قل ہواللہ احد
English title: “Say: He is God, the One”
I dreamed one night I looked upon Siddiq And plucked a rose that blossomed at his feet
ایک رات میں نے حضرت ابوبکر صدیق کو خواب میں دیکھا اور آپ کے راستے کی خاک سے پھول چنے ۔
He, that most generous was of all mankind Unto our Master, he that stood the first Like Moses on the Sinai of our Faith,
وہ ابوبکر جن کے احسان ہمارے آقا و مولا پر انسانوں سے زیادہ ہیں ۔ وہ ابوبکر جو ہمارے کوہ سینا کے پہلے کلیم تھے ۔ پہلے مصرع کے متعلق حدیث درج ہے کہ رفاقت اور مال میں حضرت ابوبکر کے احسان سب سے بڑھ کر ہے ۔ یعنی انھوں نے سب سے بڑھ کر صحابیت کا حق ادا کیا اور انھوں نے سب سے بڑھ کر پیغام حق کی اشاعت میں مال صرف کیا ۔ امن الناس اشارہ ہے اس حدیث کی طرف کی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا امن الناس علی فی صحبتہ و مالہ ابوبکر تمام انسانوں میں سے مجھ پر رفاقت اور مال میں سب سے بڑھ کر احسان ابوبکر نے کیے ہیں ۔
Whose zeal was as a cloud that showered rain Upon the tilth of our community, Second to own Islam, to share the Cave, Badr, and the Tomb.
حضرت ابوبکر کی ہمت اور ان کی ایثار کی حیثیت قومی کھیت کے لیے ابر رحمت کی تھی ۔ وہ اسلام غار، بدر اور قبر میں دوسرے تھے ۔
“O chosen of Love’s choice,” I cried to him, “whose love is the first line In the collected poetry of Love,
میں نے عرض کیا، اے عشق حق کے برگزیدوں میں سے برگزیدہ، آپ ہی عشق حق کے دیوان کا پہلا مطلع ہے ۔
Whose hand established on a firmer base A remedy for our immediate woes.”
ہمارے کام کی بناید آپ ہی کے ہاتھ سے مضبوط ہے کیونکہ اسلام کے لیے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد پہلا مصیبت خیز دور وہ تھا جس میں مختلف گروہ بغاوت پر آمادہ ہو گئے تھے ۔ ان میں سے بعض لوگ مرتد ہو چکے تھے ۔ بعض نے نبوت کا دعویٰ کر دیا تھا اور بعض نے زکواۃ روک لی تھی ۔ حالات بڑے تشویشناک تھے ۔ میں نے عرض کیا کہ جس طرح آپ نے ہماری بنیاد درست کر دی تھی اسی طرح ہماری بیماری کیلیے جس نے ہمیں سخت پریشان کر رکھا ہے کوئی علاج تجویز فرما دیجئے ۔
“How long”, said he, “wilt thou be prisoner To base desire? Get lustre, and new light To light thee, from the Surah of Pure Faith.”
فرمایا! تو کب تک حرص و ہوس کا قیدی بنا رہے گا سورہ اخلاص سے چمک اور تابش حاصل کر ۔
This one breath, winding in a hundred breasts, Is but one secret of the Unity;
دیکھو، سینکڑوں سینوں میں ایک ہی سانس چل رہا ہے ۔ یہ بھی توحید کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے ۔
Get thee its colour, to be like to it, Reflective to its beauty in the world.
تم بھی اسی (خدا) کا رنگ پیدا کرو تو اسی جیسے بن جاوَ گے اور دنیا میں اسی کے عکس جمال کے آئینہ دار ہو جاوَ گے ۔
He, who bestowed this Muslim name on thee, Drew thee to Oneness from Duality;
جس نے تمہارا نام مسلمان رکھا وہ تجھے کثرت سے وحدت کی طرف لایا ہے (مسلمان نام اللہ نے رکھا، قرآن میں ہے وھو سمکم المسلمین ، فرماتے ہیں کہ مسلمان نام رکھنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ سب ایک رہو) ۔
’Tis thou thyself hast called thee Afghan, Turk – Ah, thou remainest as thou ever wert!
لیکن تو نے اپنے آپ کو ترک، افغان اور خدا جانے کیا کیا کچھ کہا ۔ تم پر افسوس ہے کہ تو جو کچھ تھا وہی رہا ۔
Deliver now the named from all the names; Have done with cups; ally thee to the jar!
قوم کو ان مختلف ناموں سے نجات دلاوَ ۔ خم (صراحی) سے ربط قائم رکھو، جام و ساغر سے کنارہ کش ہو جاوَ ۔
Thou hast become a scandal to thy name, A leaf that fell untimely from thy tree;
تم نام کے پیچھے پڑے ہوئے ہو (جو رسوائی کا سامان ہے) گویا تم اپنے درخت سے کچے پھل کی طرح گر گئے ہو ۔
Attune thee unto Oneness; be thou gone From Twoness; nor dissect thy Unity.
تم یگانگی سے موافقت پیدا کر لو اور دوئی سے بے تعلق ہو جاوَ، اپنی وحدت کو پارہ پارہ نہ کرو(ظاہر ہے کہ اسلامی ملت کے بجائے ترکی، افغانی، عربی ملت قرار دے لینے کا مطلب یہی ہے کہ وحدت کا شیرازہ بکھر جائے) ۔
Thou who art servant unto One, if thou Art thou, how long wilt thou to school of Two?
اے وحدت کی پرستش کرنے والو! اگر تو حقیقتا تو ہے تو تو کب تک دوئی کا سبق پڑھتا رہے گا ۔
Lo, thou hast shut thy door upon thyself Take to thy heart that which thy lips imbibed.
تم نے اپنا دروازہ اپنے آپ پر بند کر لیا ، جو کچھ زبان سے کہتے ہو چاہے کہ اسے دل میں جگہ دو ۔
A hundred nations thou hast raised from one, On thy own fort made treacherous assault.
تم نے ایک قوم کی سینکڑوں قو میں بنا ڈالیں ، گویا اپنے قلعے پر خود ہی شبخون مارا ۔
Be one; make visible thy Unity; Let action turn the unseen into seen;
تم ایک ہو جاوَ اور توحید کا نقشہ عملی اعتبار سے دنیا کے سامنے پیش کرو ۔ کلمہ توحید میں جو مفہوم چھپا ہوا ہے اسے عمل کے ذریعےسے وجود میں لے آوَ ۔
Activity augments the joy of faith, But faith is dead that issues not in deeds.
عمل کے ذریعے سے ایمان کی لذت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ وہ ایمان مردہ ہو جاتا ہے جس پر عمل نہ کیا جائے ۔
Sources and translator credits
- Original text transcription: Rumuz-e-Bekhudi — قل ہواللہ احد — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Rumuz-e-Bekhudi — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- rumuz-e-bekhudi: published English translation by آربری — Published digital poem page (vgy00lhy.json); retrieved 2026-10-05.Translation by آربری; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- rumuz-e-bekhudi: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (vgy00lhy.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
