الوقت سیف
English title: TIME IS A SWORD
Published English translations cover only part of this poem.
Green be the pure grave of Sháfi‘í, Whose vine hath cheered a whole world!
امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کی خاک پاک سبز ہو یعنی رحمت کی بارش سے ان کی تربت ٹھنڈی رہے، ایک دنیا امام موصوف کے انگور کا رس پی کر مست و سرخوش ہے ۔
His thought plucked a star from heaven: He named Time " a cutting sword."
ان کی فکر نے آسمان کے تارے توڑے ہیں ۔ انھوں نے وقت کو کاٹنے والی تلوار قرار دیا ۔
How shall I say what is the secret of this sword? All its brilliance is derived from Life.
میں کیا بتاؤں کہ اس تلوار کی حقیقت (بھید) کیا ہے ۔ اس (تلوار) کی دھار زندگی سے مالامال ہے ۔
Its owner is exalted above hope and fear, His hand is whiter than the hand of Moses.
جس کے قبضے میں یہ تلوار ہے وہ امید و بیم سے اوپر نکل جاتا ہے ۔ اس کا ہاتھ حضرت موسیٰ کلیم اللہ کے ہاتھ سے بھی زیادہ روشن ہو جاتا ہے ۔
At one stroke thereof water gushes from the rock And the sea becomes land from dearth of moisture.
اس کی ایک ضرب سے پتھر چشمے کی صورت میں پھوٹ پڑتا ہے اور سمندر (دریائے نیل) نمی یعنی پانی سے محروم ہو کر خشکی کی صورت اختیار کر جاتا ہے ۔
Moses held this sword in his hand, Therefore he wrought more than man may contrive.
حضرت موسیٰ کے ہاتھ میں یہی تلوار تھی، ان کا معاملہ تدبیر سے بہت آگے تھا ۔
He clove the Red Sea asunder And made its waters like dry earth.
انھوں نے بحر احمر (مراد دریائے نیل) کا سینہ چاک کر ڈالا اور سمندر کو زمین کی طرح خشک کر ڈالا (اس میں سے پیدل چلنے کا راستہ نکال لیا) ۔
The arm of Ali, the conqueror of Khaibar, Drew its strength from this same sword.
وہ جو حیدر (حضرت علی ) کا ہاتھ فاتح خیبر تھا تو ان کی قوت کے پیچھے بھی یہی تلوار تھی ۔
The revolution of the sky is visible, The change of day and night is perceived.
گردش کرنے والے آسمان کی گردش دیکھنے کے لائق ہے، رات دن کے انقلابات کی حیثیت پوری طرح سمجھنی چاہیے ۔
Look, O thou enthralled by Yesterday and To-morrow, Behold another world in thine own heart!
اے مخاطب، تو گزری ہوئی کل اور آنے والی کل کے چکر میں پڑا ہوا ہے، ذرا غو ر فکر سے کام لے ، اپنے دل میں ایک اور ہی نئی دنیا کا تماشا کر ۔
Thou hast sown the seed of darkness in thy clay, Thou hast imagined Time as a line.
تو نے اپنی مٹی (اپنے خمیر) میں تاریکی کا بیج بو لیا ، تو نے وقت کو ایک لکیر کی طرح سمجھ لیا ۔
Thy thought measures length of Time With the measure of night and day.
پھر شب و روز کے پیمانے سے، تیرے فکر نے زمانے کی لمبائی کو ناپا ۔
Thou mak’st this line a girdle on thine infidel waist; Thou art an advertiser of falsehood, like idols.
تو نے اس دھاگے کو اپنے کندھے کی زنار بنا لیا، (جس کے نتیجے میں ) اور بتوں کی طرح باطل فروشی شروع کر دی ہے ۔
Thou wert the Elixir, and thou hast become a peck of dust; Thou wert born the conscience of Truth, and thou hast become a lie!
تو اکسیر تھا لیکن اب مٹی کا ڈھیر ہو کے رہ گیا، تو نے حق کے بھید کو ظاہر کیا اور پھر باطل بن گیا ۔
Art thou a Moslem? Then cast off this girdle! Be a candle to the feast of the religion of the free!
کیا تو مسلمان ہے اس زنار سے آزاد ہو جا، آزاد لوگوں کی ملت بزم کی شمع بن جا ۔
Knowing not the origin of Time, Thou art ignorant of everlasting Life.
تجھے تو زمان کی اصل کی خبر ہی نہیں ہے، تو حیات دوام (جاودان) سے واقف ہی نہیں حیات ۔
How long wilt thou be a thrall of night and day? Learn the mystery of Time from the words "I have a time with God."
تو کب تک اس دن اور رات کے چکر میں سرگردان رہے گا ذرا، لی مع اللہ (اللہ میرے ساتھ )سے وقت کی حقیقت پر غور کر اور سمجھ ۔
Phenomena arise from the march of Time, Life is a part of the contents of Time's consciousness.
یہ اور وہ (دن اور رات) وقت کی گردش کا کرشمہ ہے بلکہ زندگی، وقت کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے ۔
The cause of Time is not the revolution of the sun: Time is everlasting, but the sun does not last for ever.
وقت کی اصل سورج کی گردش سے وابستہ نہیں ہے، وقت تو جاودانی ہے، ہاں سورج فانی ہے وہ ہمیشہ نہیں رہ سکتا ۔
Time is joy and sorrow, festival and fast; Time is the secret of moonlight and sunlight.
وقت عیش بھی ہے اور غم بھی (دوسرے لفظوں میں ) عاشورہ یعنی ماتم اور عید (خوشی ) بھی ہے، وقت چاند اور سورج کی روشنی کا راز بھی ہے ۔
Thou hast extended Time, like Space, And distinguished Yesterday from To-morrow.
تو نے وقت کو بھی مکاں ہی کی طرح پھیلی ہوئی چیز قرار دے دیا ہے، تو نے دوش و فردا میں امتیاز کیا ہے ۔
Thou hast fled, like a scent, from thine own garden; Thou hast made thy prison with thine own hand.
اے بے خبر! تو اپنے باغ سے خوشبو بن کر اڑ گیا تو نے خود اپنے ہی ہاتھوں اپنا قید خانہ تیار کر لیا ۔
Our Time, which has neither beginning nor end, Blossoms from the flower-bed of our mind.
ہمارا وقت، جس نے اول و آخر (آغاز و انجام) نہیں دیکھا یہ ہمارے ضمیر کی کیاری سے اگتا ہے ۔
To know its root quickens the living with new life: Its being is more splendid than the dawn.
جو زندہ ہے وہ اسے (وقت) کی حقیقت کا پتہ چل جائے تو زندہ تر ہو گیا، اس کا وجود زندگی کی صبح سے بھی زیادہ منور و درخشاں ہو گیا ۔
Life is of Time, and Time is of Life: "Do not abuse Time!" was the command of the Prophet.
زندگی دہر سے اور دہر زندگی سے ہے ۔ رسول اللہ کا ارشاد ہے کہ دہر یعنی زمانے کو برا مت کہو ۔
میں تجھے موتی کی طرح درخشان (روشن) ایک گہری بات بتانا چاہتا ہوں تا کہ تو غلام اور آزاد کے درمیان تمیز کر سکے ۔
غلام شب و روز کے چکر میں گم ہو جاتا ہے جب کہ آزاد کے ضمیر میں زمانہ اپنی اہمیت کھو بیٹھتا ہے (اس میں گم ہو جاتا ہے) ۔
غلام، ایام (زمانے) سے اپنا کفن بنتا ہے (تیار کرتا ہے) وہ روز و شب کو اپنے آپ پر تن لیتا ہے (حاوی کر لیتا ہے) ۔
آزاد مرد خود کو مٹی سے باہر نکال لیتا ہے ، وہ خود کو زمانوں پر تن لیتا ہے (حاوی ہو جاتا ہے) ۔
غلام، پرندے کی مانند صبح اور شام کے جال میں گرفتار رہتا ہے، اس کی جان نے لذت پرواز اپنے آپ پر حرام کر رکھی ہے ۔
ایک تیز سانس لینے والے آزاد کا سینہ زمانے کے پرندے کے لیے پنجرا بن جاتا ہے ۔
غلام کی فطرت لی ہوئی چیز کے حصول پر قائم رہتی ہے (جو کچھ میسر ہے اسی پر قناعت کرتا ہے) ۔ اس کی جان و دل پر گزرنے والی کیفیات، انوکھے پن اور جدت سے عاری ہیں ۔
وہ کاہلی اور سستی سے ایک جگہ سے دوسرے جگہ جانا اس کے لیے دو بھر ہو جاتا ہے ، وہ اسی جگہ پر کھڑا ہے ، وہ صبح و شام ایک ہی رنگ کی آہ و فغان کرتا رہتا ہے ۔
آزاد ہر وقت نئی چیزیں پیدا کرتا ہے ۔ اس کے ساز سے برابر تازہ نغمے نکلتے رہتے ہیں ۔
اس کی سرشت کسی چیز کو بار بار کرنے کی تکلیف نہیں اٹھاتی، اس کا راستہ پرکار کا حلقہ یا دائرہ نہیں ہے(کہ ہر پھر کر ایک ہی جگہ واپس آ جائے) ۔
(اس کے برعکس) غلام کی یہ حالت ہے کہ و ہ محض وقت کی زنجیر میں جکڑا ہوا ہے، اس کے لب پر تقدیر ہی کا لفظ رہتا ہے اور بس(جو کچھ پیش آتا ہے اسی کی وہ تقدیر مان لیتا ہے) ۔
آزاد مرد کی ہمت قضا و قدر کی مشیر بن جاتی ہے، اس کے ہاتھوں سے نئے نئے وقوعات جنم لیتے ہیں ۔
ماضی اور مستقبل اس میں موجود ہوتے ہیں ، دیریاں اس کی جلدی میں آرام کرتی ہیں ۔
اس بات (موضوع) کے لیے آواز درکار نہیں ہے، یہ بات فہم و شعور اور عقل سے ماورا ہے(سمجھ میں نہیں آتی) ۔
میں نے بات تو کر دی لیکن معنی میرے الفاظ سے شرمسار ہیں ، معنی کو یہ شکایت ہے کہ مجھے الفاظ سے کیا واسطہ ۔
جب زندہ معنی الفاظ میں بیان کئے جائیں تو وہ مر جاتا ہے ، تیرے سانس اس کی آگ بجھا دیتے ہیں ۔
حضور غایب کا نکتہ دل کے اندر ہے، ایام اور مرور (زمانے اور گزرنے کی صورتحال) کی حقیقت دل میں ہے ۔
وقت کے ساز کا نغمہ بے آواز ہے یعنی حواس کے ذریعے سے سنا نہیں جا سکتا البتہ تو دل میں غوطہ لگا تا کہ وقت کا راز تجھ پر آشکار ہو جائے ۔
Oh, the memory of those days when Timeʹs sword Was allied with the strength of our hands!
کبھی وہ دور بھی تھا جب زمانے کی تلوار ہمارے قوی بازو کی رفیق بنی ہوئی تھی ۔
We sowed the seed of religion in men's hearts And unveiled the face of Truth.
ہم نے اپنے دلوں میں کھیتی میں دین کا بیج بو رکھا تھا ہم نے حقیقت کے چہرے سے پردہ اٹھا دیا ۔
Our nails tore loose the knot of this world, Our bowing in prayer gave blessings to the earth.
ہمارے ناخن نے دنیا کی الجھن کو سلجھایا تھا ۔ اس زمین کا نصیبہ ہمارے سجدوں کے باعث چمک اٹھا ۔
From the jar of Truth we made rosy wine gush forth, We charged against the ancient taverns.
ہم نے حق کے مٹکے سے گلاب جیسی شراب پی ۔ ہم نے پرانے شراب خانوں پر شبخون مارا(ہم نے تمام پرانے نظریات و تصورات کو ختم کر کے رکھ دیا) ۔
O thou in whose cup is old wine, A wine so hot that the glass is well-nigh turned to water.
اے مغرب والو! صراحی میں پرانی شراب (ہمارے علوم و فنون) موجود ہے، شیشہ تیری شراب کی حرارت سے پگھلا جا رہا ہے ۔
Wilt thou in thy pride and arrogance and self-conceit Taunt us with our emptiness?
تو گھمنڈ ، تکبر ، غرور اور انا کے باعث ہماری مفلسی (علوم و حکمت و فنون سے محرومی) پر طعنہ مارتا ہے ۔
Our cup, too, hath graced the symposium; Our breast hath owned a spirit.
کبھی ہمارا جام بھی مجلس کی زینت تھا، ہمارا سینہ بھی کبھی صاحب دل رہا ہے ۔
A new age hath been endued with our beauty And hath risen from the dust of our feet.
یہ جو جدید دور (اپنے سائنسی علوم) کے جلووں سے آراستہ ہے تو یہ سب ہمارے پاؤں کی گرد یا غبار سے نکلے ہیں ۔
Our blood hath watered God's harvest, All worshippers of God are our debtors.
حق کی کھیتی ہمارے خون سے سرسبز و شاداب ہوئی اور دنیا بھر کے حق پرست ہمارے ممنون ہیں ۔
The takbír was our gift to the world Ka‘bas were built of our clay.
دنیا کو ہم نے تکبیر سکھائی، ہماری مٹی سے یعنی ہمارے ہی دم سے کئی کعبے تعمیر ہوئے (اسلام کی روشنی پھیلی) ۔
By means of us God taught the Koran, From our hand He dispensed His bounty.
اللہ تعالیٰ نے ہمیں اقراء کے لفظ کی تعلیم دی تھی اس نے اپنا رزق ہمارے ہاتھوں سے تقسیم کرایا تھا ۔
Although crown and signet have passed from us, Do not look with contempt on our beggarliness!
اگرچہ ہم سے تاج و نگین (اقتدار) چھن گیا ہے تا ہم تو ہم فقیروں کو حقارت سے نہ دیکھ ۔
In thine eyes we are good for nothing, Thinking old thoughts, despicable.
تیری نظروں میں تو ہم گھاٹے کا سودا کرنے والے ہیں ، رجعت پسند (دقیانوسی) ہیں اور ذلیل و خوار ہیں ۔
We have honour from "There is no god but Allah," We are the preservers of the universe.
کیا کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ لا الہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ) ہی سے ہماری عزت اور آبرو ہے، ہم دونوں جہانوں کو پیش نظر رکھتے ہیں ۔
Freed from the vexation of to-day and to-morrow, We have pledged ourselves to love One.
ہم حال اور مستقبل کے غم سے نجات پائے ہوئے ہیں (کوئی فکر نہیں ) ہم نے کسی (مراد رسول اللہ) کے ساتھ محبت کا عہد کر رکھا ہے ۔
We are the conscience hidden in God's heart, We are the heirs of Moses and Aaron.
ہم خدا کے دل کا چھپا ہوا بھید ہیں ، ہم حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے ترکے کے وارث ہیں ۔
Sun and moon are still bright with our radiance, Lightning-flashes still lurk in our cloud.
سورج اور چاند ابھی تک ہماری تب و تاب سے روشن ہیں ۔ ابھی تک ہمارے بادل میں بجلیاں موجود ہیں ۔
Our essence is the mirror of the Divine essence: The Moslem's being is one of the signs of God.
ہمارا وجود خدا کے وجود کا آئینہ ہے، مسلمان کا وجود خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔
Sources and translator credits
- Original text transcription: Asrar-e-Khudi — الوقت سیف — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Asrar-e-Khudi — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- asrar-e-khudi: published English translation by نکلسن — Published digital poem page (e707oirr.json); retrieved 2026-10-05.Translation by نکلسن; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- asrar-e-khudi: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (e707oirr.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
