’’در شرح اسرار اسمای علی مرتضی‘‘
English title: SETTING FORTH THE INNER MEANING OF THE NAMES OF ALI
Published English translations cover only part of this poem.
Published Urdu translations cover some, but not all, Persian verses in this poem.
Ali is the first Moslem and the King of men, In Love's eyes Ali is the treasure of the Faith.
حضرت علی المرتضیٰ دلیروں کے سردار ہیں ، اسلام لانے والوں میں سرفہرست ہیں ۔ حضرت علی المرتضیٰ کی ذات عشق کے لیے سرمایہ ایمان تھی ۔
Devotion to his family inspires me with life So that I am as a shining pearl
میں (اقبال) آپ کے خاندان (مبارک) کی محبت کے سبب زندہ ہوں اور (اسی برکت سے) میں دنیا میں موتی کی طرح چمک رہا ہوں ۔
Like the narcissus, I am enraptured with gazing; Like perfume, I am straying through his pleasure-garden.
میں نرگس ہوں (یعنی سراپا آنکھ ہوں ) اور نظارے میں کھویا ہوا ہوں (نظارے کے لیے بیخود ہوں ) میں آپ کی کیاری میں خوشبو کی طرح ادھر اُدھر پھرتا ہوں ۔
If holy water gushes from my earth, he is the source; If wine pours from my grapes, he is the cause
اگر میری خاک سے زمزم کا چشمہ پھوٹتا ہے تو یہ آپ ہی سے محبت اور برکت کے سبب ہے شراب ٹپک رہی ہے تو یہ بھی اسی باعث ہے ۔
I am dust, but his sun hath made me as a mirror: Song can be seen in my breast
میں خاک ہوں اور (حضرت علی ) سے محبت کے نتیجے میں آئینہ صفت ہو گیا ہوں ، چنانچہ میرے سینے میں آواز کو دیکھا جا سکتا ہے ۔
From Ali's face the Prophet drew a fair omen, By his majesty the true religion is glorified.
آپ کے (مبارک) چہرے سے رسول اللہ نے اچھا شکون لیا، ملت اسلامیہ کو آپ کے شکوہ و دبدبہ کے نتیجے میں شان وشوکت ملی ۔
His commandments are the strength of Islam: All things pay allegiance to his House
آپ کے فرمودات، روشن دین (اسلام) کے لیے قوت کا باعث ہیں ۔ دنیا کو انہی کے خاندان سے آئین، قانون اور دستور ملا ۔
The Apostle of God gave him the name Bú Turáb; God in the Koran called him “the Hand of Allah
اللہ کے پیغمبر ﷺ نے آپ کو بوتراب کا نام (لقب ) دیا ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آپ کو ید اللہ (اللہ کا ہاتھ) قرار دیا۔
Every one that is acquainted with Life’s mysteries Knows what is the inner meaning of the names of Ali
جو کوئی بھی زندگی کے بھید جانتا ہے اسے علم ہے کہ حضرت علی کے اسما و القاب کا راز کیا ہے ۔
The dark clay, whose name is the body-- Our reason is ever bemoaning its iniquity
وہ سیاہ خاک جسے بدن کہا جاتا ہے اورعقل جس کے ظلم سے نالاں ہے (آہ فریاد کر رہی ہے) ۔
On account of it our sky-reaching thought plods o’er the earth; It makes our eyes blind and our ears deaf.
آسمانوں کی سی بلندی کا حامل فکر اس کے ہاتھوں پستی کا شکار رہتا ہے اور دیکھنے والی آنکھ اس کے سبب اندھی ہے اور کان بہرے ہیں ۔
It hath in its hand a two-edged sword of lust: Travellers’ hearts are broken by this brigand.
جس کے ہاتھ میں حرص و ہوس کی دو دھاری تلوار ہے اور اللہ کی راہ میں چلنے والوں (سالکوں ) کے دل اس سے خوف زدہ ہیں ۔
Ali, the Lion of God, subdued the body’s clay And transmuted this dark earth to gold
اللہ کے شیر (اسد اللہ، حضرت علی ) نے اس خاک (بدن) پر قابو پا لیا ۔ آپ نے اس سیاہ خاک کو جو بالکل بے نور تھی اکسیر یعنی کیمیا بدل دیا ۔
Murtazá, by whose sword the splendour of Truth was revealed, Is named Bú Turáb from his conquest of the body
مرتضیٰ جن کی تلوار سے حق روشن ہے، جو بوتراب بنے یا کہلائے ہیں تو یہ جسم کی ولایت کو فتح کرنے کے نتیجے میں ہے ۔
Man wins territory by prowess in battle, But his brightest jewel is mastery of himself.
دلیر اور شجاع آدمی کراری (بڑھ چڑھ کر دشمن پر حملہ کرنے ) کی بنا پر فاتح ملک بنتا ہے ۔ اس کے گوہر کی آب و تاب خودداری کے سبب ہے ۔
Whosoever in the world becomes a Bú Turáb Turns back the sun from the west.
اس کائنات میں جو کوئی بھی بوتراب بنتا ہے (یعنی اپنے جسم اور ہوا و ہوس پر قابو پا لیتا ہے اسی کو یہ قوت میسر آتی ہے کہ) وہ چاہے تو سورج کو مغرب سے لوٹا لاتا ہے ۔
Whosoever saddles tightly the steed of the body Sits like the bezel on the seal of sovereignty
جس کسی نے بھی تن کی سواری پر کس کر زین باندھی اسی کو یہ مرتبہ ملا کہ وہ حکومت کی مہر میں نگینے کی طرح بیٹھ گیا ۔ یعنی سلطنت کا مالک بن گیا ۔
Here the might of Khaibar is under his feet, And hereafter his hand will distribute the water of Kauthar.
اس دنیا میں تو خیبر جیسے باشکوہ قلعے کی ساری شان و شوکت اس کے پاؤں کے نیچے ہوتی ہے اور دوسری دنیا (آخرت) میں اس کا ہاتھ حوض کوثر کا شیریں پانی تقسیم کرنے والا ہوتا ہے ۔
Through self-knowledge he acts as God’s Hand, And in virtue of being God’s Hand he reigns over all
وہ اپنی ذات سے بخوبی واقف ہونے کے نتیجے میں اللہ کا ہاتھ بن جاتا ہے اور پھر اسی الوہی ہاتھ کے ساتھ وہ کائنات پر حکمرانی کرنے لگتا ہے ۔
His person is the gate of the city of the sciences: Arabia, China, and Greece are subject to him
اس کی ذات شہر علوم کا دروازہ (بن جاتی ) ہے اور حجاز، چین اور شام یعنی ساری دنیا اس کے زیر فرمان آ جاتی ہے ۔
If thou wouldst drink clear wine from thine own grapes, Thou must needs wield authority over thine own earth.
اپنی خاک (بدن) پر حکم چلانے والا (حکمران) بننا چاہیے تاکہ تو اپنی تاک (انگور کی بیل) سے مصفا اور روشن شراب پیئے ۔
To become earth is the creed of a moth; Be a conqueror of earth; that alone is worthy of a man
(جل کر) راکھ ہو جانا پروانے کا طریقہ ہے تو مٹی کا باپ (بوتراب) بن جا (اسے فتح کر اور قابو پا) کہ یہی شجاعت و دلیری ہے ۔
Thou art soft as a rose. Become hard as a stone, That thou mayst be the foundation of the wall of the garden
تیرا بدن پھول کی طرح نرم و نازک ہے ۔ پتھر بن جا(سخت جان ہو جا) تا کہ تو چمن کی دیوار کی بنیاد بن سکے ۔
Build thy clay into a Man, Build thy Man into a World
اپنی مٹی گارے سے (ایک صاحب عمل) آدمی کی تعمیر کر(نیا آدم پیدا کر) ایسے آدمی کے لیے ایک عالم نو تعمیر کر(نئے جہان کی بنیاد رکھ) ۔
If thou art unfit to be either a wall or a door, Some one else will make bricks of thine earth.
اگر تو خود کوئی دیوار اور دروازہ نہیں بنائے گا تو کوئی دوسرا آ کر تیری بیکار پڑی مٹی سے اپنی تعمیر کے لیے اینٹیں بنانے لگے گا ۔
O thou who complainest of the cruelty of Heaven, Thou whose glass cries out against the injustice of the stone,
اے (مخاطب، اس دور کے مسلمان) بے شک تو جو اس بے اصولے آسمان کے جور و ستم سے تنگ ہے تیرا جام پتھر کے ظلم و ستم کا فریادی ہے ۔
How long this wailing and crying and lamentation? How long this perpetual beating of thy breast
تو کب تک نالہ و فریاد اور ماتم کرتا رہے گا کب تک شب و روز سینہ پیٹتا جائے گا
The pith of Life is contained in action, To delight in creation is the law of Life.
عمل ہی میں زندگی کا مقصد پوشیدہ (چھپا ہوا) ہے تخلیق کا لطف، زندگی کا قانون ہے ۔
Arise and create a new world! Wrap thyself in flames, be an Abraham
اٹھ اور نیا جہان پیدا کر ۔ آگ کو آغوش میں لے لے اپنے جسم میں آگ بھڑکا کر خود کو حضرت خلیل کی شہرت کا مالک بنا(نعرہ حق لگا) ۔
To comply with this ill-starred world Is to fling away thy buckler on the field of battle.
ناموافق دنیا سے نباہ یا موافقت پیدا کرنا ایسے ہی ہے جیسے میدان (جنگ) میں ہتھیار ڈال دینا(ہار قبول کر لینا) ۔
The man of strong character who is master of himself Will find Fortune complaisant.
جو خود دار انسان عمل میں پکا اور تجربہ کار ہوتا ہے، زمانہ خود اس کے مزاج کے مطابق چلتا ہے ۔
If the world does not comply with his humour, He will try the hazard of war with Heaven
اور اگر زمانہ اس (خوددار) کے مزاج سے نباہ نہیں کرتا تو وہ آسمان سے جنگ کرنے پر تیار ہو جاتا ہے ۔
He will dig up the foundations of the universe And cast its atoms into a new mould
وہ کائنات کو جڑ سے اکھاڑ ڈالتا ہے اور اسکی جگہ ذروں کو ایک نئی ترکیب (نئی دنیا) سے نئے سرے سے آراستہ کرتا ہے ۔
He will subvert the course of Time And wreck the azure firmament
وہ زمانے کی گردش کو درہم برہم کر کے رکھ دیتا ہے ۔ وہ نیلے آسمان ہی کو باقی نہیں چھوڑتا جس سے گردش پیدا ہوتی ہے ۔
By his own strength he will produce A new world which will do his pleasure
وہ اپنی قوت سے ایک ایسا نیا زمانہ وجود میں لے آتا ہے جو اس سے موافقت کے لیے تیار ہو ۔
If one cannot live in the world as beseems a man, It is true life to give up one's soul.
اگر دنیا میں جوان مردوں کی طرح زندہ نہیں رہ سکتے تو پھر جوان مردوں کی طرح جان دے دیتے ۔ یعنی دلیرانہ موت کو سینے سے لگا لینا ہی زندگی ہے ۔
He that hath sound intelligence Will prove his strength by great enterprises.
صحت مند و توانا دل والا بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیتے ہوئے اپنی قوت و طاقت کی آزمائش کرتا ہے (اسے زور آزمانے کا موقع ملتا ہے) ۔
Tis sweet to use love in hard tasks And, like Abraham, to gather roses from flames
مشکلات سے دلچسپی و وابستگی ایک اچھی بات ہے(ایسی ہی زندگی کے لیے دل میں تڑپ ہونی چاہیے) حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی مانند آگ سے پھول چننے کا عمل اچھا ہے(انھیں کے نقش قدم پر چلنا چاہیے) ۔
The potentialities of men of action Are displayed in willing acceptance of what is difficult
صاحبان عمل کی قوت کے ممکنات، ان کی کٹھن اور مشکل کاموں سے رغبت کی بناپر ظاہر ہوتے ہیں ۔
Mean spirits have no weapon but spite, This is their one rule of life.
جو لوگ ہمت سے عاری ہیں ان کے پاس کینے کے سوا کوئی ہتھیار نہیں ۔ ان کی زندگی کا دستور یہی ہے
But Life is power made manifest, And its mainspring is the desire for victory.
حالانکہ زندگی تو ایک واضح قوت ہے جس کی بنیاد غلبہ پا لینے کی فطری خواہش سے ہے ۔
Whoever is sunk in the depths of ignominy Calls his weakness contentment.
جو کوئی بھی ذلت و پستی کے گڑھے میں گرا ہوا ہے وہ اپنی کمزوری اور ناتوانی کو صبر و قناعت کا نام دے دیتا ہے ۔
Weakness is the plunderer of Life, Its womb is teeming with fears and lies
حالانکہ کمزوری اور ناتوانی زندگی کے راستے کی قراق اور رہزن ہے ۔ اس کا باطن ڈر اور جھوٹ سے پر ہے ۔ یعنی اس کے باطن سے ڈر اور جھوٹ پیدا ہوتے ہیں ۔
O man of sound judgement, beware! This spoiler is lurking in ambush.
اے عقل سلیم رکھنے والے خبردار رہ یہ دشمن ( ہر وقت) گھات میں رہتا ہے ۔
Even by keen observers his form is not discerned: Veils are thrown over his face.
اہل نظر نے کمزوری اور ناتوانی کی اصل صورت نہیں دیکھی ۔ اس کے چہرے پر رنگ رنگ کے پردے ڈال دیئے ۔
Now he is muffled in pity and gentleness, Now he wears the cloak of humility.
چنانچہ کبھی تو رحم اور نرمی اس کی پردہ داری کرتی ہے اور کبھی وہ عاجزی و مسکینی کی چادر اوڑھ لیتی ہے ۔
He appears in the shape of self-indulgence And robs the strong man's heart of courage.
اس نے تن آسانی کے پردے میں اپنا چہرہ نمایاں کیا اور اس طرح صاحب قوت کا دل چھین لیا ۔
Strength is the twin of Truth; If thou knowest thyself, strength is the Truth-revealing glass
لیکن قوت اور توانائی سچائی کی جڑواں ہے ۔ اگر تو اپنی ذات حقیقت سے آگاہ ہو جائے تو پھر یہی جمشید کا پیالہ ہے ۔
Life is the seed, and power the crop: Power explains the mystery of truth and falsehood
زندگی کھیتی ہے اور اس کی فصل قوت ہے ، حق اور باطل میں جو بھید ہے قوت اس کی رمز یا شرح ہے ۔
The false claimant, if he be possessed of power, Needs no argument for his claim.
اگر کوئی دعویٰ کرنے والا قوت کے دولت سے مالامال ہے تو اس کے دعویٰ کے اثبات کے لیے کسی دلیل یا ثبوت کی ضرورت نہیں رہتی ۔
Falsehood derives from power the authority of truth, And by falsifying truth deems itself true
باطل، قوت کی بدولت حق کی سی شان پیدا کر لیتا ہے اور حق کو باطل کہہ کر خود کو حق جاننے لگتا ہے ۔
Its creative word transforms poison into nectar; It says to Good, "Thou art bad," and Good becomes Evil.
اس کے کن (حکم) سے کوثر، زہر میں تبدیل ہو جاتی ہے وہ خیر کو شر کا نام دے کر اسے شر بنا دیتا ہے ۔
O thou that art heedless of the trust committed to thee, Esteem thyself superior to both worlds
اے (انسان) تو امانت کے آداب سے نا آشنا ہے تو اپنے آپ کو دونوں جہانوں سے بہتر سمجھ (یعنی تو اشرف المخلوقات ہے، تجھے سب سے بلند درجہ عطا کیا گیا ہے) ۔
Gain knowledge of Life’s mysteries! Be a tyrant! Ignore all except God
تو زندگی کے اسرار و رموز سے واقفیت حاصل کر اور خدا کے سوا جو کچھ ہے اس کے معاملے میں ظالم و جاہل ہو جا(اپنے آپ کو خداکے کاموں کے لیے وقف کر دے) ۔
O man of understanding, open thine eyes, ears, and lips If then thou seest not the Way of Truth, laugh at me!
اے عقلمند تو اپنے کان، ہونٹ اور آنکھیں کھول پھر اگر اس کے باوجود تجھے حق و صداقت کی راہ نظر نہ آئے تو اس وقت مجھ پر ہنس ۔
Sources and translator credits
- Original text transcription: Asrar-e-Khudi — ’’در شرح اسرار اسمای علی مرتضی‘‘ — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Asrar-e-Khudi — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- The Secrets of the Self (Asrár-i Khudí) — 1920 English edition; the Project Gutenberg transcription states it follows the second edition.Translation by Reynold A. Nicholson; Nicholson’s published English translation of Asrár-i Khudí; matched passages are credited to their numbered book sections and electronic-text line ranges.Source
- asrar-e-khudi: published English translation by نکلسن — Published digital poem page (b0mr9m34.json); retrieved 2026-10-05.Translation by نکلسن; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- asrar-e-khudi: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (b0mr9m34.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
