و مرحلہ سوم را نیابت الھی نامیدہ اند مرحلۂ اول را اطاعت و مرحلۂ دوم را ضبط نفس، در بیان اینکہ تربیت خودی را سہ مراحل است
English title: SHOWING THAT THE EDUCATION OF THE SELF HAS THREE STAGES: OBEDIENCE, SELF-CONTROL, AND DIVINE VICEGERENCE.
’’مرحلۂ اول اطاعت ‘‘
Service and toil are traits of the camel, Patience and perseverance are ways of the camel.
خدمت اور محنت مشقت کرتے رہنا اونٹ کا شیوہ ہے ۔ صبر اور ثابت قدمی ہی اس کا کام ہے ۔
Noiselessly he steps along the sandy track, He is the ship of those who voyage in the desert
راستہ چلتے ہوئے اس کے پاؤں سے شور کم پیدا ہوتا ہے ۔ وہ قافلے کے لیے صحرا کا جہاز ہے ۔
Every thicket knows the print of his foot: He eats seldom, sleeps little, and is inured to toil
اسکے پاؤں کے نشان ہر جنگل اور صحرا کا مقدر ہیں ( ہر جگہ چلتا ہے) ۔ وہ کم کھاتا ہے، کم سوتا اور محنت و مشقت کو اپنی روش بنائے رکھتا ہے ۔
He carries rider, baggage, and litter; He trots on and on to the journey’s end
وہ محمل (کجاوے) کا بوجھ اٹھائے مزے مزے سے چلتا ہے، پاؤں چلاتے مارتے (رقص کرتا ہوا) منزل مقصود کی طرف بڑھا چلا جاتا ہے ۔
Rejoicing in his speed, More patient in travel than his rider
وہ اپنی رفتار کے نشے میں مگن ہو کر چلتا ہے ۔ سفر میں وہ اپنے سوار کے مقابلے میں زیادہ صبر سے کام لیتا ہے ۔ (ان اشعار میں علامہ نے اطاعت اختیار کرنے پر زور دیا ہے اور اس کے لیے وہ اونٹ کی مثال لائے ہیں ، جو ان کے نزدیک اطاعت کا ایک عملی نمونہ ہے) ۔
Thou, too, do not refuse the burden of Duty: So wilt thou enjoy the best dwelling-place, which is with God.
(اے انسان) ان فرضوں کے بوجھ سے سرتابی نہ کر، منہ نہ موڑ، جو خدا نے تیرے ذمے لگا دیئے ہیں ۔ تاکہ تو عندہُ حُسن المآب کا پھل پائے ۔ اس طرح تو اس بہترین ٹھکانے پر پہنچ جائے گا جو خدا کے پاس ہے ۔
Endeavour to obey, O heedless one! Liberty is the fruit of compulsion
اے غفلت کے عادی انسان تو اطاعت خداوندی کی کوشش کر، یاد رکھ کی جبر ہی سے اختیار پیدا ہوتا ہے ۔
By obedience the man of no worth is made worthy; By disobedience his fire is turned to ashes
سچے احکام کی پابندی ایسی شے ہے جو نکمے اور بے حقیقت آدمی کو بھی واقعی انسان بنا دیتی ہے ۔ اس کے برعکس سرکشی اور نافرمانی کا یہ حال ہے کہ اگر وہ آگ بھی ہے تو سرکشی کی بنا پر اس کی حقیقت تنکے کی سی ہو جاتی ہے ۔
Whoso would master the sun and stars, Let him make himself a prisoner of Law
جو کوئی چاند ستاروں کو تسخیر کرتا ہے وہ (پہلے) اپنے آپ کو آئین کا مقید و پابند بناتا ہے ۔
The wind is enthralled by the fragrant rose; The perfume is confined in the navel of the musk-deer.
ہوا پھول کی قید خانے میں بند ہو کر خوشبو بن جاتی ہے ۔ یہی قید خوشبو کو ہرن کا نافہ بنا دیتی ہے ۔
The star moves towards its goal With head bowed in surrender to a law.
ستارہ منزل کی طرف قدم اٹھاتا ہے تو اطاعت کا سر جھکائے ہوئے چلتا ہے ۔
The grass springs up in obedience to the law of growth: When it abandons that, it is trodden underfoot
سبزہ بڑھنے پھولنے کے نظام کے تحت اگتا ہے(اگر)وہ اس نظام سے پہلو تہی کرے تو وہ پاؤں کے نیچے روندا جاتا ہے ۔
To burn unceasingly is the law of the tulip, And so the blood leaps in its veins
لالہ یعنی گل لالہ کا آئین و دستور مسلسل جلتے رہنا ہے (اس کے رنگ کی طرف اشارہ ہے) اس کی رگوں میں اس کا خون دوڑتا رہتا ہے ۔
Drops of water become a sea by the law of union, And grains of sand become a Sahara.
باہم مل جانے کے نظام کی بنا پر قطرے دریا کی شکل اختیار کر جاتے ہیں ۔ اسی باہمی ملاپ کے دستور کے سبب ذرے صحرا بن جاتے ہیں ۔
Since Law makes everything strong within, Why dost thou neglect this source of strength
ہر چیز کا باطن کسی نہ کسی آئین کی وجہ سے مضبوط و مستحکم بنتا ہے ۔ (تو پھر) تو نے کس لیے اس پابندی اور فرمانبرداری کو پس پشت ڈال رکھا ہے کیوں غفلت برت رہا ہے ۔
O thou that art emancipated from the old Custom Adorn thy feet once more with the same fine silver chain.
اے پرانے آئین و دستور سے بے تعلق (مسلمان) تو پھر سے وہی چاندی کی زنجیر پاؤں میں ڈال لے ۔
Do not complain of the hardness of the Law, Do not transgress the statutes of Mohammed!
آئین کی سختی کا گلہ شکوہ نہ کر، رسول اللہ ﷺ کے مقرر کردہ آئین و دستور کے دائرے سے باہر نہ نکل ۔
’’مرحلہ دوم ضبط نفس‘‘
Thy soul cares only for itself, like the camel: It is self-conceited, self-governed, and self-willed
تیرا نفس اونٹ کی طرح اپنے آپ کو پالنے والا ہے، ساتھ ہی وہ خود پسند، اپنا سوار آپ (اپنے آپ پر کسی کا اقتدار روا نہیں رکھتا) اور ضدی اور سرکش بھی ہے ۔
Be a man, get its halter into thine hand, That thou mayst become a pearl albeit thou art a potter’s vessel
تو مرد بن (اپنے اندر مردانگی پیدا کر) اور نفس کی لگام ہاتھ میں تھام لے ۔ اس پر قابو پا لے تا کہ اگر تو ٹھیکری ہے تو گوہر بن جائے ۔
He that does not command himself Becomes a receiver of commands from others
جس کا بھی اپنے آپ (نفس) پر حکم نہیں چلتا وہ دوسروں ہی کا حکم ماننے پر لگا رہتا ہے (فرمانبردار بن جاتا ہے) ۔
When they moulded thee of clay, Love and fear were mingled in thy making.
تیرے وجود کی تعمیر مٹی سے ہوئی ہے ۔ یعنی تو آب وگِل سے بنا ہے اس تعمیر میں محبت اور خوف کی باہم آمیزش کی گئی ہے ۔
Fear of this world and of the world to come, fear of death, Fear of all the pains of earth and heaven
(تیرے دل میں ) دنیا کا خوف ہے، آخرت کا خوف ہے جان کا خوف ہے، زمین اور آسمان سے نازل ہونے والی آفتوں کا خوف ہے ۔
Love of riches and power, love of country, Love of self and kindred and wife
(اور محبت کی قسمیں کچھ اس طرح ہیں ) مال و دولت کی محبت اور وطن کی محبت، اپنے عزیزوں رشتہ داروں کی محبت اور عورت یا بیوی کی محبت ۔
The mixing of clay with water nourishes the body, But he that is drowned in sin dies an evil death.
پانی اور مٹی کا آمیزہ و مرکب جسم کی پرورش کرنے والا ہے ۔ وہ برائیوں اور بدکاریوں کا شکار بن جاتا ہے ۔
So long as thou hold’st the staff of "There is no God but He, Thou wilt break every spell of fear.
جب تک تیرے ہاتھ میں لا الہ (کلمہ توحید) کا عصا ہے تو خوف اور ڈر کے ہر طلسم کو توڑ کے رکھ دے گا ۔
One to whom God is as the soul in his body, His neck is not bowed before vanity.
جس کسی کے جسم میں حق جان کی طرح موجود ہے اس کی گردن کبھی باطل کے سامنے نہیں جھک سکتی ۔
Fear finds no way into his bosom, His heart is afraid of none but Allah.
اس کے سینے میں خوف کا گزر ہو ہی نہیں سکتا، اس کا دل خدا کے سوا کسی شے سے نہیں ڈرتا ۔
Whoso dwells in the Moslem Faith Is free from the bonds of wife and child.
جو شخص لا کی مملکت میں آباد ہو گیا وہ بال بچوں (دنیوی دھندوں وغیرہ )کی زنجیر سے بالکل آزاد ہو گیا ۔
He withdraws his gaze from all except God And lays the knife to the throat of his son
وہ جو غیر اللہ سے نظریں ہٹا لیتا ہے وہ اپنے بیٹے کے حلق پر چھرا رکھ دینے میں بھی پس و پیش نہیں کرتا ۔
Though single, he is like a host in onset: Life is cheaper in his eyes than wind
اگرچہ وہ ایک تنہا ہونے کے باوصف ایک بہت بڑے لشکر کی صورت ہے، اس کی نظروں میں اس کی جان ہوا سے بھی کہیں سستی ہے( جو شخص جان سے بے پرواہ ہے ان کی قوت کا انداہ کون کر سکتا ہے ۔ ) آخری شعر میں اسی پختہ محبت و ایمان کی ایک اور مثال سے وضاحت کی گئی ہے ۔ ایسا شخص یعنی مرد مومن چونکہ باطل قوتوں سے خوف زدہ نہیں ہوتا اس لیے وہ ان قوتوں سے ٹکر لے لیتا ہے ۔ اس صورت میں اسے اپنی جان کا ذرا بھر بھی احساس نہیں ہوتا، بلکہ غالب کے لفظوں میں اس کا احساس کچھ اس طرح کا ہوتا ہے ۔ جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی ۔ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا تنہا ہونے سے مراد باطل قوت کے مقابلے میں بہت کم جمیعت ہونے والا بھی ہے ۔ اس کے بہترین مثال حضرت امام حسین علیہ السلام کی ہے جن کے بارے میں کہا گیا ہے ۔ سرداد، نہ داد دست در دست یزید حقا کہ بناے لا الٰہ ہست حسین یعنی جان دے دی لیکن یزید کی باطل قوت کی بیعت نہیں کی، بلا شبہ حسین لا الٰہ کی بنیاد ہیں ۔
The profession of Faith is the shell, but prayer is the pearl: The Moslem's heart deems prayer a lesser pilgrimage.
لا الٰہ سیپی ہے تو نماز گوہر (موتی ) ہے ۔ مسلمان کے دل کے لیے نماز، حج اصغر کا درجہ رکھتی ہے ۔
In the Moslem's hand prayer is like a dagger Killing sin and frowardness and wrong.
(یہ نماز) مسلمان کے ہاتھ میں ایک خنجر کی مانند ہے ۔ یہ بُری اور بے حیائی کی باتوں ، خدائی احکام سے سر تابی اور برے کاموں کو ختم کر دینے والی ہے ۔
Fasting makes an assault upon hunger and thirst And breaches the citadel of sensuality
روزہ، بھوک اور پیاس پر شب خون مارتا ہے وہ (روزہ) صرف بدن کی پرورش کرنے والے خیبر کو فتح کرتا ہے ۔ یعنی تن پروری باقی نہیں رہتی ۔
The pilgrimage enlightens the minds of the Faithful: It teaches separation from one's home and destroys attachment to one's native land.
حج مومنوں کی فطرت کو منور یعنی ان کے ایمان میں اضافہ کرنے والا ہے ۔ حج گھر بار چھوڑنے کی تعلیم دیتا ہے اور وطن کی محبت دل سے نکال دیتا ہے ۔
It is an act of devotion in which all feel themselves to be one, It binds together the leaves of the book of religion
وہ (حج) ایک ایسی عبادت ہے جو (پوری ملت اسلامیہ) ایک لڑی میں پرونے والی اور ملت کی کتاب کی شیرازہ بندی کرنے والی ہے ۔
Almsgiving causes love of riches to pass away And makes equality familiar.
زکواۃ ، مال و دولت کی محبت کو مٹا دیتی ہے ۔ زکواۃ (ملت کے افراد کو) برابری سے بھی آگاہ کرتی ہے یعنی سب مسلمان برابر ہیں ۔
It fortifies the heart with righteousness, It increases wealth and diminishes fondness for wealth.
یہ (زکواۃ) حتیٰ تنفقو کے ارشاد ربانی سے دل کو مضبوط کرتی ہے ۔ دولت کو برکت عطا کرتی اور اس (دولت) میں محبت میں کمی کا باعث بنتی ہے ۔
All this is a means of strengthening thee: Thou art impregnable, if thy Islam be strong
یہ سب (ارکان اسلام) تیری پختگی و مضبوطی کا سامان ہیں ۔ اگر تیرا اسلام مضبوط ہے تو تو خود بھی مضبوط ہے ۔
Draw might from the litany “O Almighty One!” That thou mayst ride the camel of thy body
یا قوی کے ورد سے اپنے آپ کو صاحب قوت بنا لے تا کہ تو مٹی کے اونٹ پر سوار ہو جائے(نفس پر قابو پا لے) ۔ ان اشعار میں اسلام کے پانچ بنیادی ارکان کا ذکر کر کے ان کی اہمیت و افادیت بیان کی گئی ہے ۔ ان پر عمل کرنے سے اسلامی معاشرہ دنیا کا ایک عظیم معاشرہ بن سکتا ہے) ۔
’’مرحلہ سوم نیابت الھی‘‘
If thou canst rule thy camel, thou wilt rule the world And wear on thine head the crown of Solomon
اگر تو شتربان بن جائے (نفس کے اونٹ کو قابو میں لے آئے) تو دنیا پر حکم چلائے گا اور سلیمان کا تاج تیرے سر کی زینت بنے گا ۔
Thou wilt be the glory of the world whilst the world lasts, And thou wilt reign in the kingdom incorruptible.
جب تک یہ دنیا قائم ہے تو اس کو سجانے والا رہے گا اور اس ملک کا تاجدار بن جائے گا جس پر کبھی زوال نہ آئے گا ۔
Tis sweet to be God's vicegerent in the world And exercise sway over the elements.
دنیا میں اللہ کا نائب بننا اچھی بات ہے ۔ عناصر پر حکمرانی کرنا کتنا اچھا ہے ۔
God’s vicegerent is as the soul of the universe, His being is the shadow of the Greatest Name
خدا کا نائب، دنیا کی روح کی مانند ہے، اس کا وجود اسم اعظم کا سایہ ہوتا ہے ۔
He knows the mysteries of part and whole, He executes the command of Allah in the world
وہ اس کائنات کی ہر ہر شے کے تمام بھید جانتا ہے اور دنیا میں اللہ کی طرف سے مامور ہوتا ہے (اللہ کے حکم جاری کرنا اس کا اصل کام ہے) ۔
When he pitches his tent in the wide world, He rolls up this ancient carpet.
جب وہ کائنات (دنیا) کی وسعتوں میں خیمہ لگا لیتا ہے تو اس پر پرانی بساط کو الٹ کے رکھ دیتا ہے(درہم برہم کر دیتا ہے) ۔
His genius abounds with life and desires to manifest itself: He will bring another world into existence.
اس کی فطرت برکتوں اور اچھائیوں سے بھری ہوتی ہے اس کا اظہار وہ ایک نئی دنیا کے وجود میں لانے سے کرنا چاہتا ہے ۔
A hundred worlds like this world of parts and wholes Spring up, like roses, from the seed of his imagination
اس کائنات جیسے سینکڑوں عالم اس کے خیالات اور افکار کی کھیتی سے پھول کی طرح اگتے رہتے ہیں ۔
He makes every raw nature ripe, He puts the idols out of the sanctuary
وہ خام فطرت کو پختہ اور پائیدار بنا دیتا ہے، وہ حرم سے بتوں کو باہر نکال دیتا ہے ۔
Heart-strings give forth music at his touch, He wakes and sleeps for God alone
اس کے مضراب سے دل کے ساز میں سے نغمے پھوٹنے لگتے ہیں ۔ اس کا جاگنا اور اس کا سونا سب اللہ کے لیے ہوتا ہے ۔
He teaches age the melody of youth And endows everything with the radiance of youth
وہ بڑھاپے کو جوانی کی لے (جوانی کا سا عزم و ولولہ) سکھا دیتا ہے وہ ہر چیز کو شباب کے رنگ میں رنگ دیتا ہے ۔
To the human race he brings both a glad message and a warning, He comes both as a soldier and as a marshal and prince.
وہ بنی نوع انسان کے لیے خوش خبری دینے والا بھی ہے اور اسے برائی سے ڈرانے والا بھی وہ سپاہی بھی ہوتا ہے وہ فوج کا سپہ سالار بھی ہے اور سردار بھی ۔
He is the final cause of "God taught Adam the names of all things He is the inmost sense of "Glory to Him that transported His servant by night."
وہ علم الاسماء کا مقصود و مدعا ہوتا ہے وہ (نائب خدا) سبحان الذی اسرا کا بھید (راز) ہوتا ہے ۔
His white hand is strengthened by the staff His knowledge is twinned with the power of a perfect man.
عصا سے اس کا سفید ہاتھ مضبوط ہے، اس کا مکمل اختیار قدرت اسکے علم کے ساتھ ملا ہوا ہے(اس کا علم اور قدرت کامل دونوں جڑواں ہوتے ہیں ) ۔
When that bold cavalier seizes the reins, The steed of Time gallops faster
جب وہ شہسوار اپنے ہاتھوں میں زمانے کے گھوڑے کی باگ تھام لیتا ہے تو اس (گھوڑے) کی رفتار اور بھی تیز ہو جاتی ہے ۔
His awful mien makes the Red Sea dry, He leads Israel out of Egypt.
اس کا رعب و دبدبہ دریائے نیل کو خشک کر دیتا ہے، وہ اسرائیل کو لے کر مصر سے باہر نکل جاتا ہے (تاکہ فرعون کی غلامی سے نجات پائیں ) ۔
At his cry, "Arise," the dead spirits Rise in their bodily tomb, like pines in the field.
اس کے قم (اٹھ، اللہ کے حکم سے) کہنے سے مری ہوئی جانیں بدن کی قبر میں یوں اٹھ کھڑی ہوتی ہیں جس طرح صنوبر کا درخت باغ میں اگتا ہے ۔
His person is an atonement for all the world, By his grandeur the world is saved
اس کی شخصیت (اس کا وجود ) کائنات کے وجود کی دلیل یا تفسیر ہے ۔ اس کے جلال و عظمت پر دنیا کی نجات موقوف ہے ۔
His protecting shadow makes the mote familiar with the sun, His rich substance makes precious all that exists
اس کے سائے کی حفاظت سے ذرہ بھی خورشید آشنا (سورج سے شناسائی کرنے والا) بن جاتا ہے اس کے سرمایہ زندگی سے کائنات کی قدر وقیمت (علوم و روحانیت)بڑھ جاتی ہے ۔
He bestows life by miraculous works, He founds a new system to work by.
وہ اپنے زور عمل کے اعجاز سے ہر شے کو زندگی عطا کرتا ہے وہ عمل کے انداز کو نئے سرے سے زندہ کر دیتا ہے (عمل کے طور طریقے سراسر نئے ہو جاتے ہیں ) ۔
Splendid visions rise from the print of his foot, Many a Moses is entranced by his Sinai
اس کے پاؤں کے نقش سے کئی جلوے پھوٹتے ہیں ، سینکڑوں کلیم اس کے سینا پہنچنے کے لیے آوارہ پھرتے ہیں (بیتاب نظر آتے ہیں ) ۔
He gives a new explanation of Life, A new interpretation of this dream.
وہ زندگی کی نئی تفسیر کرتا ہے اور اس خواب کو نئی تعبیر دیتا ہے ۔
His hidden being is Life's mystery, The unheard music of Life's harp.
اس کی پوشیدہ شخصیت زندگی کا راز ہوتی ہے وہ زندگی کے ساز کا ایسا نغمہ ہے جو پہلے کبھی سنا نہ گیا ہو ۔
Nature travails in blood for generations To compose the harmony of his personality.
نئے نئے خیالات و مضامین باندھنے والی فطرت کی طبیعت خون ہو جاتی ہے کاوش کرتے کرتے گھل گھل کر لہو بن جاتی ہے تب کہیں اس کی ذات کے متعلق دو شعر موزوں ہوتے ہیں ۔
When our handful of earth has reached the zenith, That champion will come forth from this dust.
ہماری خاک کی مٹھی آسمان پر جا پہنچی (اب ) اس غبار سے وہ شہسوار (خدا کا خلیفہ) ظاہر ہو گا ۔
There sleeps amidst the ashes of To-day The flame of a world-consuming morrow.
کائنات کو جلا دینے والا ہمارے ہمارے آنے والا کل کا شعلہ ہمارے آج کی راکھ میں سویا پڑا ہے ( جو کل چمکے گا تو دنیا کے لیے روشنی پہنچائے گا) ۔
Our bud enfolds a garden of roses, Our eyes are bright with to-morrow's dawn.
ہمارا غنچہ اپنے دامن میں گلستاں سمیٹے ہوئے ہے ۔ ہماری آنکھ آنے والی صبح کے نور سے روشن ہے ۔
Appear, O rider of Destiny! Appear, O light of the dark realm of Change
اے زمانے کے گھوڑے پر سوار، آ جا، اے امکان (اس کائنات) کی آنکھوں کا نور ہے ، روشنی ہے ، آ جا (نمودار ہو جا) ۔
Illumine the scene of existence, Dwell in the blackness of our eyes
تو ہنگامہ ایجاد (موجودات عالم) میں رونق پیدا کر دے ۔ آنکھوں کی پتلیوں میں آباد ہو جا ۔
Silence the noise of the nations, Imparadise our ears with thy music
دنیا کی قوموں نے جو ہنگامہ برپا کر رکھا ہے اسے ختم (خاموش) کر دے ۔ اپنے نغمے کو (انسانوں ) کی سماعت کے لیے بہشت کی سی تازگی والا بنا دے ۔
Arise and tune the harp of brotherhood, Give us back the cup of the wine of love
اٹھ اور بھائی چارے کا ساز چھیڑ، محبت کی شراب کا جام پھر سے دے(تقسیم کر دے) ۔
Bring once more days of peace to the world, Give a message of peace to them that seek battle!
ایک مرتبہ پھر دنیا میں صلح اور امن کا دور لے آ، جنگ و فساد پر آمادہ لوگوں کو صلح کا پیغام دے ۔
Mankind are the cornfield and thou the harvest, Thou art the goal of Life’s caravan
بنی نوع انسان کھیت ہے اور تو اس کا حاصل ہے، تو زندگی کے قافلے کی منزل مقصود ہے ۔
The leaves are scattered by Autumn’s fury: Oh, do thou pass over our gardens as the Spring
درخت کے پتے، خزاں کے ستم سے جھڑ گئے ہیں تو پھر موسم بہار کی صورت بن کر ہمارے باغ میں سے گزر ۔
Receive from our downcast brows The homage of little children and of young men and old
تو ہماری ندامت سے ، شرمسار پیشانیوں سے (ہمارے) بچوں ، جوانوں اور بوڑھوں کے سجدے لے (نذر عقیدت پیش کرنے کے لیے بے قرار ہیں تو وہ قبول کر) ۔
When thou art there, we will lift up our heads, Content to suffer the burning fire of this world.
تیرے وجود سے ہمیں سربلندی میسر ہے، سو اس دنیا کے سوز سے ہم نباہ کرتے چلے جا رہے ہیں ( ہم اس انتظار میں ہیں کہ تو نمودار ہو، آج ہم دنیا میں گھرے ہوئے ہیں ۔ )
Sources and translator credits
- Original text transcription: Asrar-e-Khudi — و مرحلہ سوم را نیابت الھی نامیدہ اند مرحلۂ اول را اطاعت و مرحلۂ دوم را ضبط نفس، در بیان اینکہ تربیت خودی را سہ مراحل است — Digital transcription file at commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the source dataset does not identify the underlying print edition.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- Iqbal Demystified source list: Asrar-e-Khudi — Pinned digital dataset commit 39d44fc0c2b8ca25769c4b36e6eac4d90cb42b35; the underlying print edition is not identified by the dataset.Community dataset list; not reconciled against a print edition.Source
- Zinderood digital original — srx0bmna.json — Cached digital poem page (srx0bmna.json); retrieved 2026-10-05.Verified against this pinned digital transcription file; not checked against a print edition.Source
- The Secrets of the Self (Asrár-i Khudí) — 1920 English edition; the Project Gutenberg transcription states it follows the second edition.Translation by Reynold A. Nicholson; Nicholson’s published English translation of Asrár-i Khudí; matched passages are credited to their numbered book sections and electronic-text line ranges.Source
- asrar-e-khudi: published English translation by نکلسن — Published digital poem page (srx0bmna.json); retrieved 2026-10-05.Translation by نکلسن; Published English translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- asrar-e-khudi: published Urdu translation by حمیداللہ ہاشمی — Published digital poem page (srx0bmna.json); retrieved 2026-10-05.Translation by حمیداللہ ہاشمی; Published Urdu translation credited on the Zinderood digital poem page; the exact source unit is recorded with each imported passage.Source
- Zinderood srx0bmna.json, source couplet undefined; Minimal correction of transposed sineh. Reviewed Urdu pair spans source27verse2 and28verse1. Rebuild Zinderood and attach only correct aligned English/Urdu; earlier scope fix already accepts the surrounding21 pairs. — Digital-source correction to the pinned transcription; the source page and its cached HTML are preserved and hashed in the source record.Edition evidence
