تمہید- در معنی ربط فرد و ملت
English title: Prelude: Of the bond between individual and community
Published English translations cover only part of this poem.
Published Urdu translations cover some, but not all, Persian verses in this poem.
The link that binds the individual To the Society a mercy is;
His truest self in the community Alone achieves fulfilment.
فرد کے لیے جماعت سے ربط پیدا کرنا رحمت کا باعث ہے ۔ اس کے تمام جوہروں (خوبیوں ) کو ملت ہی کی بدولت کمال حاصل ہوتا ہے ۔
Wherefore be So far as in thee lies in close rapport
With thy Society, and lustre bring To the wide intercourse of free‐born men.
تو کوشش کی آخری حد تک جماعت سے وابستہ رہ اور یوں تو آزاد لوگوں کے ہنگامے کے لیے باعث رونق بن جا ۔
Keep for thy talisman these words he spoke That was the best of mortals:
“Satan holds His furthest distance where men congregate.”
رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کو جان کے لیے تعویز بنا لے کہ جماعت سے شیطان دور رہتا ہے ۔
The individual a mirror holds To the community, and they to him;
He is a jewel threaded on their cord, A star that in their constellation shines;
فرد اور قوم ایک دوسرے کے لیے آئینے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ فرد و قوم کا تعلق، رشتے اور گوہر کا یا کہکشاں اور اختر کا تعلق ہے ۔ گوہر رشتے کے بغیر ایک لڑی نہیں بن سکتے ۔
And the Society is organized
As by comprising many such as he.
فرد ملت کی بنا پر عزت حاصل کرتا ہے، ملت افراد کے مل جانے سے ترکیب پاتی ہے ۔
When in the Congregation he is list
’Tis like a drop which, seeking to expand, Becomes an ocean.
فرد جماعت میں شامل ہو جاتا ہے تو اس کی صورت اس قطرے کی سی ہوتی ہے جو بڑھ کر سمندر کی شکل اختیار کر لے کہ جس طرح قطروں سے سمندر بن جاتا ہے اسی طرح افراد سے قو میں صورت پذیر ہوتی ہیں ۔
It is strong and rich In ancient ways, a mirror to the Past
As to the Future, and the link between
فرد پرانی سیرت کا سرمایہ دار ہوتا ہے وہ ماضی اور حال کا آئینہ بن جاتا ہے ۔ (یعنی ماضی کے اوصاف و خصاءص بھی اس میں موجود ہوتے ہیں اور آئیندہ کے عزام و مقاصد بھی اسی میں دیکھ جا سکتے ہیں ) ۔
What is to come, and what has gone before,
As is Eternity.
اس کی ذات میں ماضی اور مستقبل دونوں جمع ہوتے ہیں اور ابد کی طرح اس کے اوقات کی بھی کوئی حد نہیں ہوتی (اس کا زمانہ لا محدود ہوتا ہے) ۔
The joy of growth Swells in his heart from the community,
That watches and controls his every deed;
اس کے دل میں بڑھنے اور ترقی کرنے کا ذوق اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ ملت کی صورت میں منظم ہو جاتا ہے ۔ ملت ہی اس کی سرگرمیوں کا محاسبہ کرتی ہے ۔ وہی اس کی اچھائی و برائی جانچتی ہے ۔
To them he owes his body and his soul,
Alike his outward and his hidden parts.
وہی تمام گرم جوشیوں کو ضبط و نظم میں رکھتی ہے اس کا وجود بھی قوم ہے اور جان بھی قوم ہے ۔ اس کاظاہر و باطن دونوں قوم ہی کے مرہون منت ہیں ۔
His thoughts are vocal on the People’s tongue,
And on the pathway that his forbears laid He learns to run.
وہ قوم کی زبان سے بولتا ہے اور بزرگوں کے راستے پر سرگرم تگ و دو میں رہتا ہے ۔
His immaturity Is warmed to ripeness by their friendship’s flame,
Till he becomes one with the Commonwealth.
وہ اپنے جیسے دوسرے افراد کی صحبت میں پہنچتا ہے تواس کی برکت سے زیادہ پختہ اور پائیدار ہو جاتا ہے یہاں تک کہ وہ حقیقت کے اعتبار سے خود ملت بن جاتا ہے ۔ یعنی اس کا سوچنا، کھانا پینا، سونا، اٹھنا، بیٹھنا سب ملت کے نقطہ نگاہ کی بنا پر متعین ہوتا ہے ۔
His singleness in multiplicity
Is firm and stable, and itself supplies A unity to their innumerate swarm.
اس کی وحدت ّتنہائی) کثرت کی بدولت مضبوط و مستحکم ہوتی ہے اور کثرت اس کی وحدت میں پہنچ کر خود وحدت (اکائی) بن جاتی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ فرد دوسرے افراد قوم کے ساتھ مل کر پائیدار و استوار ہوتا ہے کیونکہ وہ اکیلا نہیں رہتا بلکہ ہزاروں لاکھوں افراد اس کے ساتھ بن جاتے ہیں ۔
The word that sits outside its proper verse
Shatters the jewel of the thought concealed Within its pocket;
شعر الفاظ کا مجموعہ ہوتا ہے لیکن اگر ایک بھی لفظ شعر سے باہر نکل جائے تو اس کے مضمون کا موتی اپنی تھیلی ہی میں ریزہ ریزہ ہو جائے، ٹوٹ جائے گا ۔ اسی طرح فرد کے لیے بھی لازم ہے کہ اپنی اور قوم کی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے جدائی اختیار نہ کرے ۔
when the verdant leaf Falls from the stem, its thread of hope for Spring
Is snapped asunder.
جو سبز پتا درخت سے ٹوٹ کر گر گیا، الگ ہو گیا ظاہر ہے کہ فصل بہار سے اس کی امدی کا رشتہ ٹوٹ گیا، یعنی بہار آئے گی تو انہیں پتوں میں نئی تازگی پیدا کرے گی جو درخت کی شاخوں سے وابستہ ہوں گے ۔
He who has not drunk The water of the People’s sacred well,
The flames of minstrelsy within his lute Grow cold, and die.
جس کسی نے ملت کے چشمہ زمزم سے پانی نہ پیا، اس کے ساز میں نغموں کے شعلے ٹھٹھر کر رہ گئے ۔
The individual, Alone, is heedless of high purposes;
His strength is apt to dissipate itself;
تنہا فرد کے دل میں مقاصد عالیہ کی تڑپ پیدا ہی نہیں ہو سکتی اور اسے قدرت نے عمل کی جو قوت عطا کی ہے وہ رائیگاں جائے گی(وہ انتشار کا شکار ہو جائے گی) ۔
The People only make him intimate
With discipline, teach him to be as soft And tractable as is the gentle breeze,
قوم اس کی فکر و نظر کو ایک ضابطے (ربط و ضبط) میں لاتی ہے بلکہ صبا کی طرح آہستہ آہستہ اور باقاعدہ چلنے لگتا ہے (مطلب یہ کہ فرد تنہا ہو تو وہ ضبط و نظم سے بے بہرہ ہوتا ہے جماعت میں آتا ہے تو ضبط و نظم کا پابند ہو جاتا ہے اور پابند ہوتے ہیں اس کی تمام سرگرمیاں مفید کاموں میں لگ جاتی ہیں ۔ )
Set him in earth like a well‐rooted oak,
Close‐fetter him, to make him truly free.
قوم فرد پر پابندیاں عائد کر دیتی ہے جیسے باغ میں شمشاد کے ہاتھ پاؤں باندھ کر (زمین میں دھنسا کر) آزاد کیا جاتا ہے ۔ (یہ پابندیاں اس لیے ہوتی ہیں کہ فرد کے لیے حقیقی آزادی کا راستہ ہموار ہو جائے ۔ )
When he is prisoner to the chain of Law
His deer, by nature wild and uncontrolled, Yields in captivity the precious musk.
جب ایک فرد ضابطے، ایک قانون اور ایک آئین کا حلقہ گردن میں ڈال لیتا ہے تو اس کے ادھر اُدھر بے مقصد دوڑنے والے (بے لگام) آہو میں نافہ پیدا ہو جاتا ہے یعنی اس کے طبعی جوہر کھلنے لگتے ہیں ۔
Thou, who hast not known self from selflessness,
Therefore hast lost thyself in vain surmise,
اے مخاطب، تو نے خودی اور بیخودی میں تمیز نہیں کی اور خود وہم و گمان میں پڑا رہا (اور ملت سے کٹ گیا) ۔
Within thy dust there is an element
Of Light, whose single shaft illuminates Thy whole perception;
تیری مٹی (خمیر) میں ایک نورانی اور روشن جوہر ہے تجھ میں فہم و ریاضت کا جو مادہ پیدا ہوا ہے یہ بھی ایک جوہر کی کرن ہے ۔
all thy joy derives From its enjoyment, all thy sorrow springs
From its distress; its constant change and turn Keep thee in vital being.
اگر وہ خوش ہے تو تو بھی خوش ہے اگر وہ غمگین ہے تو تو بھی غمگین ہے ۔ گویا وہ ہر لمحہ الٹ پلٹ میں لگا رہتا ہے اور اسکی یہی الٹ پلٹ تیرے لیے زندگی کا سروسامان ہے ۔
Grace to its glow I am myself, thou thou.
Preserving self, staking and making self,
Nourishing pride in meek humility,
یہی جوہر (خودی) ہے جو اپنے آپ کو قائم بھی رکھتا ہے، اپنے جلوے بھی بکھیرتا ہے اور ترقی، تعمیر و استواری میں بھی لگا رہتا ہے ۔ وہ نیاز کے پردے میں ناز پالتا ہے ۔
It is a flame that sets a fire alight,
A spark that overshoots the blazing torch.
اس کے سوز سے آگ بلند ہوتی ہے اور یہ چھوٹی سی چنگاری ہونے کے باوجود شعلے پر کمند ڈالتی ہے تا کہ اسے قابو میں لے آئے ۔ (مطلب یہ ہے کہ خودی میں بے پناہ زور ہوتا ہے وہ ہر چیز کو مسخر کر لینے کے لیے بیتاب ہوتی ہے اور قوت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ چھوٹی سی چنگاری بڑے بڑے شعلے پر جا گرتی ہے) ۔
Its nature is to be both free and bond;
Itself a part, it has the potency To seize the whole.
اس کی فطرت آزاد بھی ہے اور قید بھی اس کے جزو میں کل پر قابو پا لینے کی قوت موجود ہے (آزاد اس لیے کہ خودی جو چاہے کر سکتی ہے قید اس لیے کہ وہ اپنے ایک خاص دائرے سے باہر نہیں نکل سکتی ) ۔
I have beheld its wont Is strife incessant,
Whenever it comes forth From its seclusion, and discreetly steps
Into the riot of phenomena
جب یہ جوہر خلوت سے باہر نکلتا ہے تو جلوت کے ہنگامہ زار میں پاؤں رکھتا ہے
Its heart is impressed with the stamp of “he”,
“I” is dissolved, converting into “thou”.
تو اس کے دل پر اور نقش ثبت ہو جاتا ہے ۔ من اپنے آپ سے کٹ کر درمیان سے نکل کر تو بن جاتا ہے میں سے تو بننے کا مطلب یہی ہے کہ جب تک میں ، میں ، تھا اس میں خود غرضی تھی، ایثار نہ تھا،جب میں ، او ، اور ، تو، بنا تو خود غرضی محو ہو گئی اور اس کی جگہ ایثار نے لے لی ۔
Compulsion cuts the freedom of its choice,
Making it rich in love.
جماعت خودی پر پابندیاں عائد کر دیتی ہے گویا جبر خودی کا اختیار ختم کر دیتا ہے اور اسے محبت کی دولت بخش دیتا ہے ۔
While pride of self Pulls its own way, humility is not born;
Pull pride together, and humility Comes into being.
ناز جب تک ناز ہے اس سے نیاز پیدا نہیں ہوتا ۔ جب بہت سے ناز اکھٹے ہو جاتے ہیں تو نیا نیاز رونما ہو جاتا ہے ۔
self negates itself In the community,
that it maybe No more a petal, but a rosary.
جماعت میں شامل ہونے پر خودی اپنے وجود کو ختم کر دیتی ہے ۔ اسی طرح وہ پھول کی پتی سے چمن کی صورت اور وسعت پا لیتی ہے ۔ یعنی خودی علیحدگی سے نکل کر جماعت میں پہنچتی ہے تو خود شکنی سے جماعت کے ساتھ مطابقت پیدا کر لیتی ہے ۔ غرض یہ ہوتی ہے کہ پھول کی ایک پنکھڑی باغ کی صورت اختیار کر ے ۔
“These subtleties are like a steely sword:
If they defeat thy wit, quick, flee away!”
خودی اور بیخودی کا تعلق واضح کر چکنے کے بعد مولانا روم کا مشہور شعر دہراتے ہیں کہ میں جو نکتے بیان کر رہا ہوں وہ فولاد ی تلوار سے زیادہ تیز ہیں ۔ اگر تو انہیں نہیں سمجھتا تو میرے سامنے سے دور ہو جا، بھاگ جا ۔
Sources and translator credits
- Original text transcription: Rumuz-e-Bekhudi — تمہید- در معنی ربط فرد و ملت — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Rumuz-e-Bekhudi — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- rumuz-e-bekhudi: published English translation by آربری — Published digital poem page (zyfmadfx.json); retrieved 2026-10-05.Translation by آربری; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- rumuz-e-bekhudi: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (zyfmadfx.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
