در معنی اینکہ ملت محمدیہ نہایت زمانی ہم ندارد، کہ دوام این ملت شریفہ موعود است
English title: That the Muhammadan Community is also unbounded in time, since the survival of this noble community has been divinely promised
Published English translations cover only part of this poem.
Published Urdu translations cover some, but not all, Persian verses in this poem.
The buds arrayed like brides; from the dark earth A veritable city of stars arise;
کلیاں دلہنوں کی طرح آراستہ ہوتی ہیں ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا زمین سے ستاروں کی پوری بستی نکل آئی ۔
A bud bursts into blossom on the branch; The breeze new-risen takes it to her breast;
ایک غنچہ شاخ سے پھوٹ کر نکلتا ہے ۔ باد نسیم اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے ۔
A bloom lies bleeding in the gatherer’s hand And like a perfume from the mead departs.
ایک غنچہ پھول چننے والے کے ہاتھ سے ٹوٹتا ہے اور خوشبو کی مانند باغ سے باہر نکل جاتا ہے ۔
The ring-dove builds his nest; the nightingale Takes wing; the dew drops softly, and the scent Is sped.
قمری گھونسلا بنا لیتی ہے بلبل اڑ جاتی ہے ۔ شبنم کا قطرہ آ جاتا ہے اور خوشبو رخصت ہو جاتی ہے ۔
What though these mortal tulips die, They lessen not the splendour of the spring:
اسی طرح ہزاروں گل لالہ پیدا ہوتے ہیں ۔ تھوڑی دیر کے لیے چمن کی رونق بنتے ہیں اور مرجھا جاتے ہیں ۔ تب بھی فصل بہار کی رونق نہیں گھٹتی ۔
For all the loss, its treasure still abides Abundant, still the thronging blossoms smile.
اس نقصان کے باوجود اس کے خزانے میں بہتات کا وہی عالم ویسے کا ویسا رہتا ہے ۔ ہنسنے والے پھولوں کی محفل بدستور سجی رہتی ہے ۔
The season of the rose endures beyond The fragile eglantine time, yea, it outlives The rose’s self, the cypress, and the fir;
سیوتی، گل ، چمبیلی کے پھول کھلتے ہیں اور مرجھا جاتے ہیں ۔ بہار کی فصل ان سب سے زیادہ پائیدار ہوتی ہے اور باقی رہتی ہے ۔
The jewel-nourishing mine bears jewels yet, Unminished by the shattering of one gem.
جس کان میں گوہر بنتے اور پرورش پاتے ہیں وہ ایک گوہر کے ٹوٹ جانے سے قدروقیمت میں گھٹ نہ جائے گی اور اس کی گوہر آفرینیوں میں کوئی فرق نہ آئے گا ۔
Dawn is departed from the East, and night Gone from the West: their too-brief-historied up Visits no more the wine-vault of the days;
مشرق سے صبحیں اور مغرب سے شا میں آتی جاتی رہتی ہیں ۔ زمانے کے خم سے سینکڑوں دنوں کا جام نکل جاتا ہے
Yet, though the draught be drunk, the wine remains Eternal as the morrow that awaits When all our yesterdays are drowned in death.
کئی لوگ آئے اور شراب پی گئے لیکن شراب بدستور باقی رہی ۔ کئی گزرے ہوئے کل خون میں نہا گئے ، گزر گئے ۔
So individuals, as they depart, Are fallen pages from the calendar Of peoples more enduring:
اسی طرح افراد زندگی کی منزلیں طے کرتے جاتے ہیں اور قو میں اپنی جگہ باقی ہیں بلکہ افراد کی آمد و رفت سے قوموں کا استحکام زیادہ پائیدار ہوتا ہے ۔
though the friend Is on journey, the companionship Still stays; the individual is gone Abroad, unstirring the community.
اگرچہ ایک دوست سفر میں ہے لیکن محفل قائم رہتی ہے ۔ افراد آتے ہیں اور نکل جاتے ہیں جبکہ ملت کا قیام اپنی جگہ برقرار ہے ۔
Other each essence is, the qualities Other; they differ both in how each lives And how they die.
فرد کی ذات الگ ہے اور ملت کی صفات الگ ہیں ۔ ان دونوں کی موت و حیات کے قواعد و اصول بھی الگ ہیں ۔
The individual Arises from a handful of mere clay, The nation owes its birth to one brave heart;
فرد مٹی کی مٹھی سے پیدا ہوتا ہے اور قوم ان مقاصد اور اصول کی بنا پر ترکیب پاتی ہے جو ایک صاحب دل کے قلب میں پیدا ہوتے ہیں ۔
The individual has for his span Sixty or seventy years, a century Is for the nation as single breath.
فرد کی عمر عموماً ساٹھ ستر سال کی ہوتی ہے اور قوم کی زندگی میں سو سال بھی زیادہ سے زیادہ ایک سانس کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
The individual is kept alive By the concomitance of soul and flesh, The nation lives by guarding ancient laws;
فرد کی زندگی اس امر پر موقوف ہے کہ جان اور جسم کے درمیان ربط تعلق اور میل جول قائم رہے ۔ اس تعلق میں خلل پیدا ہوتے ہی فرد کی زندگی ختم ہو جائے گی ۔ لیکن قوم کی زندگی جان و تن کے ربط پر نہیں بلکہ قدیم روایات کی حفاظت پر موقوف ہوتی ہے ۔
Death comes upon the individual When dries life’s river and the nation dies When it forsakes the purpose of its life.
فرد زندگی کی ندی خشک ہوتے ہی مر جاتا ہے ۔ لیکن قوم جب تک اپنی زندگی کے مقاصد نہ چھوڑے موت کے گھاٹ نہیں اترتی ۔
Though the community must pass away Like any individual when Fate, Issues the fiat none may disobey,
اگرچہ افراد کی طرح قو میں بھی مر جاتی ہیں ۔ لیکن ان کے لیے بھی قدرت کی طرف سے ایک خاص وقت مقرر ہے ۔
Islam’s Community is divine Undying marvel, having origin In that great compact, Yea, Thou art our Lord.
لیکن امت مسلمہ ہرگز نہیں مرے گی کیونکہ یہ خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔ اس کا وجود اس وقت سے چلا آتا ہے جب ابتدائے آفرینش میں کائنات کی روحوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد باندھا تھا کہ بے شک تو ہی ہمارا پروردگار ہے ۔
This people is indifferent to Fate, Immovable in Lo, We have sent down Remembrance,
ملت اسلامیہ موت سے بالکل بے پروا ہے اسے موت آ ہی نہیں سکتی کیونکہ خدا نے فرمایا کہ بلا شبہ ہم نے الذکر (قرآ ن) اتارا ہے اور بلاشبہ خود ہمیں اس کے نگہبان ہیں (سورہ حجر) کی بشارت کے ذریعے سے ہماری پائیداری اور استواری کا وعدہ کر رکھا ہے ۔
Which abides while there is yet One to remember, whose continuance Persists with it.
ذکر (قرآن) اس وقت قائم رہ سکتا ہے جب تک ذاکر یعنی ذکر کرنے والا موجود ہو ۔ جب ذکر کے دوام کا وعدہ ہو چکا تو یہ مان لینے میں کوئی دقت باقی نہیں رہتی کہ ذاکر کے دوام کا بھی وعدہ ہو چکا ۔
When God revealed the words They seek God’s light to extinguish, this bright lamp Was never troubled it might flicker out.
جب قرآن مجید میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ دین حق کی روشنی پوری کیے بغیر رہنے والا نہیں ۔ اگرچہ کافروں کو پسند نہ آئے تو اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ ہماری ملت کا چراغ بجھنے سے محفوظ ہے یعنی ہمیشہ روشن رہے گا اور کبھی نہ بجھے گا ۔
’Tis a community that worships God In perfect faith, a people well-beloved By every man who has a conscient heart.
ہم وہ امت ہیں جس نے حق پرستی میں درجہ کمال حاصل کر لیا اور جو ہر صاحب دل کو محبوب و عزیز ہے ۔
God drew this trusty blade out of the sheath Of Abraham’s desires,
اللہ تعالیٰ نے اس تیز ترین تلوار کو حضرت ابراہیم کی آرزووَں اور دعاؤں کے نیام سے نکالا ۔
that by its edge Sincerity might live, and all untruth Consume before the lightning of its stroke.
یہی امت ہے جس کے دم سے حق و صداقت زندہ ہوتے ہیں اور اس سے جو بجلیاں پے در پے کوند رہی ہیں وہ غیر حق یعنی باطل کو جلا کر راکھ کر دیتی ہیں ۔
We, who are proof of God’s high Unity And guardians of the Wisdom and the Book,
ہم خدا کی توحید کے لیے دلیل و حجت ہیں ۔ ہمیں خدا نے کتاب اور حکمت کے بھیدوں کا محافظ بنا دیا ہے ۔
Encountered heaven’s malice long ago, The unsuspected menace of the hordes Of savage Tartary,
ہم کو آسمان سے ہمیشہ دشمنی رہی اور ہم سے الجھنے پر آمادہ رہا ۔ اس سلسلے میں اس کی بغل میں ایک فتنہ تاتار تھا ۔
loosed on our heads To prove its terror.
پھر یکایک اس فتنے اور اس خوفناک مصیبت کے پاؤں کے بندھ کھول دیے اور اسے ہم پر نازل کر دیا ۔
Not the Judgment Day Shall match the staring horror of those swords, The thunder of those legions armed with death.
یہ فتنہ ایسا ہولناک تھا کہ خود محشر بھی اسکی راہ میں روندا ہوا اور اسکی تیغ نگاہ سے ٹکڑے ٹکڑے تھا ۔
Confusion sore confounded in the breast Of that disaster slept; its yesterday Gave birth to no glad morrow.
سینکڑوں طوفان اس کی گود میں سوئے ہوئے تھے ۔ اس کی گزشتہ کل کی یہ کیفیت تھی کہ اس سے امروز کی صبح پیدا نہیں ہو سکتی تھی(اس فتنہ نے ہر چیز کا خاتمہ ہمیشہ کے لیے کر دیا ۔ نہ زندگی رہی نہ امید نہ گزشتہ کل کے بعد امروز کے پیدا ہونے کا کوئی امکان رہا ۔ )
Muslim might Quivered in dust and blood; Baghdad beheld Such scenes as Rome ne’er witnessed in her throes
اس فتنے نے ملت اسلامیہ کی قوت کو خاک و خون میں تڑپا دیا ۔ بغداد کو جو ملت کا مرکز تھا وہ کچھ دیکھنا پڑا جو رومہ نے بھی نہیں دیکھا ۔ دوسرے مصرع کا مطلب یہ ہے کہ رومہ پر وحشی قبیلوں نے خوفناک حملے کر کے لوٹ مار اور تباہی مچا دی ۔ لیکن چنگیز کے پوتے ہلاکو نے ایک ہی حملے میں بغداد کے اندر و تباہی پھیلائی وہ خونریزی کی کہ رومہ نے تو اس کا تصور بھی نہیں کیا ہو گا ۔
Now ask, if so thou wilt, what new design Purposing Fate, malignant as of old, Proposed this holocaust;
اے مخاطب یہ آسمان جس کی چال ہمیشہ ٹیڑھی رہی جس کی عقل بہت پرانی اور پختہ ہے ساتھ ہی وہ نئے نئے حیلے اور نئے نئے ہتھکنڈے تجویز کرتا رہتا ہے ہمارا دشمن تھا ۔
whose garden sprang Out of the Tartar fire? Whose turban wears The rose transmuted from those lambent flames?
مگر اس سے پوچھ ، تاتاریوں کی جلائی ہوئی آگ کس کا گلزار بنی اور اس کے شعلے پھول بن کر کس کی زینت دستار ہوئے
Because our nature is of Abraham And our relationship to God the same As that great patriach’s:
ہماری فطرت میں حضرت ابراہیم کی خصوصیت موجود ہے ۔ خدا سے ہماری نسبت بھی وہی ہے جو حضرت ابراہیم کی تھی ۔
out of the fire’s depths Anew we blossom, every Nimrod’s blaze Convert to roses.
ہم انہیں کی ملت ہیں جس طرح حضرت ابراہیم کے لیے آگ گلزار بن گئی تھی اسی طرح ہم ہر آگ کے نیچے پھول پیدا کر لیتے ہیں اور ہر نمرود کی آگ گلزار بنا لیتے ہیں ۔
When the burning brands Of Time’s great revolution ring our mead, Then Spring returns.
بلاشبہ زمانے کے پاس انقلاب کے شعلے موجود ہیں لیکن یہ شعلے ہمارے باغ میں پہنچتے ہیں تو بہار بن جاتے ہیں ۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ہم مسلمان بہ حیثیت ملت مر نہیں سکتے ۔ ہم پر مصیبتیں تو آ سکتی ہیں مگر وہ ہمیں ختم نہیں کر سکتیں ۔ اس کے برعکس ہم ان مصیبتوں کو اپنے لیے فروغ و ترقی کا ذریعہ بھی بنا لیتے ہیں ۔ وہی تاتاری اور ترک جنھوں نے ہماری سات سو سال کی عظمت کو نقصان پہنچایا تھا جب انھوں نے خود اسلام کو قبول کیا تو اسلام کی حفاظت کے لیے ڈٹ گئے ۔
The mighty power of Rome, Conqueror and ruler of the world entire, Sank into small account;
ایک زمانہ تھا جب رومیوں کا بازار حکومت گرم تھا ۔ انھوں نے بہت بڑی سلطنت پیدا کر لی تھی ۔ لیکن ان کی جہانگیری اور حکومت ختم ہو گئی ۔
the golden glass Of the Sassanians was drowned in blood; Broken the brilliant genius of Greece;
ایران کے ساسانیوں کا شیشہ شراب کی جگہ خون سے بھر گیا یعنی وہ بھی ختم ہو گئے ۔ یونان کے شراب خانے کی رونق بھی جاتی رہی ۔
Egypt too failed in the great test of Time, Her bones lie buried ’neath the Pyramids.
مصر بھی امتحان میں ناکام رہا اور اس کی ہڈیاں قدیم مقبروں میں پڑی رہ گئیں ۔ یعنی وہ بڑی بڑی قو میں مٹ گئیں ۔
Yet still the voice of the muezzin rings Throughout the earth, still the Community Of World – Islam -- maintains its ancient forms
ان کے برعکس ملت اسلامیہ پہلے بھی تھی اور اب بھی موجود ہے ۔ اذان کی صدائے حق دنیا کی فضا میں پہلے بھی بلند ہو رہی تھی اور اب بھی بلند ہے ۔
Love is the universal law of life, Mingling the fragmentary elements Of a disordered world.
ہمارے دوام کا سبب کیا ہے دیکھو، اس دنیا کی زندگی کا دستور عشق ہے اور عشق ہی کی بدولت اس کے مختلف اجزا و عناصر میں میل جول اور ربط قائم ہے ۔
Through our hearts’ glow Love lives, irradiated by the spark There is no god but God.
عشق ہمارے دل ہی کی حرارت کے باعث زندہ ہے ۔ کلمہ توحید کی چنگاری سے اس میں چمک دمک ہے ۔
Though, like a bud, Our hearts are prisoned by oppressive care, If we should die, the graden too will die.
اگرچہ ہم کلی کی طرح ملول اور دلگیر ہیں تاہم اگر ہم مر جائیں تو پورا گلستان مر جائے گا ۔ جب تک ہم ہیں یہ دنیا قائم ہے جب ہم نہ ہوں گے تو یہ بھی ختم ہو جائے گی ۔
Sources and translator credits
- Original text transcription: Rumuz-e-Bekhudi — در معنی اینکہ ملت محمدیہ نہایت زمانی ہم ندارد، کہ دوام این ملت شریفہ موعود است — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Rumuz-e-Bekhudi — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- rumuz-e-bekhudi: published English translation by آربری — Published digital poem page (wmehwsfa.json); retrieved 2026-10-05.Translation by آربری; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- rumuz-e-bekhudi: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (wmehwsfa.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
