لیے فرد ہے کہ اس نے اپنی ہستی پہچان لی ۔ قوم اس لیے قوم ہوئی کہ اس نے اپنے سوا کسی سے سازگاری کا ڈول نہ ڈالا(مراد یہ ہے کہ فرد اور قوم دونوں کی ہستی احساس خودی پر موقوف ہے) ۔
Sources and translator credits
- Original text transcription: Rumuz-e-Bekhudi — اﷲالصمد — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Rumuz-e-Bekhudi — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- rumuz-e-bekhudi: published English translation by آربری — Published digital poem page (17m3ikrr.json); retrieved 2026-10-05.Translation by آربری; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- rumuz-e-bekhudi: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (17m3ikrr.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
