در معنی اینکہ پختگی سیرت ملیہ از اتباع آئین الہیہ است
English title: That maturity of communal life derives from following the divine law
Published English translations cover only part of this poem.
Published Urdu translations cover some, but not all, Persian verses in this poem.
Seek thou no other meaning in the Law, Nor look save light to find within the gem;
شریعت میں کوئی دوسرے معنی تلاش نہ کر ۔ موتی کے اندر چمک دمک اور روشنی کے سوا کچھ اور مت ڈھونڈ ۔
God was the jeweller who fashioned forth This jewel, diamantine through and through.
اس موتی (یعنی شریعت) کو موتی بنانے والی خود اللہ کی ذات ہے ۔ اس کا ظاہر بھی موتی ہے اور باطن بھی موتی ۔
Law is the only knowledge of the Truth, Love the sole basis of the Prophet’s code;
یہ جو شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کی اصلاحیں وضع کی گئیں ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ۔ واضح رہے کہ علم حق شریعت کے سوا کچھ نہیں ۔ شریعت وہی ہے جو اللہ کے حکم سے رسول اللہ نے انسانوں تک پہنچائی ۔ اور تجھے معلوم ہے کہ سنت کی اصلیت کیا ہے محض اللہ اور اس کے رسول پاک کے حکم پر عمل سے محبت جو شخص اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی شریعت اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے لیے جذب و کشش اپنے اندر نہیں رکھتا اس کی زبان سے محبت کا دعویٰ جھوٹا سمجھا جائے گا ۔
The individual through Law attains A faith maturer, and more fair adorned.
فرد کے لیے شریعت ایسا زینہ ہے جو اسے یقین کی بلندی پر پہنچا دے ۔ شریعت ہی کی پیروی سے یقین کے مقامات پختہ اور مستحکم ہوتے ہیں ۔
The rule of Law secures an ordered life To all the nation, which established rule Condition is of its continuance.
ملت خدا کے مقرر کیے ہوئے دستور کے مطابق نظام و ترکیب پاتی ہے ۔ یہ نظام پختہ ہو جاتا ہے تو ہمیشہ کے لیے قائم رہتا ہے ۔
Power is patent in its knowledge, this The sign of Moses’ staff and potent hand;
اس کے علم میں یعنی اسے جاننے میں قوت و قدرت پیدا ہوتی ہے ۔ یہ عصا بھی ہے اور ید بیضا بھی ۔
So I declare the secret of Islam Is Law, in which all things begin and end.
شریعت ہی اسلام کا آغاز اور شریعت ہی انجام ہے ۔ یعنی اسلام کی ساری بنیاد شرع پر ہی ہے ۔
Since thou art called to be a guardian Of the Faith’s wisdom, I will tell to thee A subtle truth of the perspicuous Law.
اے مخاطب تو دین کی حکمت کا امانت دار ہے میں تجھے اسلام کی روشن شریعت کا ایک نکتہ بتاتا ہوں ۔
If any Muslim be engaged upon A meritorious act, and causelessly Therein be challenged
جب کوئی فرد یا گروہ بلاوجہ مسلمان کو کسی مستحب فعل سے روکتا ہے ۔
forthwith it becomes His sacred duty to discharge the same; Power is deemed the very spring of Life.
تو وہ مستحب نہیں رہتا بلکہ فرض کی صورت اختیار کر لیتا ہے (اس کا مطلب کیا ہے ) یہ کہ زندگی قدرت و قوت کے سوا کچھ نہیں ۔
Upon the day of battle, if the foe Supposing truce is imminent neglects His army’s marshalling,
اگر لڑائی کے دن دشمن اس خیال سے بے فکر ہو جائے کہ صلح ہو رہی ہے ۔
and casually Confronts his fortune, breaking down the wall And citadel of his defence;
حفاظت کے لیے اس نے جو پابندیاں عائد کر رکھی تھیں انہیں ڈھیلی کر دے اور دفاعی تدابیر سے کنارہ کش ہو جائے
until His order is restored, to march against His unarmed country is prohibited.
جب تک اس کے تمام حفاظتی انتظامات پہلی شکل پر نہ آ جائیں اس کی مملکت پر لشکر کشی حرام ہے ۔
Knowest thou then the mystery of this Divine commandment? Life not living is Except we live in danger.
کیا تجھے معلوم ہے کہ خدا کے اس فرمان میں کیا راز چھپا ہوا ہے یہ کہ خطروں میں جینا اصل زندگی ہے ۔
Law requires That when to war thou comest, thou shalt blaze A fiery torch, and split the throat of rock.
شریعت (اس بات کی خواہاں ہے) کا تقاضا یہ ہے کہ جب مسلمان جنگ کے لیے نکلے توشعلہ بن کر ہر طرف لپکے اور پتھروں کے گلے تک کو چیرتا جائے ۔
Law tries the power of the strong right arm; Confronting thee with Alond’s massive height
شریعت تیرے بازو کی قوت آزمانے کی غرض سے الوند جیسا پہاڑ تیرے سامنے ڈال دیتی ہے ۔
It bids thee pound into collyrium That craggy mount, and with the ardent breath Drawn from thy throat its flint to liquefy.
وہ کہتی ہے کہ تو الوند پہاڑ کو پیس کر سرمہ بنا دے اور اپنے خنجر کی حرارت سے اسے پگھلا دے ۔
or if the hawk Consorts with sparrows, meaner-spirited Than its poor victims it shall soon become.
اگر باز ممولے کے شکار کا عادی ہو جائے تو آہستہ آہستہ وہ اپنے شکار سے بھی زیادہ کمزور اور بے بس ہو جائے گا ۔
The Lawgiver, to whom all fair and foul Was fully known, this recipe of power For thee prescribed.
یہی وجہ ہے کہ شریعت تربیت دینے والی پاک ذات نے جو اچھے برے کی حقیقت سے خوب واقف تھی تیرے (مسلمان) کے لیے ایک ایسا دستور تیار کر دیا جو قوت کا طلبگار ہے اور قوت پیدا کرنے میں معاون ہوتا ہے ۔
By toil the nerves are steeled, And thou art raised to eminence in the world;
اس دستور میں یہ صلاحیت ہے کہ اگر تو کمزور اور ناتواں ہو گا تو تجھے قوی اور پہاڑ کی طرح پختہ کر دے گا اور دنیا میں تجھے اعلیٰ مقام پر فائز کر دے گا ۔
Or be thou wounded, this will make thee strong, Yea, and mature as a firm mountain-chain.
اگر تو دلگیر ہے تو وہ تجھے مضبوط دل والا بنا دے گا اور تجھے پہاڑ کی مانند مستحکم اور اٹل بنا دے گا ۔
Full life’s religion is Muhammad’s faith, His code the commentary on life’s law;
یاد رکھ کہ رسول اللہ کا دین زندگی کا دین ہے اور حضور جو شریعت لائے وہ زندگی کے دستور کی تفصیل ہے ۔
Be though earth-lowly, it shall lift thee up High as the heavens, and will fashion thee Harmonious to God’s summons.
اگر تو پستی میں زمین کے برابر ہے تو یہ دین تجھے آسمان کی بلندی عطا کر دے گا اور خدا تجھے جو کچھ بنانا چاہتا ہے بنا دے گا ۔
The rough rock Is polished to a mirror by this faith, And this unrests the steel’s corroding heart.
اس دین کی صیقل سے پتھر آئینہ بن جاتا ہے اور لوہے کی زنگار کی آلائش نکل جاتی ہے ۔
Now when the Prophet’s watchword passed from ken His people held no more the secret key To their continuance.
جب سے قوم سے رسول اللہ کی سنت کا دامن چھوٹا ہے وہ بقا کی حقیقت اور بھید سے نا آشنا ہو گئی ۔
That lusty sprout Tall and firm-rooted Muslim of the wastes Mounted on camel,
صحرا میں رہنے اور اونٹ پر سوار ہونے والا مسلمان ایک ایک بلند اور پائیدار درخت کی طرح تھا ۔
who in Batha’s vale Took his first steps that by the desert warmth Was nourished up, now fanned by Persia’s breeze
اس نے وادی بطحا میں جڑ پکڑی، صحرا کی گرمی آب و ہوا میں نشوونما پائی ۔
now fanned by Persia’s breeze Is so diminished, that it hath become Thin as a reed.
افسوس کہ عجم کی ہوا نے اس کی قوت چھین لی اب وہ نے بنا ہوا ہے جو اندر سے خالی ہے (مطلب یہ ہے کہ جب تک مسلمان عربی طور طریقوں اور اسلامی شیووں پر کاربند تھے انہیں دنیا بھر میں سربلندی حاصل تھی لیکن جب عجمیوں کے طور طریقے اختیار کر لیے ان میں سختیاں برداشت کرنے کی قوت نہ رہی تو ان کی پہلی حیثیت زائل ہو گئی ۔ )
He who was wont to slay Tigers like sheep now winces at the ant Trampled unwittingly;
جو مسلمان شیروں کو بھیڑوں کی طرح بے حقیقت سمجھ کر موت کے گھاٹ اتار دیتے تھے اب ان کا یہ حال ہے کہ ایک چیونٹی بھی پاؤں کے نیچے روندی جائے تو ان کا دل درد سے تڑپ اٹھتا ہے ۔
he who in joy, Allahu Akbar crying, turned the rock To running water, trembles at the note Of amorous nightingales;
جن مسلمانوں کی تکبیر سے پتھر بھی پانی ہو جایا کرتا تھا وہ اب ایک بلبل کی آواز سن کر بے قرار ہو جاتے ہیں ۔
he whose high will Reckoned the mountain trifling as a straw Commits himself entire to abject trust;
جن مسلمانوں کا عزم اتنا بلند تھا کہ وہ پہاڑوں کو گھاس کے تنکے سمجھتے تھے اب ہاتھ پاؤں توڑے بیٹھے ہیں اور انھوں نے اس کا نام توکل رکھ لیا ہے ۔
He whose firm blow once broke his foemen’s neck, His heart is wounded by his own breast’s beat;
جن مسلمانوں کی ضربیں دشمنوں کی گردنیں توڑتی تھیں اب وہ اپنے سینوں کی ضربوں سے اپنا دل زخمی کر چکے ہیں
He whose bold tread a hundred tumults limned Now cowers in retirement from the world;
جن مسلمانوں کے نقش قدم سے سینکڑوں ہنگاموں کا سروسامان ہو جاتا تھا اب علیحدگی کے کونے میں پاؤں توڑے بیٹھے ہیں ۔
He whose command none dared to disobey, Before whose door great Alexander stood A suppliant, and Darius begged his bread,
جن مسلمانوں کے فرمان دنیا کے لیے اٹل ہوتے تھے اور جن کے دروازوں پر سکندر اور دارا جیسے بادشاہ بھیک مانگا کرتے تھے ۔
His ardour is attuned to mean content, His boast the proffered bowl of mendicants.
ان مسلمانوں نے اب جدوجہد چھوڑ کر قناعت اپنا لی، یہاں تک کہ وہ بھیک کے کاسے پر فخر کرنے لگے (دوسروں کے آگے سر جھکانا ان کے لیے باعث فخر ہے ) ۔
Shaykh Ahmad, Sayyid lofty as the spheres, From whose keen brain the sun’s self borrowed light
شیخ احمد رفاعی جن کے بارگاہ بلندی میں آسمان کے برابر تھی سورج ان کے ضمیر سے نور حاصل کرتا تھا ۔
The roses that bedeck his holy grave No other god but God breathe from his dust
ان کے مقدس مزار پر جو پھول ہیں وہ لا الہ کہتے ہوئے زمین سے سر باہر نکالتے ہیں ۔
Thus spoke to a disciple: “O though life Of thy dear father, it behoves us all That we beware of non arab fantasies;
انھوں نے اپنے ایک مرید سے فرمایا ، بیٹا عجمیوں کے خیالات سے پرہیز لازم ہے ۔
Though non arab thoughts the heavens have surpassed They equally transgress the boundaries Set by the Prophet’s Faith.”
اگرچہ عجمیوں کی فکر آسمان سے بھی آگے نکل گئی لیکن افسوس کہ رسول اللہ کے دین کی حد کے اندر نہ رہی ۔
Brother, give ear To his sage counsel, and attentively Receive the rede of a protagonist Of our community;
اے بھائی ملت کے اس مخدوم کی نصیحت غور و توجہ سے سن ۔
take these wise words To fortify thy heart; conform thyself With Arab ways, to be a Muslim true.
یہ سچی بات ہے اس سے دل کو مضبوط کر ۔ عرب سے تعلق پیدا کر تا کہ تو مسلمان ہو جائے ۔ نوٹ: عرب و عجم کی اصطلاحات سے مقصود ملک عرب اور ملک ایران یا کوئی اور نسل نہیں ۔ اقبال نے ان اصلاحوں کو خاص معنی میں استعمال کیا ہے ۔ عرب سے ان کا مقصود پاک دین ہے جو رسول اللہ اس دنیا میں لائے ۔ عجم سے مقصود اسلام کا وہ ڈھانچہ ہے جو عجمی تصورات و نظریات کے سانچے میں تیار ہوا اور جسے اصل اسلام سے کوئی خاص مناسبت نہ رہی ۔
Sources and translator credits
- Original text transcription: Rumuz-e-Bekhudi — در معنی اینکہ پختگی سیرت ملیہ از اتباع آئین الہیہ است — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Rumuz-e-Bekhudi — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- rumuz-e-bekhudi: published English translation by آربری — Published digital poem page (lg4uozf3.json); retrieved 2026-10-05.Translation by آربری; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- rumuz-e-bekhudi: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (lg4uozf3.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
