در معنی اینکہ حیات ملیہ مرکز محسوس میخواہد و مرکز ملت اسلامیہ بیت الحرام است
English title: That the life of the community requires a visible focus, and that the focus of the Islamic community is Makkah’s sacred house
Now I will loose for thee the knotted cord That is Life’s riddle, and reveal to thee Life’s mysteries;
میں تیرے سامنے زندگی کے کاروبار کی گتھی کھولتا ہوں اور اس کے بھیدوں سے تجھے آگاہ کرتا ہوں ۔
its trade, from self to leap Swift as a phantom, nimbly to escape From the constriction of Dimension’s grasp.
زندگی بھی خیال کی طرح بیتابانہ ادھر ادھر پھرتی رہتی ہے اور اطراف سے دامن بچاتی ہوئی چلتی ہے ۔
Then how comes Life into this world of late And soon? How does its instant time give birth To yesterdays and morrows?
مطلب یہ کہ زندگی کسی جگہ یا مقام کی پابند نہیں کہ اس دنیا میں کیونکر آتی ہے جو دیر و زود کی پابند ہے اور زندگی کا وقت گزشتہ کل اور آئندہ کل پیدا کرتا ہے
Look upon Thyself, if thou possessest eyes to see; Fool, art thou aught but constantly aleap?
اگر تیرے پاس حقیقی نظر ہے تو تھوڑی دیر کے لیے اپنی حالت دیکھ اور اس پر غور کر ۔ تو بھی تو اے بیخبر ہر لحظہ بدلتا اور وقف خرام رہتا ہے ۔
So, to display its glow invisible Life’s torch contrived a curtain of its smoke,
جب زندگی چاہتی ہے کہ اپنی ان تابانیوں اور درخشانیوں کو نمایاں کرے جو نظر نہیں آتیں تو اس کا شعلہ اپنے دھوئیں سے اردگرد پردہ تیار کر لیتا ہے ۔
And that its motion might be seen at peace, Its wave was in the gem immobilized.
جب زندگی سیر و گردش اور حرکت کے بجائے سکون و قیام اختیار کر لیتی ہے یا کہنا چاہیے کہ جب نظر اس کی سیر و سکون کی حالت میں دیکھتی ہے تو زندگی کی ندی میں جو لہر ہے وہ بندھ کر اور پیوستہ ہو کو موتی میں پہنچ جاتی ہے ۔
Life’s furnace drew its breath, forthwith became A tulip, and burst blooming from the branch.
زندگی آگ تھی پھر اس نے دم سادھا اور لالے کا پھول بن کر ایک شاخ سے باہر نکل آئی ۔
Thy thought is immature, lame, slow to rise, If thou suppose the mortal flower itself The fleeting colour.
تیری فکر خام ہے ، بیدار ہونے میں سست ہے اور لنگڑی ہے تو نے رنگ کی پرواز پر پھول کی تہمت لگا دی ۔
Life is not a bird A-building nests; ’tis but a wing of hue And wholly flight;
حالانکہ زندگی ایسا پرندہ نہیں جو کسی جگہ گھونسلا بنا کر بیٹھ جائے ۔ وہ تو رنگ کا پرندہ ہے جو ہر وقت اڑتا رہتا ہے (پرواز کے سوا کچھ نہیں ) ۔
imprisoned in the cage, Yet ever free; lamenteth as it sings;
زندگی عاجزی اور بیچارگی کی حالت میں قید بھی ہوتی ہے ساتھ ہی آزاد بھی ۔ وہ گیت بھی گاتی ہے اور آہ و نالہ بھی کرتی ہے ۔
Washeth each moment from its wing the will To fly, yet ever seeks new stratagems Itself devising;
اس کے پروں سے لحظہ بہ لحظہ پرواز کی قوت گھٹتی جاتی ہے پھر وہ خود ہی اپنی کوتاہیوں کے علاج میں لگی رہتی ہے ۔
bindeth knot on knot Its own affairs, yet with consummate ease Resolveth all its problems.
وہ خود ہی اپنے کاموں کے رشتے میں گرہیں ڈالتی ہے ۔ پھر جتنی مشکلات جمع ہو جاتی ہیں انہیں آسان بھی کر لیتی ہے ۔
Swift-paced Life Stands rooted in the mire, that it may feel Pulsing a doubled joy to walk abroad.
زندگی بہت تیز رفتار ہے لیکن کبھی کبھی زمین پر گر کر کھڑی ہو جاتی ہے تاکہ چلنے پھرنے کا ذوق دوگنا ہو جائے ۔
Anthems unheard lie dormant in its flame; To-morrow, yesterday, the children are Of its to-day.
اس کے سوز میں ساز سویا ہوا ہے اور جب وہ آج کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو گزشتہ کل اور آئندہ کل بھی پیدا ہو جاتی ہے ۔
Each moment it creates Fresh difficulties, passing freely through; Thus, instantly its task is ever new.
ہر لحظہ مشکلات بھی پیدا کرتی ہے تاکہ جدوجہد کا جذبہ ابھارے ، ساتھ ہی آسانیاں بھی پیدا کر لیتی ہے ۔ غرض وہ ہر وقت نئی نئی اور تازہ چیزیں پیدا کرنے میں مصروف ہے ۔
Though like a sent it is all will to leap, When in the breast it maketh its abode It is a breath.
اگرچہ زندگی خوشبو کی مانند ہر وقت تگ و تاز میں لگی رہتی ہے تاہم جب کسی سینے میں ٹھہر جاتی ہے تو سانس بن جاتی ہے ۔
Upon itself it spins Its threads, becomes a skein, and knots itself.
وہ اپنے ممکنات کے رشتوں کا جال اپنے آپ پر تنتی رہتی ہے کبھی گرہ کھا کر گھنڈی بن جاتی ہے ۔
The seed, that holdeth knotted in its grain The leaf and fruit, in good time openeth Its eyes upon itself, and is a tree;
جس طرح ایک بیج کے اندر درخت کے پتے اور پھول پوشیدہ ہوتے ہیں اسی طرح زندگی جب اپنے آپ پر نگاہ ڈالتی ہے تو درخت بن جاتی ہے ۔
Creating out of water and of clay A garment it revealeth hand and foot, Eye, yea, and heart.
پھر مٹی اور پانی سے اپنی خلعت تیار کرتی ہے اس میں ہاتھ پاؤں ، آنکھ اور دل وجود میں لاتی ہے ۔
Life chooseth to confine Itself within the body’s solitude, And Life createth mighty companies.
اس طرح جسم تیار ہو جاتا ہے تو اس کی خلوت میں زندگی جا بیٹھتی ہے اس خلوت میں ہزاروں انجمنیں بروئے کار لاتی ہے ۔
Such is the law that governeth the birth Of nations, life gathereth on a point
قوموں کے پیدا ہونے کا دستور بھی اسی طرح ہے ۔ یعنی زندگی ایک مرکز پر جمع ہو جاتی ہے ۔
Of focus which, related to the ring, Is as the spirit hidden in the flesh, The track of the circumference concealed Within the centre.
مرکز کی حیثیت دائرے کے لیے وہی ہے جو جسم کے لیے جان کی ہے ۔ دائرے کا پورا خط اس کے نقطے میں سمٹا ہوا ہوتا ہے ۔
Peoples win their bond And order from a focus, and that same Perpetuates the nation’s sum of days.
قوم کا ربط ضبط بھی ایک مرکز ہی سے وابستہ ہے اور اسکے کاروبار میں دوام مرکز ہی کی بدولت پیدا ہوتا ہے ۔
The Sacred House at once our secret is And guardian of our secret, our heart’s fire And instrument whereon our passion plays.
ہماری زندگی کے بھیدوں کا حامل اور خود بھید بیت الحرام یعنی کعبہ ہے ۔ ہمارا سوز و ساز ، ہمارا رنج و راحت ہمارا دکھ اور سکھ اسی سے وابستہ ہے ۔
We are a breath nurtured within its breast; The body we, and it the precious soul.
ہم کعبے کو سینے میں سانس کی طرح محفوظ رکھتے ہیں ۔ وہ ہماری جان شیریں ہے اور ہم اس کا جسم ہیں ۔ گویا ہماری ہستی کعبے ہی پر موقوف ہے ۔
Our garden glitters joyous in its dew, Our fields are watered from its holy well.
ہمارا باغ اس لیے تروتازہ اور شاداب ہے کہ کعبے کی شبنم سے اسے برابر فیض حاصل ہوتا ہے ۔ ہمارا کھیت اسی کے زمزم سے پانی لیتا ہے ۔ یعنی کھیت کی آبیاری اسی کے زمزم سے ہوتی ہے ۔
Its dancing motes give lustre to the sun Plunging into its firmanent profound.
اسی کے ذروں سے سورج کو آب و تاب حاصل ہوتی ہے ۔ اسی کی فضا میں وہ غوطہ زن رہتا ہے ۔
We are the proof that justifies its claim, Attestors witnessing for Abraham.
کعبے کے دعوے کے لیے دلیل کی ضرورت ہو تو ہم سراپا دلیل ہیں ۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی برہانوں میں سے ہم بھی ایک برہان ہیں ۔
This made our voices loud upon the earth, Stitched up with Time our Pre-eternity;
کعبے ہی نے ہماری شہرت دور دور پہنچا دی اور ہمارے حدوث کا رشتہ قدم سے جوڑ دیا یعنی ہم فانی ہیں تاہم جب تک یہ دنیا باقی ہے ہمارے لیے بقا کا انتظام کعبے ہی کی وجہ سے ہوا اگرچہ ہماری ملت جگہ جگہ بکھری ہوئی ہے ۔
In circumambulation of its shrine Our pure community draws common breath, Dawn’s sun encaged;
لیکن کعبے کے گرد گھومنے اور طواف کرنے کے باعث ہم سب ایک ہیں متحد ہیں ہماری حیثیت اس صبح کی ہے جس کے پنجرے میں سورج بند ہوتا ہے ۔
by its arithmetic The many count as one, and in that tie Of oneness thy self-mastery waxes strong.
اے مسلمان تیری کثرت کعبے کی وجہ سے وحدت بنی ہوئی ہے اور اسی رشتہ وحدت کی بدولت تیری خودداری پختہ اور پائیدار ہے ۔
Thou livest by a sanctuary’s bond And shalt endure, so long as though shalt go About the shrine thereof.
تو کعبے سے وابستگی کے باعث زندہ ہے جب تک اس کا طواف کرتا رہے گا قائم و استوار رہے گا ۔
Upon this earth By congregation lives a people’s soul, And congregation is the mystery Of Makkah’s power
اس دنیا میں جمیعت کو قوموں کی جان سمجھا جاتا ہے جب تک جمیعت نہ ہو قو میں وجود میں نہیں آ سکتیں ۔ اے مسلمان آنکھیں کھول کر دیکھ، کعبہ تیری جمیعت کا راز ہے یعنی اسی پر تیری جمیعت موقوف ہے ۔
Take heed once again, Enlightened Muslim, by the tragic fate Of Moses’ people,
اے مسلمان تیرا روشن ضمیر ہے تو امت موسیٰ یعنی یہودیوں کے انجام سے عبرت حاصل کر ۔
who, when they gave up Their focus from their grasp, the thread was snapped That bound their congregation each to each.
جب اس قوم نے مرکز کھویا تو ساتھ ہی قوم کی جمیعت کا رشتہ بھی ٹوٹ گیا ۔
That nation, nurtured up upon the breast Of God’s apostles, and whereof the part Was privy to the secrets of the whole,
اس قوم یعنی یہود نے انبیا ء کے آغوش میں نشوونما پائی ۔ اس میں ایسے لوگ بھی ہوئے جو تمام بھیدوں سے واقف تھے ۔
Suddenly smitten by the hand of Time Poured out its lifeblood in slow agony.
لیکن جب مرکز اس کے ہاتھ سے نکلا جمیعت کا رشتہ ٹوٹا تو زمانے نے اس کی کنپٹی پر ایک تھپڑ رسید کیا ۔ ان کی زندگی خون ہو کر رہ گئی اور آنسو بن کر آنکھ سے ٹپک گئی ۔
The tendrils of its vine are withered now, Nor even any willow weeping grows More from its soil;
وہ قوم انگور کی بیل تھی اس کے رگ و ریشہ سے نمی زائل ہو گئی ۔ اب یہ کیفیت ہے کہ اس کی خاک سے بید کا درخت بھی پیدا نہیں ہوتا ۔
exile has robbed its tongue Of common speech; both nest and birdsong gone;
وہ قوم بے وطنی میں بکھر کر جگہ جگہ جا بیٹھی ، اسکی زبان بھی ختم ہو گئی ۔ اس میں قومی دم خم بھی باقی نہ رہا اور اس کا وطن بھی نابود ہو گیا ۔
The candle out; dead the lamenting moth – My poor dust trembles at the history.
شمع بجھ گئی، پروانہ اس کا ماتم کر رہا ہے جب میں اس قوم کی سرگزشت پر غور کرتا ہوں تو بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے
O thou, sore wounded by the sword of Fate, Prisoner of confusion, doubt, dismay,
اے مسلمان تیرا جسم آسمان کے ظلم کی تلوار سے زخمی ہو رہا ہے ۔ تو شک و شبہ اور وہم و گمان کا قیدی بنا ہوا ہے
Wrap thee in pilgrim robes; unshroud the dawn Of night’s dark dust.
تو اپنے لباس کو جامہ احرام بنا لے اور شام کے غبار سے صبح پیدا کر لے یعنی کعبے کی مرکزیت بحال کر ۔
Plunge, as thy forebears did, Into prostration; lose thyself, until Thou art entire prostration.
اپنے باپ دادا کی طرح سجدہ ریزی اور عبادت گزاری میں غرق ہو جا کہ تو خود سراپا سجدہ اور عبادت بن جائے ۔ مراد یہ ہے کہ پورا دینی نظام اختیار کرے ۔
Long ago The Muslim fashioned meek humility, And thence developed a world-shaking pride;
دیکھ ابتدائی زمانے کے مسلمانوں نے عبودیت ، بندگی اور فرمانبرداری کا ایسا نقشہ پیش کیا ہے کہ وہ زمانے بھر کے لیے فخر و ناز کا سامان بن گئے ۔
Upon God’s path the thorn-points pierced his feet; He wore a rose-bower in his turban’s fold.
انھوں نے خدا کی راہ میں پاؤں کانٹوں سے زخمی کر لیے اور باغ کو دستار کے گوشے میں باندھ لیا ۔
Sources and translator credits
- Original text transcription: Rumuz-e-Bekhudi — در معنی اینکہ حیات ملیہ مرکز محسوس میخواہد و مرکز ملت اسلامیہ بیت الحرام است — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Rumuz-e-Bekhudi — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- rumuz-e-bekhudi: published English translation by آربری — Published digital poem page (o0bw2l8n.json); retrieved 2026-10-05.Translation by آربری; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- rumuz-e-bekhudi: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (o0bw2l8n.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
