در معنی اینکہ چون ملت محمدیہ مؤسس بر توحید و رسالت است پس نہایت مکانی ندارد
English title: That since the Muhammadan Community is founded upon belief in one god and apostleship, therefore it is not bounded by space
Published English translations cover only part of this poem.
Published Urdu translations cover some, but not all, Persian verses in this poem.
Our Essence is not bound to any Place; The vigour of our wine is not contained In any bowl
ہماری ملت کا جوہر کسی مقام سے وابستہ نہیں ہے ۔ یہ ایک تند شراب ہے جسے کسی خاص پیالے کا پابند نہیں بنایا جا سکتا (ملت اسلامیہ جغرافیائی حدود سے ماورا ہے ) ۔
Chinese and Indian Alike the sherd that constitutes our jar, Turkish and Syrian alike the clay Forming our body;
بے شک ہمارے جام ہندی و چینی مٹی سے بنے ہیں ۔ رومی و شامی ہمارے جسم کی مٹی ہیں ۔
When pure-descended Ka‘ab Brought to the Prophet for an offering His famed Banat Su’ad
ہمارے رسول کی خدمت میں حضرت کعب نے جو پاک سرشت تھے قصیدہ بانت سعاد بہ طور ہدیہ پیش کیا ۔
whereon he strung The night-illuming jewels of his praise, And there addressed him as an unsheathed sword Of India
اس قصیدے میں رسول اللہ کی مدح و نعت میں بڑے بیش قیمت موتی پروئے ۔ اس میں کہا کہ حضور ہندوستان کی تلواروں میں سے ایک سونتی ہوئی تلوار ہیں ۔
it did not please his heart (Being sublimer than high heaven’s sphere) To be attributed to any clime;
حضور اکرم کا مقام آسمان سے بھی بلند تھا اور کسی ایک ولایت سے نسبت پسند نہ آئی ۔
And so the Prophet answered, “Rather say A Sword of God, if Truth thou worshippest, No other pathway travel but of Truth.”
فرمایا اللہ کی تلوار میں سے سونتی ہوئی تلوار کہو ۔ تم حق پرست ہو ، راہ حق کے سوا کہیں گامزن نہ ہو ۔ (ان اشعار میں جس نکتے پر زور دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ نے کسی سرزمین سے نسبت پسند نہ فرمائی ۔ اسی طرح حضور ملت کو کسی مقام سے وابستہ نہ دیکھنا چاہتے تھے ۔ حالانکہ کعب نے سیف الہند صرف ہندوستانی تلواروں کی برتری کی بنا پر کہا تھا ۔ حضور نے فرمایا کہ سیف الہند کی جگہ سیوف اللہ کہو ) ۔
Full well he knew the mystery of Part And Whole, the very dust beneath his feet Being the magical collyrium Laid on the eyes of all God’s messengers;
اسی طرح اس ذات پاک نے جس پر چھوٹی بڑی چیزوں کے بھید کھلے ہوئے تھے اور جس کی گرد پا انبیاء کی آنکھوں کے لیے سرمہ تھی ۔
And so he spoke to his community, “Of all this world of yours, I love alone Obedient hearts, sweet perfumes, women chaste.”
امت سے فرمایا کہ تمہاری دنیا سے مجھے نماز، خوشبو اور عورتیں پسند ہیں ۔ یہاں دو باتوں کی طرف سرسری اشارہ ضروری ہے ۔ جن تین چیزوں کا ذکر ہے ان کے متعلق غلط فہمی نہ ہونی چاہیے ۔ اول نماز کو آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا، گویا انسان کے لیے اہم اور محبوب ترین مصروفیت خدا کی عبادت ہے ۔ دوم خوشبو کی پسندیدگی حسن ذوق اور لطافت فطرت کی روشن دلیل ہے ۔ سوم نساء سے محبت انسانی زندگی کا ایک پاکیزہ وظیفہ ہے ۔ عورت ماں ہے یا بیوی یا بیٹی ، تینوں حالتوں میں اس سے محبت فطرت سلیمہ کا اظہار ہے ۔
If the perception of realities Guideth thy steps, the subtlety confined In that word yours will not be hid from thee.
اگر معنی کا ذوق تیرا رہنما ہے تو اس حرف، شما میں ایک خاص نکتہ چھپا ہوا ہے یعنی رسول اللہ نے فرمایا کہ تمہاری دنیا میں سے مجھے تین چیزیں پسند ہیں ۔
Indeed, that lantern of all beings’ night Dwelt in the world, but was not of the world;
اس سے ثابت ہوا کہ پاک ذات جسے ہستی کے شبستان میں شمع کی حیثیت حاصل تھی یعنی جس کی وجہ سے اندھیرے کی جگہ اجالا ہوا ۔ د نیا میں موجود رہی لیکن دنیا سے کوئی تعلق پیدا نہ کیا ۔
His splendour, that consumed the adoring breasts Of holy angels, shone while Adam yet Was clay and water.
جب آدم علیہ السلام آب و گل ہی میں تھے یعنی پیدا نہیں ہوئے تھے اس وقت حضور کا جلوہ فرشتوں کے سینوں میں حرارت پیدا کر رہا تھا (یہاں اس مشہور عام حدیث کی طرف ہے کہ میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم مٹی اور پانی کے درمیان تھے) ۔
Of what land he was I know not; this much only I do know, He is our comrade.
مجھے معلوم نہیں کہ حضور کا وطن کہاں ہے صرف اتنا جانتا ہوں کہ حضور ہم سے آشنا تھے ۔
These base elements He reckoned for our world, himself our guest.
حضور عناصر کے اس مجموعے کو ہمارا جہان شمار فرماتے تھے اور اپنے آپ کو ہمارا مہمان قرار دیتے تھے ۔ (حضور اس انداز سے یہاں رہے گویا مہمان تھے، اس دنیا سے تعلق محض اتنا تھا کہ ناگزیر تھا) ۔
We, who have lost the souls within our breasts, Have therefore lost ourselves in this mean dust.
ہمارے سینوں میں جانیں نہیں رہیں اور ہم اپنے آپ کو مٹی کے اس گھروندے میں گم کر بیٹھے ۔
Thou art a Muslim, do not bind thy heart. To any clime, nor lose thyself within This world dimensionate.
اگر تو مسلمان ہے تو دل کسی ایک ولایت سے وابستہ نہ کر اور چون و چند کے اس جہان میں گم نہ ہو (مادی دنیا سے دل نہ لگا) ۔
The Muslim true Is not contained in any land on earth; Syria and Rum are lost within his heart
مسلمان کسی سرزمین کے اندر نہیں سماتا ۔ اس کے دل میں شام و روم خود گم ہو جاتے ہیں ۔
Grasp thou the heart, and in its vast expanse Lose this mirage of water and of clay.
تو دل ہاتھ میں لے (دل پر قابو پا) خود میں دل زندہ پیدا کر کیونکہ دل کی وسعت میں مٹی اور پانی کی یہ دنیا گم ہو جاتی ہے ۔
Our Master, fleeing from his fatherland, Resolved the knot of Muslim nationhood.
ہمارے آقا یعنی رسول اللہ نے وطن سے ہجرت کی اور اس طرح اسلامی قومیت کا عقدہ کھول دیا ۔ (مراد یہ ہے کہ رسول اللہ نے مکہ معظمہ کو چھوڑ کر مدینہ منورہ میں رہائش اختیار کر لی ۔
His wisdom founded one community— The world its parish—on the sacred charge To civilize
رسول اللہ کی حکمت نے ایک ایسی ملت کی بنیاد رکھی جو پوری دنیا میں پھیلی ہوئی تھی اور یہ بنیاد کلمہ توحید پر رکھی (کلمہ توحید ہی تمام مسلمانوں کے درمیان سب سے بڑا اور بنیادی رشتہ ہے) ۔
that Ruler of our faith Of his abundant bounty gave the earth Entire to be the confines of our mosque.
پھر دین کے سلطان یعنی رسول اللہ کی ایک اورنوازش ملاحظہ ہو اور وہ یہ کہ روئے زمین کو ہماری سجدہ گاہ بنا دیا (باقی مذہبوں کی عبادت صرف ان مقامات میں ہو سکتی ہے جو خاص اس غرض سے تعمیر کیے گئے ہوں لیکن مسلمانوں کے لیے کوئی پابندی نہیں ۔ اقبال نے اس سے یہ نکتہ پیدا کیا کہ روئے زمین کو سجدہ گاہ قرار دے دینے سے ملکی انتسابات ختم ہو گئے، گویا اسے بھی اپنے اصل مقصد یعنی ملت کی آفاقیت کا ثبوت بنا دیا) ۔
He, whom god eulogized in the Quran And promised He would save his soul alive,
رسول اللہ کی تعریف تو خود قرآن میں آئی ہے ۔ خدا نے آپ سے حفاظت جان کا وعدہ کر لیا تھا ۔ قرآن مجید میں آیا ہے کہ ، اور اللہ تمہیں انسانوں کے شر سے محفوظ رکھے گا ۔
Struck hapless awe into his enemies So that they trembled at his majesty.
دشمن آپ کی ہیبت سے بے دست و پا ہو جاتے تھے اور آپ کی فطرت کا شکوہ ان کے جسموں پر لرزہ طاری کر دیتا تھا
Why fled he, then, from his ancestral home? Supposest thou he ran before his foes?
پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے آبا کا وطن کیوں چھوڑا کیا تیرے دل میں یہ خیال ہے کہ دشمنوں کے ڈر سے بھاگ گئے
The chroniclers, ill understanding what The Flight portends, have hid the truth from us.
اقبال کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے دشمنوں کے خوف سے وطن نہیں چھوڑا ، قصہ گو واعظوں نے سچی بات ہم سے چھپا لی اور ہجرت کے معنی غلط بیان کر دے ۔
Flight is the law that rules the Muslim’s life, And is a cause of his stability;
ہجرت مسلمان کی زندگی کا دستور العمل ہے ۔ یہ بھی ان اسباب میں سے ہے جس سے ملت کے قدم مضبوط و مستحکم ہوتے ہیں ۔
Its meaning is to leap from shallowness, To quit the dew, the ocean to subdue.
ہجرت کا مطلب یہ ہے کہ جہاں پانی کم ہو وہاں سے چلے جاوَ ۔ شبنم کو چھوڑ دو لیکن اس مقصد سے کہ تم دریا کو قبضے میں لے آوَ ۔
Transgress the bloom; the garden is thy goal; The loss of less more vastly gain adorns.
تو پھول کو چھوڑ دے، تیرا نصب العین وہ باغ ہے جو پھولوں سے لبریز ہو ۔ تو پھول کو چھوڑنے کو اپنا نقصان سمجھتا ہے بظاہر یہ نقصان ہے لیکن ایسا نقصان جس کی تراش خراش سے بہت بڑے نفع کا سروسامان ہوتا ہے ۔
The sun’s great glory is in ranging free; The skies’ arena lies beneath his feet.
دیکھو سورج کی عزت و آبرو اس کی آزادانہ گردش میں ہے ۔ اس لیے عرصہ آفاق (دنیا کا میدان ) اس کے پاؤں کے نیچے ہے ۔
Be not a streamlet, seeking wealth from rain; Be boundless; quest no limit in the world.
تو ندی کی طرح بارش سے پانی کا سرمایہ نہ لے ۔ تو دنیا میں کناروں سے بے نیاز ہو جا اور حدود نہایت طلب نہ کر ۔ تو حدود کا پابند نہ ہو بلکہ تو پیش نظر رکھ ۔
The frowning sea was once a simple plain, Played being shore, and liquefied of shame.
کبھی سوچا کہ ہیبت ناک (یا کڑوے پانی کے) سمندر کی حقیقت کیا ہے یہ ایک چٹیل میدان تھا یا جنگل تھا جب اس نے ساحل اختیار کر لیا تو اس کی ہستی محدود ہو گئی تو شرم سے پانی پانی ہو گیا ۔
Have thou the will to master everything, That thou mayest win dominion over all;
تجھے چاہیے کہ ہر شے کی تسخیر کا پختہ ارادہ کرے اسی طرح تو تمام چیزوں کو اپنے اندر سمیٹ لینے کا اہل بن جائے گا ۔
Plunge like a fish, and populate the sea; Shake off the chains of too constricted space.
مچھلی کی طرح سمندر میں آباد ہو جا ، یعنی کسی ایک مقام کا پابند نہ رہ (جس طرح دریا میں مچھلی جہاں چاہتی ہے چلی جاتی ہے اور آزادانہ زندگی بسر کرتی ہے اسی طرح مسلمان کو بھی مقامیت سے آزاد ہونا چاہیے ۔ )
He who has burst from all dimension’s bonds Ranges through all directions, like the sky.
جس شخص نے اطراف و حدود کی قید سے آزادی حاصل کر لی وہ آسمان کی طرح چھ طرفوں میں آباد ہو گیا ۔ یہ خصوصیت آسمان کو اس وجہ سے ملی کہ اس نے اپنے آپ کو اطراف کی قید سے آزاد کر لیا ۔
The rose’s scent by parting from the rose Leaps far abroad, and through the garden’s breadth Disseminates itself.
خوشبو پھول سے نکلتی ہے تو جولانی اختیار کرتی ہے ۔ یعنی ہر طرف پھیلتی ہے اور باغ کی وسعت میں اپنے آپ کو پھیلا دیتی ہے ۔
Thou, who hast snatched One corner of the meadow for thine own, Like the poor nightingale art satisfied To serenade one rose.
اے مخاطب تو نے باغ میں اپنے آپ کو ایک جگہ وابستہ کر رکھا ہے ۔ بلبل کی طرح تو نے ایک پھول سے عہد محبت باندھ لیا ہے ۔
Be like the breeze; Cast off the burden of complacency From thy broad shoulders; in thy wide embrace Gather the garden
تجھے چاہیے کہ صبا کی طرح اپنے کندھے سے قبول کا بوجھ اتار دے، یعنی محتلف خوشبوئیں اپنے دامن میں سمیٹنے کی روش ترک کر دے اور پورے باغ کو اپنی آغوش میں لے لے ۔
Be thou wary; lo, These times are full of treachery, the way Beset by brigands; wayfarer, beware!
جدید دور کے فریب سے ہوشیار ، خبردار ۔ ذرا سوچ سنبھل کر قدم اٹھا کر چلتا رہ ۔ اے چلنے والے ذرا چوکس ہو کر چل ۔
Sources and translator credits
- Original text transcription: Rumuz-e-Bekhudi — در معنی اینکہ چون ملت محمدیہ مؤسس بر توحید و رسالت است پس نہایت مکانی ندارد — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Rumuz-e-Bekhudi — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- rumuz-e-bekhudi: published English translation by آربری — Published digital poem page (199h7rh3.json); retrieved 2026-10-05.Translation by آربری; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- rumuz-e-bekhudi: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (199h7rh3.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
